
ایک خوبصورت سے باغ مین بہت سی چڑیا رہتی تھیں ۔ ان میں ایک بہت ہی عقلمند اور نہایت ہی ذہین مینا رہتی تھیں ۔جو کہ گلابی مینا کے نام سے جانی جاتی تھی اس کا اپنا مدرسہ تھا سارے پرندوں کے بچّے اس کے پاس پڑھنے جاتے تھے ۔کلابی مینا کی بولی بہت میٹھی تھی وہ بہت پر اثر انداز میں تعلیم دیتی تھی ۔سارے بچے کبھی فیل نہیں ہوتے تھے ۔اس مدرسہ میں ہیرا نیم کا ایک طوطا بھی پڑھا کرتا تھا وہ بھی ذہین تھا اور پڑھائی میں تیزتھا ۔ایک دن ہیرا نے مینا سے پوچھا کہ میڈم جی کیا یہ سچ ہے کہ بازچڑیوں کا راجا ہوتا ہے ؟
مینا نے جواب دیا اورسمجھایا کہ نہیں باز تو روزچڑیوں کو مارتا ہے انھیں کھا جاتا ہے وہ کبھی اپنی رعایا کی حفاظت نہیں کرتا جو صرف مارنا ہی جانتا ہے تو وہ راجا کیسے ہو سکتا ہے ؟
تب میڈم چڑیوں کا راجا کون ہو سکتا ہے ؟ ہیرا نے پوچھا مینا اسے سمجھانے لگی بیٹے چڑیوں کا راجا ہے مور اس کے سر پر تاج ہے دیکھنے میں خوبصورت ہے چلنے میں تیز ہے اس کا ناچ مشہور ہےوہ اڑ بھی سکتا ہے وہ سانپ، بچھو اور گوجر جیسے زہریلے حیوانوں کو نگل کر ہماری حفاظت کرتا ہے ۔پھر ہیرا نے دوبارہ سوال کیا تب میڈم ہم باز کو کیا کہیں گے ؟ مینا نے کہا اسے تو ہم ڈاکو کہیں گے وہ خود غرص ہے دوسروں کا بھلا کبھی نہیں چاہتا وہ ظالم ہے ۔اسے کس طرح راجا مان سکتے ہیں اس طرح کی دلیل سےسارے بچّے متاثر ہوۓ اور سب نے مینا میذم کی تعریف کیں۔ ( اومکار سری واستو )