You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label women's day. Show all posts
Showing posts with label women's day. Show all posts

Wednesday, March 07, 2012

خواتین کا عالمی دن


8 مارچ کو ہر سال دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔اس سلسلے میں دنیا بھر میں خواتین کو اپنے حقوق سے آگاہی اور ان کی جدوجہدکو خراج تحسین پیش کرنے کے حوالے سے بہت سی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے جو کہ ایک خوش آئند بات ہے ۔خواتین کو ہمیشہ سے ہی اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرتے دیکھا گیا ہے ۔آج کی عورت زندگی کے ہر میدان میں مر دوں کے شانہ بہ شانہ بلکہ کئی جگہوں پر مردوں سے بڑھ کر اپنا کردار نبھا رہی ہے اس کے باوجود ہم آۓ ۓئے دن اخبارات اور مختلف چینلز پر خواتین پر تشدّد کے حوالے سے رپورٹ اور خبریں پڑھتے ، دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں۔خواتین کو سب سے زیادہ گھر میں عدم تحقظ کا شکار بنا دیا جاتا ہے جس کی عام شکل گھریلو تشدّد ہے اور گھر میں شادی شدہ خواتین کے شوہر ، سسر،ساس،دیور،اور نندیں،ذمہ دار ہوتی ہیں ۔

کیا یہ حقیقت ہے کہ ہم خواتین مبارکباد کے قابل ہے ؟؟؟

Tuesday, March 15, 2011

بنت ہند

انجمن اسلام سی ایس ٹی میں واقع کریمی لائبریری میں منگل 8مارچ کو 100 ویں عالمی خواتین کے موقع پر پروگرام کا انعقاد کیا گیا ۔جس میں مختلف مقامات پر عوامی خدمات انجام دینے والی اور مختلف شعبوں میں کارہاۓ انجام دینے والی 10 خواتین کو ''بنت ہند''نامی ایوارڈ سے نواز کر خراج تحسین پیش کیا گیا ۔اس پروگرام کا انعقاد ''نیڈس ''نامی غیر سرکاری تنظیم نے کیا تھا ۔نیڈس نے لگاتار یہ پروگرام چوتھے برس عالمی یوم خواتین کے موقع پر منعقد کیا تھا ۔ جس میں ایسی خواتین کو ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ جو سماج میں دیگر خواتین کے لۓ مشعل راہ ثابت ہو سکتی ہے ۔اس پروگرام میں مہمان خصوصی انجمن کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی تھے ۔ جبکہ نظامت کے فرائض خان آصف علی اور صحافی سلیم الوارے نے انجام دیں ۔ اس پروگرام میں ٹیستا سیتلواد ،مسسز عابدہ پی انعامدار ،ممتاز پیر بھائی ،نادرہ ظہیر ببّر ،پروفیسر مسسز فاروق سیدہ وارثی ،ریحانہ بستی والا ،مسسز ھومائی این مودی ،روٹا ساونت اھوارڈ، سائرہ پٹیل اور ڈاکٹر رابعہ ایف ملا کو ڈاکٹر ظہیر قاضی صاحب کے ہاتھوں ایوارڈ س سے نوازا گیا ۔

یوم نسواں

پرواز'' کے زیر اہتمام حج ہاؤس ممبئی میں یوم نسواں کے موقع پر ایک سیمنار بعنوان ''خواتین کے مسائل اور ان کا حل '' اس طرح کی ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی ۔اس پروگرام کے مہمان خصوصی وزیر داخلہ آر آر پاٹل تھے ۔ اور شہر کی اہم ترین شخصیات موجود تھیں۔ اس تقریب میں خطاب کرتے ہوۓ آر آرپاٹل نے اقلیتوں کے مسائل پر مفصّل روشنی ڈالی اور اس پروگرام کی کنوینر سعدیہ مرچنٹ کی طرف سے پوچھے گۓ سوالات کا جواب دیتے ہوے یقین دہائی کروائی کہ حکومت
مہاراشٹر ہر شعبہ میں اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والی خواتین کو مناسب نمائندگی دینے کی کوشش کررہی ہے اور اس ضمن میں کاروائی بھی شروع کی جاچکی ہے ۔اور حکومت خواتین کو تحفّظ فراہم کرنے کے عہد کی پابند ہے ۔انھوں نے سعدیہ مرچنٹ کی کاوشوں کو کافی سراہا اور کہا کہ اس طرح کے پروگرام میں شرکت کرنے سے قلبی سکون ملتا ہے ۔اور یہ دیکھ کر مسرت ہوتی ہے کہ مہاراشٹر میں اقلیتی سماج بالخصوص مسلم خواتین میں بیداری کی لہر پیدا ہورہی ہے ۔بعد ازیں سعدیہ مرچنٹ نے پروگرام کی غرض وعافیت بیان کیں ۔وہاں ایک ڈرامہ کلپنا نامی پیش کیا گیا ۔حس کو سب نے سراہا ۔وزیر داخلہ کے ہاتھوں ڈاکٹر غزالہ ناروی ، ڈاکٹر حمیدہ رضوی ،اور اسمی گروپ کے فنکاروں کو گلدستہ اور مومینٹو دے کران کی حوصلہ افزائی کی گئ۔سب سے اہم بات یہ ہوئ کہ ممبی میں 26 نومبر کے دہشت گردانہ حملے کی متاثرہ خاتون صابرہ خان کا نام جب مومینٹو کے لۓ پکارا گیا تو آر آر پاٹل سمیت تمام مہمانان اسٹیج سے اتر کر آے اور انھیں بڑے احترام سے مومینٹو پیش کیا ۔ اس پروگرام کی نظامت پروفیسر عائشہ نے کیں ۔یہ پروگرام کافی کامیاب رہا ۔

Thursday, March 10, 2011

یوم نسواں اردو مرکز میں

یوم خواتین ''کے موقع پراردو مرکز ممبئی میں اردو مرکزکی بزم خواتین کی نشست بروز منگل مورخہ 8 مارچ 2011ء کو اردو زبان کے فرو‏ غ و ادب کے لۓ منعقد کی گئی ۔اس پروگرام کی صدارت محترمہ مریم ‏غزالہ نے کیں اور نظامت کے فرائض پروفیسر عائشہ شیخ نے ادا کۓ ۔اس پروگرام کے ابتداء میں اردو مرکز کے ڈائریکٹر ایڈوکیٹ زبیر اعظم اعظمی اور فرید خان نے اظہار خیال

کیا ۔جس کے بعد ایڈوکیٹ ریکھا روشنی نے قانون سے متعلق معلومات دیں ۔ رخسانہ صبا ء اور
ممتاز نکہت نے عالمی یوم خواتین اور خواتین کی صورت حال پر اپنے خیالات اور تاثرات بیان کۓ ۔ اس کے بعد ایک شعری نشست رکھی گئی ۔جس میں متعدد شاعرات نے اپنا کلام سناکر سامعین کو محظوظ کیا ۔اس موقع پر شہر کی جانی مانی اہم شخصیات موجود تھیں ۔نعیمہ امتیاز ،فریدہ منصوری ،تاج بانو خان ،ریکھا روشنی ،رخسانہ صباء شکیلہ انصاری ،ممتاز نکہت ، فاطمہ انیس ،عزیزہ موزہ والا ، ڈاکٹر نغمہ جاوید ملک ، فریدہ ساز عزرا خان اور سب سے اہم شخصیت انجمن اسلام کی سیکنڈری اسکول کی ڈائریکٹر سلمہ لوکھنڈوالہ صاحبہ موجود تھیں ۔تمام خواتین کے چہروں پر مسکراہٹ تھیں ۔وہاں کی تمام خواتین نے ایک سر میں کہا اور اس بات کا اعتراف کیا کہ اردو مرکز میں آکر ایسا لگتا ہے کہ یہ ان کا مائکہ ہے ۔

Wednesday, March 10, 2010

یوم نسواں











یوم نسواں اور ممبئی سے شائع ہونے والے ہفت روزہ عوامی راۓ کے 9 سالہ جشن کی مناسبت سے 8 مارچ 2010ء کو الما لطیفی ہال صابو صدیق کا لج بھا ئکلہ میں جلسہ تقسیم اعزاز اور ایک کل ہند مشا عرہ ( ایک شام لتا حیا کے نام ) سے انعقاد کیا گیا مشا عرہ کے کنوینر ہفت روزہ عوامی راۓ کے ایڈیٹر ڈاکٹر علاؤالدین تھے ۔مشا عرہ کی سرپرستی پرنسپل لو کھنڈوالا صاحب سابق ایم ،ایل ، اے اور چیئرمین سینٹر فارایڈ اینڈ کیور آف کینسر نے کیں جلسہ کی صدارت انجمن کے صدر ڈاکٹر ظہیر قاضی صاحب نے کیں۔مشا عرہ کا ا فتتا ح مہا راشٹر اقلیتی کمیشن کے چیئرمین نسیم صدیقی کے ہاتھوں شمع افروز کرکے ہوا۔اس جلسہ میں شہر اور اطراف کے تمام مشہور و معروف ادبی اور سیاسی شخصیات موجود تھیں ۔اس مشا عرہ کی نظامت لتا حیا صاحبہ نے کیں ۔اس مشاعرہ میں لتا حیا ،خوشبو رام پور، دپتی مسرا ،معصومہ تبسّم ،دل خیرآبادی ، عبداللّاہ راہی واحد انصاری ،رعنا ئتبسّم ،امیر انصاری ،برہان پوری ، ابراہیم ساغر ، پروفیسر قاسم امام ،اور شاداب اعظمی ،وغیرہ شعراءنے اپنے کلام سناۓ۔یوم نسواں کے موقع پر مختلف اعزازات سے نوازا گیا ۔طب کے لۓ ڈاکٹر محمد خالد صدیقی ،تعلیم کے لۓ انجمن اسلام سیف طیب جی کی پرنسپل نجمہ قاضی کو فلاحی امور کے لۓ محمد اویس صحافت کے لۓ منشی اقبال احمد ریٹا ئر ، ڈاکٹر ڈی ،جی ،آئی بی منترالیہ ادب کے لۓ لتا حیا کو مدر ٹریسا ایوارڈ سے اور سماجی خدمات کے لۓ محترمہ صابرہ سکوانی کو اعزازسے نوازا گیا ۔

Sunday, March 08, 2009

یوم خواتین مبارک ہو

पाठ रंग
पाठ रंगHappy Women's Day

آج 8 مارچ ہے ۔ اورآج کے دن عالمی یوم خواتین بہت زور و شور ےسےمنایا جاتا ہے ۔جس میں مختلف شعبوں سے منسلک نامور خواتین اپنی صنف کی حمایت میں تقریریں کرتی ہیں ۔ریلیاں نکا لی جاتی ہیں ۔سیمینار منعقد ہوتے ہیں۔ہمیشہ سے ہی خواتین مرد کے ظلم کا شکار رہی ہیں ۔کو ءی شوہر اپنی بیوی کو مارتا پیٹتا ہے ۔تو کوءی اپنی بیٹی کو تعلیم سے بے بہرہ رکھتا ہے ۔کہیں عزت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے ۔ایک بیوی کے رہتے ہو ۓ وہ دوسری شادی کرتا ہے ۔اپنی بیوی کو ذلیل کرنا اس کو بے عزت کر نا ۔ہر اچھے برے کام وہ خود کرتا ہے ۔ہر جا ئز اور نا جا ئز کام کر نے کا حق اس شخص کو ہے ۔کیوں کہ وہ مرد ہے اس لۓ ؟ آج کل کے دور میں ہر شخص ان مسا ئل کو جا نتا ہے ۔( یہ الگ بات ہے کہ یہ مسائل آج تک حل نہ ہو سکے ) خواتین اب بھی ویسی ہی زندگی گزار رہی ہیں ۔جیسی آج سے ایک صدی پہلے تک گزارا کرتی تھیں ۔نہ جانے کب یہ حالات میں بدلاؤ ہو گا ؟عورت ہی ماں ہے ۔بہن ہے ۔بیٹی ہے ۔محبوبہ ہے ۔اور شریک حیات یعنی کہ زندگی بھر کے لۓ سکھ اور دکھ کی ساتھی ۔بہت ہی پیارا قول ہے ۔{ وجود زن سے ہے تصویر کا ئنات میں رنگ}
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP