مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکادیمی اور سان پاڑہ کالج آف کامرس اینڈ ٹیکنالوجی نوی ممبئی کے زیر اہتمام بروز سنیچر مورخہ 31 مارچ 2012ء کو شام کے ٹھیک 6 بجے اورینٹل کالج سانپاڑہ کے ٹیکنالوجی ہال میں پہلی بار قومی یک جہتی کے فروغ کے لیے سیمینار اور سہ لسانی اردو ، ہندی اور مراٹھی میں سیمینار اور مشاعرہ و کوی سمیلن کا انعقاد کیا گیا ۔جس کی صدارت کمیشنر کوکن ڈویّثرن (روینیو) ایس ایس سندھونے کیں ۔شمع فروزی کی رسم نوی ممبئی بلڈرس ایسوسی ا یشن کے صدر اتل اگروال نے انجام دی۔جبکہ پروگرام کا افتتاح نوی ممبئی کے مشہور ومعروف سماجی رکن اقبال کوارے صاحب نے کیا ۔مہمانان کی حیثیت سے شیخ عبدالرحیم کھتری ، بی ایم سراج ڈاکٹر سری واستو اور شہر و اطراف کی علمی و ادبی شخصیات موجود تھیں۔یہ پروگرام دو سیشن پر مشتمل تھا ۔ پہلے سیشن میں مہمانوں کے استقبال کے بعداے ،کے ،شیخ نے مراٹھی میں غزل پر اپنا تفصیلی مقالہ پیش کیا۔کلیان کی مشہور سماجی شخصیت وجے آر پنڈت نےہندی غزل پر اپنے خیالات کا اظہار خیال کیا ۔پھر ممبر سیکریٹری مہاراشٹر اردو ساہتیہ اکادمی ڈاکٹر قاسم امام صاحب نے اردو نظم و غزل پر بہت خوبصورت انداز میں تفصیلی معلومات سے نوازا۔ کلیان شہر کے کارپوریٹر اوم پرکاش نے کہا کہ ڈاکٹر قاسم سر نےاردو ہندی اور مراٹھی کی غزلوسجایا ہے ںگتہ کاایک وسرے سیشن میں مشاعرہ اور کوی سمیلن منعقد کیا گیا ۔ جس میں کلیان کے مشہور شاعر افسر دکنی،پونا سے تشریف لاۓے مشہور شخصیت اسلم چشتی صاحب ، جاوید ندیم ، امید اعظمی، کویتا راجپوت ، ظہیر شیخ،اوم پرکاش ننو۔اور مہمانان نے بھی حیسے اتل اگروال،ڈاکٹر قاسم امام، ایڈیشنل کلکٹر دلیپ پندھارپتتے،نےاپنے کلام سے مجمع کو محظوظ کیا۔اس مشاعرہ کی نظامت نجر بجنوری نے خوبصورت انداز میں کیں۔
Monday, April 02, 2012
Friday, March 23, 2012
شعبۂ اردو میں’’ جغرافیہ ابن آدم ‘‘کی رسم اجراء
میرٹھ20؍ مارچ2012ء
طالب زیدی کے انشائیوں کا مجموعہ ’جغرافیہ ابن آدم‘‘ ہمیں ان کی تخلیقی بصیرت اور اظہار کی ایک نئی سطح سے متعارف کراتا ہے۔یہ ایک طرح کی سرا پا نگاری ہے ۔طالب آحب نے ۱۴ عنوانات کے تحت سر سے پا ؤں تک اولاد آدم کا ایک رنگا رنگ مرقع ترتیب دیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے خاص بات یہ ہے کہ سنجیدہ معاملات کی فراوانی کے با وجود اس مرقع کے کسی ورق کو دیکھتے ہوئے اُکتا ہٹ کا احساس نہیں ہو تا۔ ان کے تخیل کی جستجو ا، ان کی لطیف مزاح،بات سے بات نکالنے کا ان کا خا ص انداز پڑھنے وا لوں کے لیے دل بستگی کا سامان پیدا کرتا ہے۔ان خیالات کا اظہار معروف ناقد پرو فیسر شمیم حنفی شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقدہ معروف شاعرو ادیب طالب زیدی کے انشا ئیوں کے مجمو عے ’’جغرا فیہ ابن آ دم ‘‘ کی رسم اجراء کی تقریب کے صدارتی خطبے میں کررہے تھے۔یہ تقریب بزمِ سخنوراں ،میرٹھ اور شعبۂ اردو چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے باہمی اشتراک سے آ راستہ کی گئی تھی۔جس میں شیخ الجامعہ محترم وکرم چندر گویل ،جناب اتل کمار سنگھ (فائنانس آفیسر)،ڈاکٹر کمال احمد صدیقی،معروف شاعر اسلم بدر،ڈاکٹر معراج الدین احمد (سا بق وزیر،حکومت اتر پردیش)اورمنظور عثمانی مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہو ئے۔ڈاکٹر خالد حسین خاں(صدر شعبۂ اردو، میرٹھ کالج، میرٹھ) ،ڈاکٹر حسین ماجد اور معروف افسا نہ نگار مسعود اختر نے’جغرافیہ ابن آدم‘ کا تجزیا تی مطا لعہ پیش کیا۔آفاق احمد خاں نے شکریے کی رسم اداکی اورنظامت کے فرائض صدر شعبۂ اردوڈاکٹر اسلم جمشید پو ری اور انجام دیے ۔دورانِ نظامت ڈاکٹر موصوف نے طالب زیدی کی ادبی سرمائے کا مکمل تعارف پیش کرتے ہوئے بتایا کہ طالب زیدی کے مختصر افسا نچوں کا مجمو عہ’’ پہلا پتھر‘‘ 1969ء میں زیور طباعت سے آراستہ ہوا تھا۔جبکہ نظموں کا مجمو عہ’’سلسلہ‘‘2000 میں منصہ شہود پر آ یا تھا۔انشائیوں کے زیر بحث مجمو عے کے علاوہ غزلوں کا مجمو عہ’’ دشت جاں‘‘ اور مزاحیہ مضامین کا مجمو عہ’’لوٹم لوٹا‘‘ بھی عنقریب قارئین کے سامنے آ نے وا لا ہے۔
تقریب کا آ غاز سعید احمد سہارنپوری نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔شیخ الجامعہ نے مہما نان کے ساتھ مل کر شمع رو شن کی اور مہمانوں کو پھولوں کا نذرا نہ پیش کیا گیا۔
اس مو قع پر شیخ الجامعہ نے طالبؔ زیدی کو مبارک باد دیتے ہو ئے کہا کہ ادب سماج کا آ ئینہ ہو تا ہے۔ادیبوں کو اپنی تخلیقات کے ذریعے معا شرے میں پھیلی برا ئیوں کو ہر ممکن دور کر نے کی کوشش کر نی چا ہیے۔انہوں نے مزید کہا اردو تہذیب اور نفا ست کی علمبردار ہے ،اس کا فروغ معا شرے میں تہذیبی روا یات کے استحکام اور نفاست و شائستگی کا ضامن ہوگا۔ ڈاکٹر کمال احمد صدیقی نے کہاکہ طالب زیدی ایک خوش فکر اور سنجیدہ شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے انشا ئیوں کا یہ مجمو عہ یہ ثا بت کرتا ہے کہ وہ نثری بالخصوص مزاح جیسے مشکل میدان میں بھی اپنی انفرادی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے مزاح کی خاص بات یہ ہے کہ وہ کم سے کم الفاظ کے استعمال کا ہنر جانتے ہیں۔جمشید پور سے تشریف لائے اسلم بدر نے کہا کہ مزاح میں زبان کو کلیدی حیثیت حاصل ہے، طالب صاحب زبان کو مزاحیہ طریقے سے برتنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ وہ واقعات کے بیان میں جزیات نگاری اور موا قع کی ڈرامائیت سے بخوبی کام لیتے ہیں۔انہیں صورت حال کو اپنے طور پر برتنے کا ہنر آ تا ہے۔
سا بق وزیر ڈاکٹر معراج الدین احمد نے کہا کہ طالب زیدی ایک معروف علمی و ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔وہ شعری اور نثری اصناف پر یکساں قدرت رکھتے ہیں۔مجھے امید ہے کہ جس طرح ان کے پہلے افسا نوی اور شعری مجمو عے کو مقبولیت حاصل ہوئی ہے انشائیوں کے اس مجمو عے کو بھی حاصل ہوگی۔
منظور عثمانی نے کہا کہ طالب زیدی کا مشاہدہ عمیق اور مطالعہ وسیع ہے’’جغرافیہ ابن آدم‘‘کا ہر انشائیہ اس کا گواہ ہے۔ انہوں نے انسانی اعضاء کے بیان میں انتہائی احتیاط سے کام لے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ مزاح نگار ،محاکات نگاری اور پیکر ترا شی کے وسائل سے بعض’’ دلچسپ چیزوں‘‘ کی بھی ایسی تصویریں پیش کرسکتا ہے جو ابتذال سے دور ہوں کا ڈاکٹر خالد حسین خاں نے کہا کہ طالب زیدی شائستہ اور نفیس ادب تخلیق کرتے ہیں۔ان کے مزاح میں وہ تندی اور بے باکی نہیں جو طبیعت کو مکدر کرتی ہے۔بلکہ وہ رچا ؤ اور لطافت ہے جو قاری کو کبھی زیر لب اور کبھی بالائے لب مسکرا نے پر مجبور کرتی ہے۔معروف ادیب مسعود اختر نے کہا کہ ادیب کی کامیابی کا ایک ثبوت یہ بھی ہو تا ہے کہ اس کی تخلیقات نصاب میں شامل کی جائیں اس اعتبار سے طالب زیدی انتہائی خوش قسمت ہیں کہ ان کے اس مجمو عے کی دو کہانیاں ،کان اور ناک مہا راشٹر کی ایک تعلیمی انجمن نے اپنے نصاب میں شامل کر لی ہیں۔حسین ماجد نے کہا طالب زیدی کی تخلیقات کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ زندگی کو سماج سے جوڑ کر دیکھنے کے عادی ہیں۔یہی سبب ہے جغرافیہ ابن آ دم کے تمام انشائیوں میں ایک قسم کی تخلیقی فضا پائی جاتی ہے۔
اس مو قع پر پروفیسر وائی وملا، ڈاکٹر الکا وششٹھ، ڈاکٹر اوشا کرن ،ڈاکٹر یونس غازی ،انجینئر رفعت جمالی ڈاکٹر شادب علیم،ڈاکٹر سراج الدین، ڈاکٹر آصف علی، نواب افضال، قائم رضا، ضیاء عباس، سلیم سیفی، حاجی مشتاق سیفی، ڈاکٹر ایشور چند گمبھیر،سید اطہر الدین، ایاز ایڈ وکیٹ،ڈاکٹر جمیل احمد،نایاب زہریٰ زیدی، ریاض ہادی،ڈاکٹر فرزانہ رحمن،جمیل سیانوی، انیس میرٹھی، نذیر مرٹھی، سمنیش سمن، ڈاکٹر ادنیٰ عشق آ بادی،مہرو زیدی، جوہی زیدی،محمد عابدسمیت کثیر تعداد میں دانشوران شہر اور طلبا و طالبات نے شرکت کی ۔
شیموگا کے مشاورتی اجلاس سے حافظ کرناٹکی کا خطاب



’’آئیے !ہم تمام لوگ آپسی اتحاد و اتفاق سے اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے ایک خوشگوار ماحول بنانے میں جٹ جائیں ‘‘: (حافظ کرناٹکی)
کل بروز جمعرات 22مارچ 2012ء دوپہر تین بجے گورنمنٹ گیسٹ ہاؤس شیموگا میں ایک مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلع شیموگا کے ادبا و شعرا اور صحافیوں کے علاوہ دوسرے محبان اردو نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس مشاورتی اجلاس کے شرکا کا مشاعرے کے معروف ناظم شفیق عابدی نے استقبال کیا۔
حافظ کرناٹکی چیرمین کرناٹک اردو اکیڈمی نے کہا شیموگا ضلع اپنی ادبی و تعلیمی اور تہذیبی قدروں کے لیے کافی مقبول ہے۔ یہاں یہ روایت رہی ہے کہ لوگوں نے ادبی اور علمی کاموں میں ایک دوسرے کاخلوص سے تعاون کیا ہے۔ یہاں کے ادبا و شعرا ہوں کہ صحافی اور اساتذہ یا دوسرے محبان اردو حضرات انہوں نے ہمیشہ مل جل کر اردو کے فروغ کے لیے کام کیاہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئیے اس روایت کی تجدید کرتے ہوئے ہم تمام لوگ آپسی اتحاد و اتفاق سے اردو زبان و ادب کی ترقی کے لیے ایک خوشگوار ماحول بنانے میں جٹ جائیں۔ اور زبان و ادب سے متعلق ہونے والے ہر طرح کے پروگرام مثلاً سمینار، مشاعرہ، جشن اردو، اور غزل گائیکی وغیرہ پروگراموں کو اس انہماک سے انجام دیں کہ لوگوں کے لیے مثال بن جائے۔ نوید احمد بنگلور جو اقرا اردو تحفظ سوسائٹی کے تحت کل ہند مشاعرہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور جن کا مشاعرہ ملتوی ہوگیا تھا۔ ان کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا علاقہ ہمیشہ سے علم دوست اور ادب دوست رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہمیشہ شعرا و ادبا اور صحافی و دانشور حضرات کی تعداد قابل لحاظ رہی ہے اس لیے یہاں کا ہر ادبی پروگرام نہایت کا میاب رہا ہے۔ آپسی صلاح و مشورہ کے بعد اتفاق رائے سے اقرا اردو تحفظ سوسائٹی کے کل ہند مشاعرے کی تاریخ متعین کردی گئی اور اعلان کردیا گیا کہ انشاء اللہ یہ مشاعرہ 19؍اپریل کو شیموگا میں ہوگا۔
حافظ کرناٹکی نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں بھی اسی علاقے کا فرد ہوں اور بفضلہ تعالی آپ حضرات کے خلوص اور تعاون سے کرناٹک اردو اکیڈمی کی ذمہ داریاں سنبھال رہا ہوں۔ میری دلی خواہش ہے کہ ہمارے شعرا و ادبا اور دیگر قلمکار حضرات دلجمعی کے ساتھ لکھیں اور اپنی تخلیقی صلاحیت کا اظہار کریں اسی غرض سے اکیڈمی نے تین نئے رسالوں کا بھی اجرا کیا ہے۔ اب آپ کے پاس ذرائع کی کمی نہیں ہے۔ اس مشاورتی اجلاس کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ اس اجلاس میں حافظ کرناٹکی چیرمین کرناٹک اردو اکیڈمی نے کام کرنے کے کچھ ایسے طریقوں کا تعارف کرایا جس نے تمام لوگوں کا دل جیت لیا۔ گویا یہی محبان اردو کی وہ تمنا تھی جس کا انتظار تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ شعرا و ادبا اپنی ساری زندگی زبان و ادب کے نام وقف کردیتے ہیں۔ مگر ان کے کاموں اور خدمات کو سراہنے کی کوشش نہیں کی جاتی ہے۔ اس لیے ہم نے طے کیا ہے کہ آئندہ ریاست کے تمام اضلاع میں جشن اردو کا اہتمام کریں گے۔ اس موقع سے متعلقہ ضلع کے سب سے اہم شاعر یا ادیب کا جشن منائیں گے۔ ان کی حیات و خدمات سے لوگوں کو متعارف کرانے کی کوشش کریں گے۔ اور دوسرے تمام شعرا کا بھی اعزاز کریں گے۔ انہوں نے اس کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ
جشن اردو کے تحت ریاست کے ہر ضلع میں پہلے ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔ پھر مشاورتی اجلاس میں لوگوں کے مشورے سے کسی ایک اہم شاعر یا ادیب کا انتخاب کیا جائے گا۔ اور ان کا جشن مناتے ہوئے ان کی خدمات پر مقالے پڑھائے جائیں گے۔ اور کوشش کی جائے گی کہ مقالے اس نوعیت کے ہوں کہ متعلقہ شاعر و ادیب کی خدمات کے ساتھ ساتھ اس ضلع کی ادبی تاریخ بھی روشن ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ دن میں یہ سب ہوگا اور شام میں اس ضلع کے منتخب شعرا کی غزلوں میں سے ایک ایک غزل کا انتخاب کر کے موسیقی کی بزم سجائی جائے گی، جہاں معروف اور عمدہ موسیقار اور گلوکار ان کی غزلیں گا کر سنائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جشن میں پڑھے گئے مقالے کو کتابی صورت میں شائع کیا جائے گا۔ اور جن شعرا کا ریاست بھر کے اضلاع میں جشن منایا جائے گا ان تمام کا مشترکہ طور پر بنگلور میں ایک جشن منایا جائے گا۔ اور تمام اضلاع کی ادبی تاریخ سے متعلق جو مقالے اور مضامین لکھے جائیں گے، انہیں اخیر میں انتخاب و ترتیب دے کر اجتماعی شکل میں شائع کردیا جائے گا۔ اس طرح کرناٹک کی ادبی تاریخ کا وہ کام انجام پاسکے گا جو آج تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ دوسرے دن کل ہند مشاعرے کا انعقاد کیا جائے گا جس سے اردو بیداری اور اردو محبت کا خوشگوار ماحول بنے گا۔
انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس اہم کام کاآغاز شیموگا سے ہوگا۔ شیموگا کے لیے اتفاق رائے سے معروف شاعر ’ساجد حمید‘ کے نام کا انتخاب ہوا۔ اور طے ہوگیا کہ 6؍مئی کو کوویمپو رنگ مندر میں جشن اردو کے ساتھ ساتھ ’’جشن ساجد حمید‘‘ منایا جائے گا۔اور دوسرے شعرا کا بھی اعزاز کیا جائے گا۔ انہوں نے ایک بار پھر وضاحت کی کہ دن میں شعرا کا اعزاز کیاجائے گا، اور ’’جشن ساجد حمید‘‘ کے تحت ان کی حیات و خدمات سے متعلق مقالے پڑھے جائیں گے۔ شام میں غزل گائیکی کا پروگرام ہوگا جس میں شیموگا کے اہم شعرا کی منتخب غزلیں گائی جائیں گی۔ انہوں نے اس بات کی بھی صراحت کی کہ اس پروگرام میں علاقہ کے سیاسی و ملی قائدین ادبا و شعرا ، صحافی و دانشور اور محبان اردو کے علاوہ اعلی سرکاری افسران بھی شرکت کریں گے۔ جب کہ ضلع کے تمام اردو ادارے اور ادبی انجمنیں بھی اپنی شرکت سے اس کی رونق میں اضافہ کریں گی۔
ایک اہم بات یہ بھی ہوئی کہ لگے ہاتھوں حافظ کرناٹکی صاحب کی موجودگی میں ضلع شیموگا کے لیے کمیٹی بھی بن گئی ، ضلع کے ادبی منظرنامہ پر روشنی ڈالنے اور اس کی وضاحت کے لیے جو کمیٹی بنی اس کے ممبران اور ذمہ داروں کے نام ہیں۔ پروفیسر سید شاہ مدار عقیلؔ ، ساجد حمید، سید جلال محمودی، شعبہ نشرواشاعت کمیٹی کے اراکین میں جناب م۔پ راہی، عابداللہ اطہر صاحب، مدثر صاحب اور رزاق صاحب کو شامل کیا گیا۔ جب کہ استقبالیہ کمیٹی میں مولانا صفی اللہ قاسمی، سمیع اللہ صاحب، ظہیر احمد فنا، اور جناب فاروق شمس صاحب کو شامل کیا گیا۔
حافظ کرناٹکی صاحب نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارا معاشرہ ادیب و شاعر اور صحافی و دانشور حضرات کی قدروں کو سمجھنے سے عاری ہوتا جارہا ہے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ انہیں حضرات کی محنت سے کسی بھی سماج اور معاشرے میں علم و آگہی کا سفر جاری رہتا ہے۔ اس لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم تمام لوگ مل جل کر ایک علم دوست اور ادب دوست معاشرے کی تشکیل میں آگے بڑھ کر حصہ لیں۔
چوں کہ اس اجلاس میں کئی اہم شعرا و ادبا بھی شامل تھے۔ اس لیے وہ حافظ کرناٹکی کے خلوص اور اکیڈمی کے کام کرنے کے طریقے سے بے حد متاثر ہوئے۔ اور اپنے جذباتی لہجے میں کہا کہ آج ہمیں احساس ہو رہا ہے کہ ہم نے قلم کاغذ اور ادب سے رشتہ قائم کر کے وقت ضائع نہیں کیا ہے۔ آپ نے اوراردو اکیڈمی نے ہمیں اور ہم جیسے تمام اہل قلم حضرات کے وجود میں اضافہ کیا ہے۔ آپ نے ادب کی قدر افزائی کر کے ادیبوں کی برادری میں نئی جان ڈال دی ہے۔
اس اجلاس میں یوں تو مختلف شعبہ سے تعلق رکھنے والے بہت سارے محبان اردو نے شرکت کی مگر شرکا میں پروفیسر سید شاہ مدار عقیل ،ساجد حمید، سید جلال محمودی، م۔پ راہی، عابداللہ اطہر صاحب، مدثر صاحب، رزاق صاحب مولانا صفی اللہ صاحب قاسمی، سمیع اللہ صاحب، ظہیر احمد فنا ، فاروق شمس صاحب وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
Tuesday, March 20, 2012
اسلم جمشید پوری
گزشتہ دنوں ڈاکٹر انجم جمالی میموریئل فاؤنڈیشن کے ایوارڈز کی تقریب میں ہمیں ڈاکٹر اسلم جمشید پوری سر سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔ ڈاکٹر اسلم جمشید پوری صاحب اس پروگرام کی صدارت کر رہے تھے ۔ان کی شخصیت اتنی پر اثر ہے کہ پہلی ہی ملاقات میں کو ئی بھی ان سے متاثر ہوۓ ے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ یہ مثال برابر ہے کہ زیادہ پھلوں سے لدا ہوا درخت جھک جاتا ہے ۔ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری سر چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کے شعبہء اردو صدر ( ایچ ، او، ڈی ) ہیں ۔ اور آپ کی مثال پھلوں سے لدے ہوےۓ درخت پر اترتی ہے ۔وہ بہت ملنسار پروقار، خوش گفتار اورڈائنمیک شخصیت کے مالک ہیں ۔انھوں نے ہمیں ۔ یونیورسٹی آنے کی دعوت دی ۔ پروگرام کے دوسرے دن ہم ، رفعت انجینیئر صاحب ،مسسز کامنی جمالی، اور ڈاکٹر روپیش سریونیورسٹی پہنچے ۔میرٹھ جیسے تاریخی او علمی شہر میں چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں پہنچ کر بے حد خوشی ہوئی ۔ شعبہء ارد و میں داخل ہوتے ہی سربراہ کی خوش سلیقی،اور انتظامی صلاحیت کا اندازہ ہوا کہ کس طرح تعلیمی معیار کو پروان چڑھایا یہاں کی حفیظ میرٹھی کے نام سے وابستہ لائبریری دیکھ کر خوشی ہوئي برـآمدے میں پیڑوں کو ہمارے رہنماؤں کے ناموں سے نوازا گیا ۔اس طرح کی عقیدت پہلی بار یہاں دیکھ کر ڈاکٹر اسلم جمشید پوری سر کی کی کوششوں ،اردو سے محبت اور غیر معمولی لگاؤ اور اپنے پیشے سے مخلصانہ وابستگی کا احساس ہوا ۔ اسلم سر نے اپنے خوبصورت انداز میں مسکراتے ہوے کہا کہ آپ نے بہت انتظار کروایا ۔ اسلم سر ادبی ، علمی اور تحقیقی مجلّہ ''ہماری آ واز '' کے مدیر اعلی ہے ۔اور کئ۔ کتابوں کے مصنّف بھی ہیں ۔ انھوں نے اپنے اسٹاف اور ایم اے اور پی ، ایچ ڈی کے طلباءسے ہماری ملاقات کروائيں ۔ہمیں ان سے گفتگو کا موقع دیاجدید تکنیک کے ذریعےـ بغیر کسی سوفٹ ویئر کے یونی کوڈ کے ذریعے اردو نستعلیق میں لکھنا ۔ یہ لنترانی کی (تکنیکی اچیومینٹ )۔اردو کے شعبہء میں ہوئی ہے اسے ظاہر کرنے کا موقع دیا ۔ ڈاکٹر سری واستو نے اسٹوڈنٹس سے گفتگو کی ۔یہاں آکر ڈاکٹر اسلم جمشید پوری اور ان کے اسٹاف سے مل کر دلی خوشی محسوس ہوئی ۔ہم لنترانی ٹیم کے طرف سے دعاگو ہیں یہ شعبہ ترقی کی راہ گامزن رہے ۔انشا اللہ اب اسلم جمشید پوری صاحب کی تخلیقات لنترانی پر شائع ہوکرہمیں بھی اردوکی خدمات کا موقع دیں گی ۔
Thursday, March 15, 2012
ڈاکٹر انجم جمالی ایوارڈز
ڈاکٹر انجم جمالی میمورئل فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام میرٹھ ہندوستان میں بروز اتوار مورخہ 11مارچ 2012ء کو شام 5 بجے چیمبرس آف کامرس میں روڈ ویز کے سامنے ڈاکٹر انجم جمالی ایوارڈز کی تقریب بہت شاہانہ طریقے سے منائ گئی ۔ اس تقریب کی صدارت چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ، میرٹھ کے شعبہء اردو کے ایچ ، او ، ڈی ڈاکٹر اسلم جمشید پوری صاحب نے کی ۔ ڈاکٹر انجم جمالی ایک مشہور و معروف ڈاکٹر ایک اچھے ادیب و شاعر اور کئی اخبارات و رسائل کے صحافی ومدیر تھے ۔ ترقی پسند شاعر ، افسانہ نگار،ادیب و صحافی تھے ۔اس وقت سابق وزیر ڈاکٹرمعرا ج الدین نے کہا کہ ڈاکٹر انجم جمالی کی شاعری اور ان کے ادب کو ہمیشہ یاد رکھا جاۓ ے گا۔ ان کی یاد میں نو چندی میں آل انڈیا مشاعرہ ہونا چاہیے۔ انجینیئر رفعت انجم جمالی ڈاکٹر انجم جمالی فاؤنڈیشن میموریئل کے رو ح رواں سیکریٹری اور اس تقریب کے کنوینر تھے۔ اس فاؤنڈیشن کی معلومات دیں اور اپنے والد کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ اس تقریب میں ڈاکٹر انجم جمالی میموريئل فاؤنڈیشن کی جانب سے ملک کی پانچ نامور شخصیات جیسے شاعری کے شعبہ میں ڈاکٹر فاروق بخشی ، طب میں ڈاکٹر ممتیش گپتا ، اردو روز نامہ صحارا کے صحافی اسد رضا ، روز نامہ دینیک جاگرن کے ایڈیٹر منوج جھا اور لنترانی میڈیا ہاؤس کی ڈائریکٹر منور سلطانہ کے کام کا اعتراف کرتے ہوے سند ، شال میمینٹو اور پھولوں ، سے نوازا گیا۔ اس تقریب کی نظامت تابش فرید نے کی ۔اس موقع پر انجم جمالی صاحب کی غزلیں پڑھیں گئي۔ اس تقریب میں پروفیسر عبید صدیقی صاحب، نایاب شہر قاضی، زین ال راشدین ظہیرالدین تالیب۔زیدی، عبدالاحد،محمد شان،ڈاکٹر رچنا شرما ، اجے شرما ،دانش نازش وکامنی جمالی اور شہر اور ممبئی دہلی راجستھان اور مختلف ریاستوں کے مہمان موجود تھے۔ یہ تقریب بہت کامیاب رہیں۔