Wednesday, July 06, 2011
Tuesday, July 05, 2011
کلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہوجائے
کلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہوجائے حریم قلب میں رقصاں جمال یار ہوجائے اگر پیدا کمالِ حسرت دیدار ہوجائے غم دوراں غم جاناں ہی سے آباد ہے دنیا نہ ہو یہ سازوساماں زندگی دشوار ہوجائے بہار نوکے جھرمٹ میں نسیم صبح آتی ہے یہ کہہ دو سبزۂ پامال سے بیدار ہوجائے ہمیں نے اپنے خوں سے گلستاں کو رنگ وبو بخشا تعجب ہے ہمی سے باغباں بیزار ہوجائے وطن کی آبرو جس نے بچائی نقدجاں دے کر غضب کا سانحہ ہے وہ ذلیل وخوار ہوجائے وہ مے اب تیرے میخانے میں کیا باقی نہیں ساقی جسے پی لے کوئی میخوار تو ہشیار ہوجائے بہار و سازِ نو پر چھیڑ دو ایسا کوئی نغمہ کلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہوجائے کہاں سے لالہ وسرووسمن پر آئے رعنائی بہاروں میں گلستاں جب خزاں آثا ر ہوجائے اڑالی ہے ہماری نیند جس جانِ محبت نے اسے بھی یا الٰہی عشق کا آزار ہوجائے کرے گی اس کا استقبال منزل دوقدم بڑھ کر کوئی گھر سے نکلنے کو اگر تیار ہوجائے خدا پر ناخدا کا ہو بھروسہ پھر تو کیا کہنا وفور موج وطوفاں سے سفینہ پارہوجائے پہنچا تابہ منزل کارواں کا غیرممکن ہے اگر خود راہزن ہی قافلہ سالا ر ہوجائے خلوص و صدق ہو عزم و یقیں ہو سوز کامل ہو عجب کیا ہے وہ انساں قوم کا سردار ہوجائے زمانہ بھول جائے قیس اور فرہاد کے قصے مرا جوش جنوں انجم اگر بیدار ہوجائے از : ڈاکٹر حامد الانصاری انجم پیش کش: سلمان فیصل |
ہائے بیچارہ مولوی
ہائے بیچارہ مولوی
طعنہ و تشنیع کا سارا نشانہ مولوی
گالیاں اتنی بھیانک؛ مر ھی جانا مولوی
آپ کو جائز کہ منہ ڈالیں کسی بھی کھیت میں
اپنی جائز خواھشوں کو بھی دبانا مولوی
نفس و دل کے ھر اثر سے مولوی آزاد ھو
مرغ و ماہی، شیر خرمہ بھی نہ کھانا مولوی
مولوی جیسے کہ اترا ہو فلک سے ارض پر
بس فرشتوں کی طرح پاکی سنانا مولوی
مولوی کو کس لئے راتب ملے گی دس ہزار
آٹھہ سو میں ھو سکے تو گھر چلانا مولوی
اور اگر حالات پیچیدہ ھوئے تو مستقل
صحن-مسجد میں بڑی جھاڑو لگانا مولوی
اور جو نگران-مسجد ھو اسی کا وہ غلام
اس کے ذاتی گھر کا ھر سودا بھی لانا مولوی
موٹا جھوٹا ایک کرتا اور پجامہ چاھئے
العیاذ و الاماں ؛ ٹرلن سلانا مولوی؟
پاوں میں چپل ھوائی، نعمت-عظمی ملی
بھول کر باٹا کے چکر میں نہ آنا مولوی
دس ہزاری جھاڑ اور فانوس تو اپنا نصیب
صحنک و بھرکے سے اپنا گھر سجانا مولوی
کاہے کا عالم سیانا اور زیرک مولوی
بس نکھٹّو، آلسی، پاگل ، دوانہ مولوی
پھوٹ پڑتا ھے اگر اس شہر میں دنگا فساد
سامنے آنا اگر تو صرف آنا مولوی
کار، بنگلہ، فون، ٹیلی کام، موبائیل و نٹ
خواب-دیوانہ سمجھہ کر بھول جانا مولوی
روس میں ھو حادثہ یا اندرون- ملک ھو
سب کا ذمہ دار-اول غائبانہ مولوی
یہ تو اسکا حال ہے دانشوروں کے سامنے
گھر میں بھی روتے ھوئے کھانا پکانا مولوی
بجلی جاتی ھے تو جنریٹر چلاتے ھیں امیر
مچھروں کی ھر ادا پر کلبلانا مولوی
مولوی صبر تحمل کے لئے مشہور ھے
آپ تھپّڑ مارنا اور مسکرانا مولوی
ھم امیران-وطن ھیں ؛ باندیاں ھیں موٹریں
ٹوٹی پھوٹی سائیکل پر آنا جانا مولوی
اتنا سب کچھہ کرکے بھی فتوی یہی جمہور کا
بعد مردن آگ میں پائے ٹھکانہ مولوی
ڈاکٹر محمد عمران اعظمی

