Wednesday, August 12, 2009
مصیبت زدگان کی امداد
بہرام پاڑہ باندرہ ممبئی میں آگ لگ جانے سے تین لوگوں کی موت ہو گئی ۔ہزاروں خاندان بے گھر ،بے یارومددگار ہو گۓ ۔ایسے میں مصیبت زدگان کی مددکرنا ہر شہری کا فرض ہے ۔تمام ادارے جنگی پیمانے پر بہرام پاڑہ کے تباہ حال لو گوں کو جلد از جلد اور زیادہ سے زیادہ امداد بہم پہنچا کر اپنا فریضہ پورا کریں ۔ایسی ناگہانی آفات کا شکار ہر کوئی ہو سکتا ہے آگ کی تباہی جھیلنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینے کے بجاۓ انہیں جلد از جلد اپنے پیروں پر کھڑا کیا جانا ضروری ہے ۔
0
comments
Labels:
India,
munawwar sultana,
urdu,
urdu blogging
Sunday, August 02, 2009
چڑیوں کا راجا

ایک خوبصورت سے باغ مین بہت سی چڑیا رہتی تھیں ۔ ان میں ایک بہت ہی عقلمند اور نہایت ہی ذہین مینا رہتی تھیں ۔جو کہ گلابی مینا کے نام سے جانی جاتی تھی اس کا اپنا مدرسہ تھا سارے پرندوں کے بچّے اس کے پاس پڑھنے جاتے تھے ۔کلابی مینا کی بولی بہت میٹھی تھی وہ بہت پر اثر انداز میں تعلیم دیتی تھی ۔سارے بچے کبھی فیل نہیں ہوتے تھے ۔اس مدرسہ میں ہیرا نیم کا ایک طوطا بھی پڑھا کرتا تھا وہ بھی ذہین تھا اور پڑھائی میں تیزتھا ۔ایک دن ہیرا نے مینا سے پوچھا کہ میڈم جی کیا یہ سچ ہے کہ بازچڑیوں کا راجا ہوتا ہے ؟
مینا نے جواب دیا اورسمجھایا کہ نہیں باز تو روزچڑیوں کو مارتا ہے انھیں کھا جاتا ہے وہ کبھی اپنی رعایا کی حفاظت نہیں کرتا جو صرف مارنا ہی جانتا ہے تو وہ راجا کیسے ہو سکتا ہے ؟
تب میڈم چڑیوں کا راجا کون ہو سکتا ہے ؟ ہیرا نے پوچھا مینا اسے سمجھانے لگی بیٹے چڑیوں کا راجا ہے مور اس کے سر پر تاج ہے دیکھنے میں خوبصورت ہے چلنے میں تیز ہے اس کا ناچ مشہور ہےوہ اڑ بھی سکتا ہے وہ سانپ، بچھو اور گوجر جیسے زہریلے حیوانوں کو نگل کر ہماری حفاظت کرتا ہے ۔پھر ہیرا نے دوبارہ سوال کیا تب میڈم ہم باز کو کیا کہیں گے ؟ مینا نے کہا اسے تو ہم ڈاکو کہیں گے وہ خود غرص ہے دوسروں کا بھلا کبھی نہیں چاہتا وہ ظالم ہے ۔اسے کس طرح راجا مان سکتے ہیں اس طرح کی دلیل سےسارے بچّے متاثر ہوۓ اور سب نے مینا میذم کی تعریف کیں۔ ( اومکار سری واستو )
2
comments
Labels:
children literature,
India,
short story,
urdu,
urdu blogging
مصیبت زدگان کی امداد
بہرام پاڑہ باندرہ ممبئی میں آگ لگ جانے سے تین لوگوں کی موت ہو گئی ۔ہزاروں خاندان بے گھر ،بے یارومددگار ہو گۓ ۔ایسے میں مصیبت زدگان کی مددکرنا ہر شہری کا فرض ہے ۔تمام ادارے جنگی پیمانے پر بہرام پاڑہ کے تباہ حال لو گوں کو جلد از جلد اور زیادہ سے زیادہ امداد بہم پہنچا کر اپنا فریضہ پورا کریں ۔ایسی ناگہانی آفات کا شکار ہر کوئی ہو سکتا ہے آگ کی تباہی جھیلنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دینے کے بجاۓ انہیں جلد از جلد اپنے پیروں پر کھڑا کیا جانا ضروری ہے ۔
0
comments
Labels:
India,
munawwar sultana,
urdu,
urdu blogging
فروغ اردو کے لۓ حکمت عملی
سیکولر محاذ دہلی سے یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ ایک کانفرنس کا خاص موضوع تھا کہ سرکاری اورنیم سرکاری رضاکاروں کو اردو کے فروغ
کے لۓ موثر رول ادا کرنا ہو گا اس زبان کے تئیں عوامی بیداری لانے کی ضرورت ہیں ۔اس زبان کو صرف نوکریوں تک ہی نہ رکھا جاۓ بلکہ اس زبان سے عشق کرنے کی ضرورت ہیں ۔تبھی ہمارا علمی تہذیبی ۔ثقافتی ۔ادبی ورثہ محفوظ رکھنا قائم رکھنا بے حد اہم ہے ۔اس لۓ مختلف حکمت عملی کرنا ضروری ہیں
0
comments
Labels:
India,
munawwar sultana,
urdu,
urdu blogging
Subscribe to:
Posts (Atom)
