Thursday, March 05, 2009
دل کا بار کم ہو جاۓ گا
شام خوشبو ،موسم گل ،ان حوالوں کے بغیر
تم سے دل کی بات کہنی ہے ،مثالوں کے بغیر
تشنگی کی جیت میںشامل ہۓ دریا کی شکست
حیثیت پانی کی کیا ہے؟ پیاس والوں کے بغیر
درد کم ہو جاۓگا ،اظہار کم ہو جاۓگا
روز ہم ملتے رہے تو پیار کم ہو جاۓ گا
زندگی تو بھی کبھی مجھ کو شریک غم بنا
مل کے رؤیں گے تو دل کا بار کم ہو جاۓگا
: - Shri Qasim Imam
0
comments
Labels:
India,
munawwar sultana,
Qasim Imam,
urdu,
urdu blogging
کبھی ایسی تو نہ تھی
بات کرنی ہمیں مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تیری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
لے گیا چھین کے کون آج تیرا صبر و قرار
بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی
اس کی آنکھوں نے خدا جا نے کیا کیا جادو
کہ طبیعت میری ما ئل کبھی ایسی تو نہ تھی
عکس رخسار نے کس کے لۓ تجھے چمکا یا
تاب تجھ میں مہ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی
اب کی جو راہ محبت میں اٹھائی تکلیف
سخت ہوتی ہمیں منزل کبھی ایسی تو نہ تھی
0
comments
Labels:
Ghalib,
India,
munawwar sultana,
urdu,
urdu blogging
مر جا ئیں گے
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جا ئیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جا ئیں گے
خالی اے چا رہ گرد ہوں گے بہت مر ہم داں
پر میرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جا ئیں گے
پہنچیں گے رہ گذر یار تلک کیوں کرہم
پہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جا ئیں گے
ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعوی تجھ پر
بلکہ پوچھے خدا بھی تو مکر جا ئیں گے
آگ دوزخ کی بھی ہو جاۓ گی پانی پانی
جب یہ عاصی عرق شرم سے تر جا ئیں گے
نہیں پا ۓ گا نشاں کو ءي ہمارا ہر گز
ہم جہاں سے روش تیر نظر جائیں گے
ذوق جو مدرسے کےبگڑے ہو ۓ ہیں ملّا
ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جا ئیں گے۔
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جا ئیں گے
خالی اے چا رہ گرد ہوں گے بہت مر ہم داں
پر میرے زخم نہیں ایسے کہ بھر جا ئیں گے
پہنچیں گے رہ گذر یار تلک کیوں کرہم
پہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جا ئیں گے
ہم نہیں وہ جو کریں خون کا دعوی تجھ پر
بلکہ پوچھے خدا بھی تو مکر جا ئیں گے
آگ دوزخ کی بھی ہو جاۓ گی پانی پانی
جب یہ عاصی عرق شرم سے تر جا ئیں گے
نہیں پا ۓ گا نشاں کو ءي ہمارا ہر گز
ہم جہاں سے روش تیر نظر جائیں گے
ذوق جو مدرسے کےبگڑے ہو ۓ ہیں ملّا
ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جا ئیں گے۔
0
comments
Labels:
Ghalib,
India,
munawwar sultana,
urdu,
urdu blogging
Tuesday, March 03, 2009
وجہ سے مریضہ بن گئی
آج راستے میں دوبارہ میری کل والی سہیلی سے ملاقات ہو گئی ۔اسنے کچھ اپنی زندگی کے گزرے ہوۓ واقعات لکھے ہوۓ کاغذات مجھے دی ۔اور مجھ سے بڑے اعتماد کے ساتھ کہنے لگی کہ میں وہ سارے واقعات یک کے بعد دیگر لنترانی پہ لکھوں
تاکہ اس کے دل کو کچھ سکون نصیب ہو ۔جب اپنے گھر پہنچ کر میں نے اسکے لکھے ہو ۓ مضمون کو پڑھا تو اچانک میری آنکھوں سے بھی آنسو نکل پڑے اس نے اپنے تیسرے بچّے کی ّپیدائش اور اس کی ڈھا ئی مہینے کے بعد موت ہونے کا ذکر کیا تھا ۔دوران حمل وہ ڈیوٹی پر جاتی تھی اپنا ذاتی مکان خریدنے کے لۓ قرض لیا ہوا تھا ۔شوہر کو تو کوئی فکر نہیں تھی ۔اس عورت کا بلڈ پر یشر بڑھنے لگا ۔اور اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوگیا ساتویں مہینے میں ہی آپریشن کیا گیا ۔عورت کی جان کو بڑی مشکل سے بچایا گیا ۔لیکن اس وقت بھی وہ اکیلی تھی اور شوہر دوبئی میں اپنی دوسری بیوی کے پاس تھا ۔ڈھائی مہینے کے بعد بچّے کا انتقال ہو گیا ۔ اور شوہر نے بچّے کی موت کا ذمّہ دار اپنی بیوی کو ٹہرایا ۔اس عورت نے بچے کے لۓ اپنی جان کی بازی لگا دی ۔اس کو شوہر اور سسرال والوں کے پیار اور ہمدردی کی ضرورت تھی ۔کیونکہ ایک ماں کی کوکھ اجڑگئی تھی ۔مگر شوہر نے یہ الزام لگایا کہ اس عورت نے کوئی دوا کھا کر اپنے بچّے کو مار ڈالی اور اس طرح سے مختلیف قسم کی غلط غلط باتیں کر کے اس کو ستانے لگا لۓ ٹینشن کی وجہ سے مریضہ بن گئی ۔
0
comments
Labels:
India,
munawwar sultana,
terrorism,
urdu.urdu blogging
Monday, March 02, 2009
شوہر دہشت گرد ہے۔۔۔۔۔۔۔ا
آج صبح بس اسٹنڈ پر میری ایک بہت پرانی سہیلی سے ملاقات ہوئی ۔اس کو دیکھ کر بہت افسوس ہوا ۔اس کی حالت ہی بدل گئی ہے۔کیوںکہ سترہ سال پہلے اسکا شوہر دوبئی گیا تھا ۔وہ اپنی بیوی سے ہمیشہ جھوٹ بولتا تھا ۔کبھی بھی اس نے اپنی بیوی کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھا ۔انڈیا آنے کے بعد وہ اس سے مار پیٹ کرتا تھا ۔ہمیشہ دوسروں کے سامنے ذلیل کرتا تھا اسکی نظر میں عورت کو پیر کی جوتی سمجھنا ہے ۔وہ عورت ہمیشہ برداشت کرتی تھی۔ کیوں کہ ہمارے مذہب میں شوہر کو خدا کا درجہ دیا جاتا ہے ۔ہو عورت ایک اسکول میں ٹیچر ہے ۔بچوں کو پڑھاتی ہے ۔ عورت کو پتہ چل گیا ہے کہ اس کے شوہر نے اپنی بیوی کو دھوکہ میں رکھ کر دوسری شادی کر لی ہے ۔اور اس آدمی کے دہشت گرد ہونے کے ثبوت بھی موجود ہے جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ آدمی انٹر نیشنل طور پر دہشت گردوں سے ملا ہوا ہے ۔وہ عورت بہت پریشان کہ کیا کرے ۔پھر بھی وہ عورت اپنی پڑھائی کو جاری رکھے ہوۓ ہیں ۔وہ آدمی اپنی غلطیوں نہ مان کر طرح طرح سے اس کو پریشان کرتا ہے ۔اس کے اسکول کے چیرمین کو فون کر کے کہتا ہے کہ میری بیوی کا کیریکٹر بہت خراب ہے وہ ہندو بن گئی ہے اسکو نوکری سے نکال دیا جاے اپنے دو بچوں کو لے کر وہ عورت اپنی زندگی گزار رہی ہے وہ عورت بلڈ پریشر کی مریضہ ہے ۔آخر وہ عورت کیا کرے کیا وہ وطن پرستی ثابت کرتے ہوۓ اپنے شوہر کی غلط کا گزاریوں کا بھانڈا پھوڑ دے اور وہ سارے ثبوت کرائم برانچ میں جمع کردے ؟ بہت سارے سوالات ذہن میں ہیں ۔کیونکہ وہ آدمی اپنے گناہوں کو دبانے کے لۓ اپنی بیوی کو بدنام کررہا ہے ۔جب کہ وہ خود غلط ہے ۔اور اسنے اپنی دوسری بیوی کو بھی دھوکہ میں رکھا ہے ۔اخر یہ کیسا مزاجی خدا ہے ؟؟؟آخر اس کا کیا کیا جاۓ ؟ میں بات تمام لنترانی پڑھنے والوں سے پوچھتی ہوں ۔
0
comments
Labels:
India,
munawwar sultana,
terrorism,
urdu,
urdu blogging,
دہشت گرد
Subscribe to:
Posts (Atom)