You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label short story. Show all posts
Showing posts with label short story. Show all posts

Wednesday, April 13, 2011

افسانہ چھت



گھر آکر اس نےکپڑےاتارےبھی نہیں تھےکہ نسرین نےدبےلہجےمیں آواز لگائی ۔
پانی آج بھی نہیں آیا ۔ گھر میں پینےکےلئےبھی پانی نہیں ہے۔ نسرین کی بات
سنتےہی جھنجھلا کر غصےسےاس نےنسرین کی طرف دیکھا پھر بےبسی سےپلنگ پر
بیٹھ گیا ۔
اتنا بھی پانی نہیں ہےکہ آج کا کام چل جائے؟
نہیں .... ! نسرین نےدھیرےسےجواب دیا اور اپنا سر جھکا لیا ۔ اگر ایک کین
بھی پانی مل جائےتو کام چل جائےگا ۔ کل پانی ضرور آئےگا ۔ اس وقت
سامنےوالی آبادی میں پانی آتا ہے۔ جھونپڑ پٹی کی دوسری عورتیں وہاں
سےپانی لارہی ہیں ۔
دوسری عورتیں وہاں سےپانی لا رہی ہیں لیکن تم نہیں لا سکتیں کیونکہ تم
ایک وائٹ کالر جاب والےآدمی کی بیوی ہو ۔ اس نےسوچا اور پھر دھیرےسےبولا
۔
ٹھیک ہےکین مجھےدو میں پانی لاتا ہوں ۔
آفس سےآیا تو اتنا تھک گیا تھا کہ اس کا دل چاہ رہا تھا وہ بستر پر لیٹ
کر ساری دنیا سےبےخبر ہوجائے۔ لیکن نسرین نےجو مسئلہ پیش کیا تھا ایک
ایسا مسئلہ تھا جس سےوہ دو دونوں سےآنکھ چرا رہا تھا ۔ اور اب اس سےآنکھ
چرانا نا ممکن تھا ۔
اس گندی بستی کو جس پائپ لائن سےپانی سپلائی ہوتا تھا اس کا پائپ پھٹ گیا
تھا اور تین دنوں سےنلوں میں پانی نہیں آرہا تھا ۔ شکایت کی گئی تھی لیکن
جواب دیا گیا تھا کہ کام چل رہا ہے۔ کام ختم ہوجائےگا تو معمول سےایک
گھنٹہ زیادہ پانی دیا جائےگا ۔ کام چیونٹی کی رفتار سےچل رہا تھا کب ختم
ہوگا کوئی کہہ نہیں سکتا تھا اور کب پانی آئےگا کہا نہیں جاسکتا تھا ۔
جھونپڑ پٹی کا معاملہ تھا ۔ میونسپلٹی والےجھونپرپٹی والوں کو پانی
سپلائی کرنےکی ذمہ داری نبھانےکےتابعدار نہیں تھے۔ کیونکہ ان کی نظرمیں
وہ جھونپڑپٹی غیر قانونی ہے۔ اس جھونپڑ پٹی میں غیر قانونی ڈھنگ سےرشوت
دےکر نل کےکنکشن دئےگئےہیں ۔ میونسپلٹی چاہےتو ان تمام کنکشنوں کو کاٹ کر
پانی کی سپلائی بند کرسکتی ہے۔ لیکن انسانیت کےناطےاس بستی کو پانی
سپلائی کررہی تھی ۔ اس لئےاس بستی کےلوگوںکو میونسپلٹی والوں کا شکر گذار
ہونا چاہئے۔ قانون کی زبان میں بات کرنےکےبجائےعاجزی سےدرخواست کرنی
چاہیئے۔ تب میونسپلٹی کےاعلیٰ افسران ان کی پریشانیوں کےبارےمیں سنجیدگی
سےغور کریں گے۔

Tuesday, September 01, 2009

سم کا دھن


ایک وقت کی بات ہے کہ بندا پور نامی کسی گاؤں میں ببن حمال نام کا ایک آدمی رہتا تھا ۔ حمال عربی میں سامان اٹھانے والے قلی کو کہتے ہیں ۔لیکن وہ قلی نہیں تھا ۔اس کے نام کے ساتھ حمال کیسے لگ گیا کسی کو بھی نہیں معلوم تھا سب لوگ اسے ''حمال ''ہی کہتے تھے ۔ حمال کی گنتی بہت بڑ ے کنجو سوں میں کی جاتی تھی ۔وہ ہمیشہ وہی کام کرتا تھا جس میں کو ئي پو نجی لگانا نہ پڑے ۔وہ لوگون کی پھینکی ہو ئي چیز یں بٹور کر لاتا اور انھیں جوڑ توڑ کر کام کے لا ئق بنا لیتا ۔کبھی درزی کی دوکان سے کترن بٹور کر لاتا اور اسکی کتھری تیار کر لیتا ۔کبھی چزہوں کے بلوں کو کھود کر ان میں چو ہو ں کا لایا ہوا اور اکٹھّا کیا ہوا اناج بٹور لاتا اور اسے صاف کر کے اپنے کھانے کے لائق بنا لیتا تھا ۔ اس کے گھر میں کچھ ہی برتن تھے سامان بھی نہیں تھا ایک کونے میں چارپائی رہتی تھی اس پر ایک پھٹی پرانی کتھری پڑی رہتی تھی ۔اس چار پائی میں کٹھمل اور مچھر اور چونٹیوں نے اپنا گھر بسا لیا تھا ۔
حمال کی ایک عادت تھی کہ کہیں سے بھی اسے ایک پیسہ بھی مل جاتا تو وہ اسے ایک مٹّی کے گھڑے میں جمع کرتا تھا ۔ٹھیک چھ مہینے بعد وہ گھڑ ے سے پیسہ نکالتا تھا ۔نوٹوں کو تو وہ کتھری کے بیچ میں روئی کی طرح پھیلا کر چاروں طرف سے سی لیتا تھا اور روپیہ پیسہ وہ سارا گھڑے میں بند کر کے زمین میں دفن کر دیتا تھا ۔ایک دن کی بات ہے کہ لڑکے گیند کھیل رہے تھے گیند اوپر چھپّر پر چلی گئی ۔ایک لڑکا گیند لینے اوپر چھت پر گیا اس نے وہاں سے دیکھا کہ حمال روپیوں سے بھرا ہوا مٹکا زمین میں دفن کر رہا ہے ۔ اس نے یہ ساری بات اپنے چاچا کو بتائی ۔چاچا چور تھا ۔وہ دھن حاصل کرنے کے لۓ بے چین ہو گیا ۔اس نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ جاکر سارا دھن چرا لیا ۔جمعہ کا دن تھا ۔حمال جب اپنے گھر پہنچا تو اپنے گھر کا دروازہ ٹوٹا ہوا پایا ۔سیدھا اپنی کوٹھری میں گيا وہاں اپنی پھٹی پرانی کتھری کو دیکھ تو اس کی جان میں جان آئی ۔مگر جب اس کی نظر نیچے زمین پر پڑی جہاں چوروں نے کھود کر چوری کی تھی تو وہ زوروں سے چلانے لگا اس کی آواز سن کر سب گآؤں والے جمع ہو گۓ ۔مگر سب نے اس کی بات کا مذاق اڑایا ۔اس دن کے بعد سے حمال بیمار رہنے لگا ۔اور تین دن بعد اس کی موت ہو گئی ۔سب لوگ اس کی تد فین کے لۓ آۓ ۔سب لوگ اس کی کنجوسی کا قصہ بیان کر رہے تھے ۔اور یہ کہا جارہا تھا کہ ( سم کا دھن شیطان کھاتا ہے ) مکھیا نے گھر کی تلاشی لیں اچانک کسی کی نظر کتھری پر پڑی اور اس میں سے دس بیس اور ایک ایک کے بہت سارے نوٹ نکالے گۓ مکھیا نے یہ کہء کر سارا دھن اپنے قبضے میں لے لیا کہ حمال کو دفنانے کے بعد بھی اس کے لۓ بہت کچھ کر کر نا ہے
:
مرحوم اونمکار ناتھ سری واستو

Friday, August 14, 2009

Please click the "story-image" to read the story
कहानी पढ़ने के लिये "कहानी के चित्र" पर क्लिक करिये

Sunday, August 02, 2009

چڑیوں کا راجا



ایک خوبصورت سے باغ مین بہت سی چڑیا رہتی تھیں ۔ ان میں ایک بہت ہی عقلمند اور نہایت ہی ذہین مینا رہتی تھیں ۔جو کہ گلابی مینا کے نام سے جانی جاتی تھی اس کا اپنا مدرسہ تھا سارے پرندوں کے بچّے اس کے پاس پڑھنے جاتے تھے ۔کلابی مینا کی بولی بہت میٹھی تھی وہ بہت پر اثر انداز میں تعلیم دیتی تھی ۔سارے بچے کبھی فیل نہیں ہوتے تھے ۔اس مدرسہ میں ہیرا نیم کا ایک طوطا بھی پڑھا کرتا تھا وہ بھی ذہین تھا اور پڑھائی میں تیزتھا ۔ایک دن ہیرا نے مینا سے پوچھا کہ میڈم جی کیا یہ سچ ہے کہ بازچڑیوں کا راجا ہوتا ہے ؟
مینا نے جواب دیا اورسمجھایا کہ نہیں باز تو روزچڑیوں کو مارتا ہے انھیں کھا جاتا ہے وہ کبھی اپنی رعایا کی حفاظت نہیں کرتا جو صرف مارنا ہی جانتا ہے تو وہ راجا کیسے ہو سکتا ہے ؟

تب میڈم چڑیوں کا راجا کون ہو سکتا ہے ؟ ہیرا نے پوچھا مینا اسے سمجھانے لگی بیٹے چڑیوں کا راجا ہے مور اس کے سر پر تاج ہے دیکھنے میں خوبصورت ہے چلنے میں تیز ہے اس کا ناچ مشہور ہےوہ اڑ بھی سکتا ہے وہ سانپ، بچھو اور گوجر جیسے زہریلے حیوانوں کو نگل کر ہماری حفاظت کرتا ہے ۔پھر ہیرا نے دوبارہ سوال کیا تب میڈم ہم باز کو کیا کہیں گے ؟ مینا نے کہا اسے تو ہم ڈاکو کہیں گے وہ خود غرص ہے دوسروں کا بھلا کبھی نہیں چاہتا وہ ظالم ہے ۔اسے کس طرح راجا مان سکتے ہیں اس طرح کی دلیل سےسارے بچّے متاثر ہوۓ اور سب نے مینا میذم کی تعریف کیں۔ ( اومکار سری واستو )
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP