You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)
Showing posts with label mushaira. Show all posts
Showing posts with label mushaira. Show all posts

Thursday, March 08, 2012

(۱۵)پندرہواں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ اور عظیم الشان سالانہ عالمی مشاعرہ۲۰۱۱ء ؁ بیاد فیض احمد فیضؔ

مشیرِ کار وزیرِ ثقافت و فنون وتراث(قطر) عزت مآب ڈاکٹر حمد عبد العزیز الکواری کی نیابت کرتے ہوئے جناب موسٰی زینل موسٰینے،پاکستانی سفیر برائے دولتِ قطر عزت مآب محمد سرفراز خان زادہ صاحب ، ناظم الامور برائے سفارتخانۂ ہند عزت مآب سنجیو کوہلی ،جناب محمد عتیق ( چیئرمین مجلس)،جناب محمد صبیح بخاری (رکن سرپرست کمیٹی مجلس ) ،ادبأ و شعرأ،عمائدینِ شہراور سیکڑوں محبانِ اردوادب کی موجودگی میں (۱۵) پندرہواں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈتاحیات اُردو زبان وادب کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں پاکستان سے معروف مترجم اور ادیب و انشاء پرداز جناب سید محمد کاظم اور ہندوستان سے
آسکر ایوارڈ یافتہ ، نغمہ نگار، فکشن رائٹر، شاعر اور فلمساز جناب گلزار صاحب کوتالیوں کی گونج میں پیش کیا۔

مجلس کی سالانہ تقریبات کے سلسلے کی پہلی تقریب ، تقریبِ پذیرائی ( برائے پندرہواں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ) بتاریخ ۵؍اکتوبر ۲۰۱۱ء ؁ بروزبدھ

دانا کلب میں پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ کی صدارت میں منعقد ہوئی ،مہمانِ خصوصی ڈاکٹر محمد علی صدیقی تھے جبکہ فرتاش سیّد نے نظامت کے فرائض سرانجام دیے۔ یہ تقریب روایت کے برعکس دو ادوار پر مشتمل تھی ۔پہلے دورمیں اشفاق حسین (کینیڈا)،ڈاکٹر سید تقی عابدی (کینیڈا) اورپروفیسرڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے سالِ فیضؔ کی مناسبت سے اظہارِخیال کرتے ہوئے فیض احمدفیضؔ کی شخصیت اور فن کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔
دوسرے دور میں ڈاکٹر محمد علی صدیقی نے پاکستانی ایوارڈ ونرسیّدمحمد کاظم کے فنی سفر پر تفصیلی مقالہ پڑھا ۔سیّد محمد کاظم نے حرفِ سپاس اورAcceptance Speechمیں مجلس فروغِ اردو ادب دوحہ قطر اورپاکستانی جیوری کے چیئرمین مشتاق احمد یوسفی اور اراکینِ جیوری افتخارعارف،ڈاکٹر سلیم اختراور ڈاکٹر خورشید رضوی کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے کہا کہ میں ایوارڈ کو قبول کرتے ہوئے خوشی محسوس کررہاہوں ۔پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے گلزار صاحب کی شخصیت کے پوشیدہ گوشوں اور ان کی شاعری اور فنی وسائل پر اپنے مخصوص انداز میں سیر حاصل گفتگو کی۔گلزار صاحب نے حرفِ سپاس اورAcceptance Speechمیں ایوارڈ کا مستحق قراردینے پرمجلس اور ہندوستان جیوری کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور اراکین پروفیسر غضنفر علی،ڈاکٹر محمد زاہداور ڈاکٹر محمد حمیداللہ بھٹ کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے خوش دلی سے ایوارڈ قبول کرتے ہوئے سامعین کے بھرپور اصرار پر اپنی کئی ایک نظمیں سناکر بھرپور داد حاصل کی۔
صدرِتقریب پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے صدارتی کلمات ادا کرتے ہوئے فیضؔ صاحب کی شاعری،ایورڈ یافتگان کی ادبی خدمات ، مجلس کی فروغِ اُردوادب کے لیے کوششوں اورحسنِ انتظام کو سراہا۔ تقریب کے میزبان اور چیئرمین مجلس جناب محمد عتیق نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیااور یوں ایک پُرتکلف عشائیہ پر یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔

۶؍اکتوبر ۲۰۱۱ء ؁ بروز جمعرات ،عالمی شہرت یافتہ ادبی تنظیم ’’مجلس فروغِ اُردو ادب دوحہ قطر‘‘ کے زیر انتظام و انصرام دوحہ شیراٹن ہوٹل کے المجلس آڈیٹوریم میں (۱۵) پندرہویں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ کی تقریبِ تقسیمِ ایوارڈاور سالانہ عالمی مشاعرہ ۲۰۱۱ء ؁ بیادِ فیض احمد فیضؔ منعقد ہوا جس میں پاکستان ،ہندوستان ، کینیڈا اور قطر کے شعرائے کرام نے شرکت کی۔
تقریب کی صدارت جناب گلزار صاحب نے کی۔ہندوستان کے مشہور اردو اسکالر ، سابق چیئرمین ساہتیہ اکادمی پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ ،پاکستان کے نامور تنقیدنگار اور وائس چانسلرBIZTEKیونیورسٹی کراچی ڈاکٹر محمد علی صدیقی اورنامورشاعر اور وائس چانسلرجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے بطور مہمانانِ اعزازی تقریب تقسیم ایوارڈ اور عالمی مشاعرہ ۲۰۱۱ء ؁ بیادِ فیض احمد فیضؔ کو رونق بخشی۔

۱۹۹۶ ؁ء سے تاحال تواتر اور تسلسل کے ساتھ ہر سال ایک ہندوستانی اور ایک پاکستانی ادیب کی خدمت میں پیش کیا جانے والا یہ ’’عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ‘‘ دونوں انعام یافتگان کے لیے الگ الگ طلائی تمغے اورڈیڑھ ڈیڑھ لاکھ روپے نقد مالیت پر مشتمل ہوتا ہے۔
مجلس کے ارکانِ انتظامیہ کمیٹی جاوید ہمایوں اور اعجاز حیدرنے اسٹیج پر تمام مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ تقریب کے پہلے دور کی نظامت کے فرائض فرتاش سید نے (اردو اور انگریزی میں) اداکیے جبکہ فرقان پراچہ نے ان کی معاونت کی۔
پروگرام کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا جس کی سعادت عبد الرحمن فریدؔ ندوی نے حاصل کی۔جناب محمد عتیق نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد دی، جن کا انتخاب دو معزز و معتبر مکمل طور پر غیر وابستہ سینئر اہلِ قلم پر مشتمل جیوریز کے ذریعے عمل میں آیا، جس کی صدارت لاہور (پاکستان) میں عالمی شہرت یافتہ ادیب و مزاح نگار جناب مشتاق احمد خاں یوسفی اور دہلی (ہندوستان) میں جناب گوپی چند نارنگ (سابق چیئرمین ساہتیہ اکادمی) نے کی ۔ جناب محمد عتیق نے عزت مآب ڈاکٹر حمد عبد العزیز الکواری وزیرِ ثقافت وفنون وتراث کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جن کے تعاونِ خاص کا سلسلہ اِس سال بھی جاری رہا۔انہوں نے مزید کہاکہ سالِ رواں کا مشاعرہ مشہور انقلابی شاعر فیض احمد فیضؔ کے نام معنون کیا گیا ہے ، جن کی (۱۰۰) سوویں سالگرہ کی تقریبات دنیا بھر میں منعقد کی جارہی ہیں۔انھوں نے بانئ مجلس ملک مصیب الرحمن (مرحوم) کی ہر دلعزیز شخصیت ، اُن کے عزم و استقلال اور ان کی لازوال خدمات کو بھی عقیدت ومحبت کے بیش بہا نذرانے پیش کیے۔ اُنھوں نے عالمی شہرت یافتہ مصور ونقاش جناب ایم ایف حسین اور معروف شاعر جناب عزمؔ بہزاد (مرحومین ،جوسالِ گزشتہ کے مشاعرے میں رونق افروز تھے) کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا ۔اُ نہوں نے مجلس فروغِ اُردو ادب کے پروگرام مینیجر شوکت علی نازؔ کا بھی تذکرہ کیا جن کے قلب کا کامیاب بائی پاس آپریشن ہوا ہے اور تمام حاضرین سے ان کے لیے دعائے صحت کی اپیل کی۔انچارج پروگرام سیدفہیم الدین نے ایوارڈ یافتگان کا تعارف پیش کیا۔

عزت مآب ڈاکٹر حمد عبد العزیز الکواری وزیرِ ثقافت وفنون و تراث قطر (جو اپنی سرکاری مصروفیت کی بنا پرقطرمیں موجود نہ تھے )کی نمائندگی
کر تے ہوئے ان کے مشیرِکارجناب موسی زینل موسی نے،پاکستانی سفیر برائے دولتِ قطر عزت مآب محمد سرفراز خان زادہ صاحب ، ناظم الامور برائے سفارتخانۂ ہند عزت مآب سنجیو کوہلی ،جناب محمد عتیق ( چیئرمین مجلس)،جناب محمد صبیح بخاری (رکن سرپرست کمیٹی مجلس ) ،ادبأ و شعرأ،عمائدینِ شہراور سیکڑوں محبانِ اردوادب کی موجودگی میں (۱۵) پندرہواں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈتاحیات اُردو زبان وادب کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں پاکستان سے معروف مترجم اور ادیب وانشاء پرداز جناب سید محمد کاظم اور ہندوستان سے آسکر ایوارڈ یافتہ ، نغمہ نگار، فکشن نگار، شاعر اور فلمساز جناب گلزار صاحب کوتالیوں کی گونج میں پیش کیا۔

جناب موسی زینل موسینے مجلس کے زیرِاہتمام ایوارڈ یافتگان کے حوالے سے شائع ہونے والے مجلہ کی رونمائی بھی کی۔اس موقع پر عزت مآب محمد سرفراز خان زادہ صاحب نے مجلس کے زیرِ اہتمام شائع ہونے والے عزم بہزاد کے شعری مجموعہ ’’تعبیر سے پہلے ‘‘جبکہ ناظم الامور برائے سفارتخانۂ ہند عزت مآب سنجیو کوہلی نے ڈاکٹر سیّدتقی عابدی کی مرتبہ کتاب ’’فیضؔ فہمی ‘‘کی رونمائی کی۔
ناظم الامور برائے سفارتخانۂ ہند عزت مآب جناب سنجیو کوہلی نے اپنے خطاب میں کہاکہ اُردو زبان میں یہ تاثیر ہے کہ وہ ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے ۔ یہ اتنی پیاری اور شیریں زبان ہے کہ سامعین کے دلوں کو چھو لیتی ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ مجلس فروغِ اُردو ادب کے اِس اسٹیج سے اسلام آباد اور دہلی کو دوستی ، خیرسگالی اور پیار و محبت کا پیغام جانا چاہیے۔
پاکستانی سفیر برائے دولت قطر عزت مآب جناب محمد سرفراز خان زادہ صاحب نے اپنے خطاب میں کہاکہ دنیا کے( ۲۰۴) ممالک میں پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جس کی قومی زبان اُردو ہے۔انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ زبانِ اُردو کی جڑیں ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد کے ساتھ وابستہ ہیں۔ہندوستانی فلموں اور موسیقی نے اُردو کی شہرت ومقبولیت میں چار چاند لگا دیے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہر آدمی اُردو زبان ہی میں مشاعروں سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ مشاعرے دیگر زبانوں میں نہیں ہوتے۔

عزت مآب محمد سرفراز خان زادہ صاحب نے ۱۹۸۰ ؁ء کی دہائی میں سفارتخانۂ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بطور سیکنڈسکریٹری اپنی خدمات انجام دیں۔آج کے عالمی مشاعرہ بیاد فیض احمد فیضؔ میں اُن کی موجودگی نے ۱۹۸۸ ؁ء میں پاکستانی ایمبسی کے زیرِ سرپرستی منعقدہ اُس عظیم الشان مشاعرے کی یاد تازہ کر دی جسے(۳۱) نامور شعرائے کرام نے اپنی گراں قدر شرکت سے باوقار بنایا تھا۔

جناب موسی زینل موسی نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے ، مجلس سے اپنی دیرینہ وابستگی کا اظہار کیا۔ انھوں نے عزت مآب ڈاکٹرحمد
عبد العزیز الکواری کی جانب سے ایوارڈ یافتگان کی خدمت میں مبارکباد پیش کی ۔ مزید برآں انھوں نے بعض دلچسپ واقعات پیش کرتے ہوئے عرب تہذیب وثقافت میں شاعری کی اہمیت اجاگرکی۔
پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ نے فیض احمد فیضؔ کے فن و شخصیت پر اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا کہ فیضؔ صوفی ازم کے حامی، مارکسی نظریات کے مبلغ وداعی اور ترقی پسند تحریک کے ممتاز اراکین میں سے تھے یہی وجہ ہے کہ ان کے موضوعات مارکسی جبکہ علامات،تشبیہات اور استعارا ت اسلامی ہیں۔شبینہ ادیب نے فیض صاحب کی نظمِ ترنم سے پیش کر کے بھرپور داد وصول کی۔فرتاش سیّد نے پہلے دورکے اختتام کا اعلان کرتے ہوئے ناظم مشاعرہ اسلم کولسری کو تالیوں کی گونج میں سٹیج پر مدعو کیا۔
اس یادگار عالمی مشاعرے میں ہندوستان سے منظرؔ بھوپالی ، ف ۔ س۔ اعجازؔ ، ڈاکٹر کلیم قیصر ، پاپولر میرٹھی اور شبینہ ادیب ،پاکستان سے پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم ، وصیؔ شاہ ، ڈاکٹر منصور عباس رضوی، زاہد فخری ، ندیم ناجد اور جہاں آرا تبسم ،کینیڈا سے ڈاکٹر سید تقی ؔ عابدی اوراشفاق حسین جبکہ دوحہ قطر کی نمائندگی عبد الرحمن فریدؔ ندوی اورمحترمہ فرزانہ صفدر نے کی۔پاکستان سے محترمہ زہرا نگاہ ،ہندوستان سے معراج فیض آبادی اور خوشبیر سنگھ شاداور سعودی عرب سے سید قمر حیدر قمر بوجوہ تشریف نہ لا سکے ۔مجلس کے پاکستانی کوآرڈینیٹر جناب داؤد احمد ملک بھی شعرأکے ساتھ اسٹیج پر تشریف فرما تھے۔
محمد اسلمؔ کولسری نے اپنی خوبصورت نظامت کے ذریعہ سامعین کو مشاعرے سے ایسا ہم آہنگ اور مربو ط رکھا کہ میرِ مشاعرہ تک ہال ویسا ہی بھرا ہوانظر آ رہا تھا جیسا کہ آغازِ مشاعرہ کے وقت تھا۔تما م شعرا نے اپنے خوب صورت اشعار پر داد سمیٹی خصوصاً میرِ مشاعرہ جناب گلزار صاحب نے اپنی متحرک تجریدی تمثیلات و لفظیات سے ہم آہنگ نظمیں پیش کر کے مشاعرہ لوٹ لیا۔ تین بجے صبح تک جاری رہنے والے اِس عظیم الشان عالمی مشاعرے میں شروع سے آخر تک پورا ہال سیکڑوں سامعین کی تالیوں اور واہ واہ ، داد و تحسین ،آفریں آفریں اور بہت خوب بہت خوب جیسے خوب صورت الفاظ اورتبصروں سے گونجتا رہا۔ شعرأ کا کلام نذرِ قارئین:
گلزارؔ صاحب
؂ لفظ کاغذ پہ بیٹھتے ہی نہیں
اُڑتے پھرتے ہیں تتلیوں کی طرح
؂ آئینہ دیکھ کر تسلی ہوئی
ہم کو اس گھر میں جانتا ہے کوئی
(گلزار صاحب سے بہت سی نظمیں سنی گئیں)
ڈاکٹر پیرزاداہ قاسمؔ
؂ آپ کتنے سادہ ہیں ،چاہتے ہیں بس اتنا
ظلم کے اندھیرے کو رات کہ دیا جائے
ڈاکٹر سید تقیؔ عابدی
؂ عجیب درد کی دنیا میں جی رہے ہیں لوگ
کہ زخم کھانے لگے اور مسکرانے لگے


منظرؔ بھوپالی
؂ زندگی کے لیے اتنا نہیں مانگا کرتے
مانگنے والے سے کاسہ نہیں مانگا کرتے
اشفاق ؔ حسین
؂ جیسے سب دیکھ رہے ہیں ،مجھے اس طرح نہ دیکھ
مجھ کو آنکھوں میں نہیں ، دل میں کہیں رہنا ہے
پاپولرؔ میرٹھی
توبہ توبہ پیار کا اظہار ٹیلی فون پر
دوستوں سے کرنا ذکرِیار ٹیلی فون پر
چار عاشق کر رہے تھے تذکرہ معشوق کا
ایک جیسی گفتگو تھی چار ٹیلی فون پر
وصیؔ شاہ
؂اُبلتے پانی میں چہرہ نظر نہیں آتا
تمھارا غصہ جب اُترے تو فیصلہ کرنا
ڈاکٹر کلیم قیصرؔ
؂پہلے نقطے کو بنایا دائرہ ، پھر تل کیا
اُس نے میرے حال کو ماضی سے مستقبل کیا
زاہد فخریؔ
ڈاکہ پڑنے کا سبب یاد آیا
لوڈشیڈنگ تھی وہ اب یاد آیا
ملنے آیا بھی تو روزہ رکھ کر
میں بھی کم بخت کو کب یاد آیا
شبینہ ادیبؔ
؂یہ اپنے بچوں کو پہلے کھلا کے کھاتے ہیں
یہ ایسی فکر پرندوں میں کون رکھتا ہے
ف۔س۔اعجازؔ
؂جو نور میرا ہے اُس کو دنیا نظر میں رکھے
سمندروں میں چراغ لے کر اُتر رہا ہوں
ڈاکٹر منصور عباس رضوی
؂جس کو منزل سمجھ کے ٹھہرا تھا
اُس سے پھر راستے نکلتے ہیں
ندیم ناجدؔ
؂جیسے ہم لوگ دیکھ سکتے ہیں
ایسے کم لوگ دیکھ سکتے ہیں
جہاں آرا تبسمؔ
؂اب تو اس دنیا سے جی جان سے لڑ سکتی ہوں
اب مرے ساتھ مرا حلقۂ احباب بھی ہے
عبدالرحمن فریدؔ ندوی
؂ ہاتھوں کو دعاؤں میں اُٹھانا تو ہے آسان
دل کو بھی مگر واقفِ آدابِ دعا کر
فرزانہ ؔ صفدر
؂ مدتوں سے ہوں کسی یاد کے ایوان میں گم
جب خبر اپنی ملے گی تو غزل لکھوں گی
اسلمؔ کولسری(ناظمِ مشاعرہ)
؂ اُسے جب نیند میں دیکھا،یہی پہلا خیال آیا
اسی عالم میں تھی شاید غزل ، ا یجاد سے پہلے

*****

رپورٹ:شوکت علی نازؔ

دوحہ ۔قطر

Saturday, May 21, 2011

اورنگ آباد کی قدیم تہذیبی اقدارکے فروغ کیلئے اردو مراٹھی مشاعروں پر کارپوریشن ۱۵ ؍ لاکھ خرچ کرے گی


اورنگ آباد کی قدیم تہذیبی اقدارکے فروغ کیلئے اردو مراٹھی مشاعروں پر کارپوریشن ۱۵ ؍ لاکھ خرچ کرے گی
صدر جمعتہ علماء حاجی خلیل خاں کارپوریٹر کے اعزازی کل ہند مشاعرہ نے کامیابی کی نئی تاریخ مرتب کردی
اورنگ آباد ، ۲۱ ؍مئی ، پریس ریلیز
اورنگ آباد جمعتہ علماء کے فعال صدر حاجی خلیل خاں (کارپوریٹر) کی ۴۴ ویں سالگرہ کے پر مسرت موقع پر دکن کلچرل اینڈ اسپورٹس ایسوسی ایشن اور نگ آباد کی جانب سے ان کی تعلیمی سماجی سیاسی و ملی خدمات کے اعتراف میں ۲۰ ؍ مئی کی تاریخی شام موصوف کے نام کی گئی اعزازی مشاعرہ کا افتتاح مئیر اورنگ آباد محترمہ انیتا تائی گھوڑیلے نے کرتے ہوئے حاجی خلیل احمد کی سیاسی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کے سماجی جذبہ و تڑپ کا خصوصیت کے ساتھ تذکرہ کیا بعد ازیں مئیر محترمہ نے صدر مشاعرہ سید ناصر قادری ( ایڈیشنل کلکٹر) کی تجویز پر فور ی عمل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں کارپوریشن کی جانب سے اردو اور مراٹھی کے ادبی مشاعروں کے انعقاد کیلئے پندرہ لاکھ روپیہ کی رقم مختص کی جائے گی اور یہ دونوں مشاعرے اسی مالی سال میں منعقد ہوں گے ۔
قبل ازیں صدر مشاعرہ سید ناصر الدین قادری نے کہا کہ اورنگ آباد قدیم تہذیبی مرکز ہے یہ شہر شمالی و جنوبی ہند کی تہذیبوں کا سنگم ہے دنیائے اردو ادب کو اسی مرکز فکر و فن اورنگ آباد نے غزل کا تحفہ دیا۔ جس کے خالق ولی دکنی تھے ۔ انھوں نے منتظمین کو اس بات کیلئے مبارکباد ہیش کی کہ اس مشاعرکو ولی و سراج سے منسوب کیا گیا صدر نشین نے کہا کہ ولی ،سراج محمود ، سکندر علی وجد، قمر اقبال ، قاضی سلیم سے لیکر بشر نواز تک اس سر زمین پر قابل فخر ادباء و شعراء پروان چڑھے ہیں اسلئے اس تہذیب کی حفاظت اور نئی نسلوں تک منتقلی کا فریضہ ہم اسی طرح کے مشاعروں کے ذریعے ہی کرسکتے ہیں۔ لہذا میونسپل کارپویشن کو چاہئے کہ وہ ہر سال کل ہند نوعیت کے بڑے بڑے مشاعروں کا اہتمام کرے جس کیلئے کم از کم پندرہ لاکھ کا بجٹ مختص کیا جائے ۔ صدر مشاعرہ نے سابق مئیر رشید ماموں کی ادب نوازی پر بھی جم کر داد دی اور کہا کہ آج جس مرکز علم و فن مولانا آزاد ریسرچ سینٹر کی شاندار عمارت میں ہم لوگ جمع ہیں یہ مرکز رشید ماموں کے دور میں تعمیر کروایا گیا تھا۔ صدر مشاعرہ نے یہ بھی کہا کہ بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر غزل نے اپنے رنگ روپ کو بدل لیا ہے آج کی غزل کی معشوقہ سماج ہے جس شاعری میں سماج کیلئے کوئی پیغام نہ ہو وہ شاعری بے معنی ہے وقت کی بربادی ہے انھوں نے شعرائے کرام سے التجا کی کہ دلوں کو جوڑنے والی شاعری کریں جذبات کو بھڑکانا آسان ہے اسے قابو میں رکھنا مشکل ہے ۔ شاعری میں رواداری ، امن امان اخوت و بھائی چارہ پر زور دیا جائے کیونکہ یہ آج ہماری سماجی ضرورت بن چکی ہے۔
اس موقع پر صاحب اعزاز حاجی خلیل خاں کی خدمت میں مشاعرہ کمیٹی کی جانب سے اور معززین شہر مختلف اداروں تنظیموں کی جانب سے پھولوں کے ہار شال اور گلدستے پیش کئے گئے شریک مہمانوں میں بشر نواز کارپوریٹر گھوڑیلے ، شعیب خسرو ، رشید ماموں ، حکیم سلیمان خاں ، پروفیسر قاسم امام ( ممبر سکریٹری اردو اکیڈمی ،ممبئی ) ، نظام الدین فاروقی (اردو ٹائمز ممبئی ) اور کئی معززین موجود تھے ۔سبھی مہمانوں کا خیر مقدم کنوینرس مشاعرہ غضنفر جاوید، خالد محمود خاں ، سالک حسن خاں نے استقبال کیا۔ ناظم مشاعرہ اثر صدیقی کی دلنشین تمہیدی تقریر کے ساتھ صالح تابش کی مترنم نعت سے ہوا بعد ازیں ممبئی کے معروف حکیم سلیمان خاں طور نے اپنا کلام پیش کرکے مشاعرہ کی فضا بنادی ۔
رات ۲ بجے تک جاری رہے اس مشاعرہ کو سننے کیلئے اورنگ آباد کے ہر طبقہ و حلقہ کے باذوق افراد کی کثیر تعداد میں شریک رہے۔ جس کے سبب مولانا آزاد ریسرچ سینٹر کا پر شکوہ ہال اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کررہا تھا۔ ہال کے وسیع کھلے لان میں کلوز سرکٹ ڈسپلے سے بھی سینکڑوں ناظرین مستفیض ہوئے مشاعرہ میں اپنا کلام سنانے والوں میں بشر نواز میر ہاشم ، اشوک ساحل، اشفاق مارولی ، ظہیر قدسی ، پروفیسر قاسم امام ، شکیل قریشی ، چراغ الدین چراغ ، مسعو د خاں ، امی احمد آبادی ، ڈاکٹر جلیل الرحمن ، حامد بھساولی ، صالح بن تابش، ریکھا روشنی ، پروفیسر عائشہ سمن ، عطا حیدر آبادی ، سراج شولا پوری ، فیروز رشید شامل تھے۔مشاعرہ و تقریب تہنیت کی کامیابی پر صاحب اعزاز خلیل خاں کا رپوریٹر نے تمام شرکاء و معاونین کا شکریہ ادا کیا۔
فوٹو کیپشن :تہنیتی کل ہند مشاعرہ میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے سید ناصر قادری اسٹیج پر موجود دیگر معززین
***

Thursday, January 06, 2011

یوم حسین

بروز پیر مورخہ 3 جنوری 2011ء کو اسلام جمخانہ ممبئی کے جابیر ہال میں شام 7 بجے کلچرل ہاؤس آف دی اسلامیک ریپبلیک آف ایران ممبئی ۔اور سہیوگ کلچرل سوسائٹی ممبئی کے زیر اہتمام ''یوم حسین ''، وحدت اے ملّت '' اور روحانی مشاعرہ منعقد کیا گیا ۔اس پروگرام کی نظامت سامی بوبرے صاحب ( پریسیڈنٹ آف سہیوگ کلچرل سوسائٹی اور ایڈیٹر آف انڈو گلف ٹائمس اور صبح ۔امید) نے کیں۔ اس مجلس میں حضرت امام حسین کو خراج عقیدت پیش کی گئی اور حمد ،نعت گوئی ، منقبت ،اور سلام پڑھے گۓ ۔ اور ایمان کو تازہ کیا ۔ اس روحانی مجلس میں شہر اور اطراف کی مشہور سو معروف شخصیات موجود تھیں ۔منوّر پیر بھائی ، ممتاز پیر بھائی ،اے آر شیخ صاحب اور صالح محمد صاحب پونے سے تشریف لاۓ تھے ۔ اور دوسرے بہت سے عمائدین شہر موجود تھے ۔ مولانا محمدی نے قراءت کلام پاک کی اور بہت ہی دلفریب انداز میں نذرانہ عقیدت حضرت امام حسین علیہ سلام کو پیش کیا اس کے بعد پھر ڈاکٹر محمودالرحمن صاحب جو کہ ممبئی مرکنٹائیل بینک کے سابق چیئرمین اور جموں و کشمیر کے چیئر مین ہیں ۔ انھوں نے اپنے تاّثرات اردو انگریزی اور فارسی میں پیش کۓ ۔ محمد رضا مرضئی صاحب ڈائریکٹر جنرل آف کلچرل ہاؤس آف دی اسلامیک ریپبلیک آف ایران ) نے اپنے مخصوص انداز میں انگریزی اور فارسی میں اپنے تاثرات پیش کۓ ۔ اس کے بعد روحانی مشاعرہ کا آغازحمد کس ان اشعار سے ہوا ( میری جھولی میں وہ لفظوں کے موتی ڈال دیتا ہے ۔سواۓ اس کے کچھ مانگوں تو ہنس کر ٹال دیتا ہے ۔ اس روحانی مشاعرہ میں شعراء کرام میں پروفیسر عبدالعزیز صاحب ، عبدالحمید ساحل ، نشتر مالکی ،فخرالدین غوری فیض ،فاقیر سلطانپوری ، ساغر ترپاٹھی ،احمد وصی ،اور اکسیر برہانپوری نے اپنے کلام ہندی عربی انگریزی اور اردو میں سناۓ ۔اور ایک روحانی سماں باندھ دیا اور مجمع کو محظوظ کر دیا ۔ آخر میں حافظ دلوی صاحب نے اپنا کلام سناکر تمام مہمانان کا اظہار تشکّر ادا کیا ۔ یہ مجلس اور روحانی مشاعرہ بہت ہی کامیاب رہا ۔ اس کے بعد ضیافت کا انتظام کیا گیا تھا ۔۔

ساحر شیوی کی خدمات


شعبئہ اردو ممبئی یونیورسٹی اور کو
کن اردو رائٹرس ممبئی کے زیر اہتمام ڈپارٹمنٹ آف کیمیسٹری ممبئی یونیورسٹی کالینہ سانتاکروز ممبئی کے سیمینار ہال میں مشہور شاعر و ادیب ( ساحر شیوی ) کی انگلستان میں اردو اور ساحر شیوی کی خدمات پر بروز منگل مورخہ 4 جنوری 2011ء کو جناب علی ایم شمسی کی صدارت میں ایک سمپوزیم منعقد کیا گیا ۔اس سمپوزیم میں شہر کی علمی و ادبی ا مشہور و معروف اہم شخصیات موجود تھیں ۔ اور اس موقع پر جناب عبدالاحد ساز ، ڈاکٹر فراز حامدی ، جناب انجم عبّاسی اور ڈاکٹر غزالہ ناروی نے ساحر شیوی صاحب کی انگلستان میں اردو کی خدمات پر اظہار خیال کیا ۔اور آپ کی خدمات کا اعتراف کیا ۔اس موقع پر ساحر شیوی کی شاعری سے متعلق ڈاکٹر فراز حامدی کی مرتبہ کتابوں کا اجرا ء ہوا اور مرتّب کو دی گئ اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری اور یادگار تمغہ بھی سیش کیا گیا ۔ اس سمپوزیم کے بعد ایک شعری محفل بھی منعقد کی گ‏ئ جس کی صدارت ساحر شیوی صاحب نے کیں ۔اور شعرآء کرام میں فاروق الرحمن ، عبدالاحد ساز ، زاحد حسین ، زبیر اعظمی ، عبید اعظم اعظمی ، احمد وصی ، فاروق آشنا ، یعقوب راہی ، پرویو عالم مختار ، انجم عباسی اور وقار قادری نے اپنے کلام سناکر مجمع کو محظوظ کیا ۔ یہ پروگرام کافی کامیاب رہا ۔

Sunday, January 02, 2011

رحمت فاؤنڈیشن

بروز اتوار مورخہ 19 دسمبر2010ء کو بمقام ماہم آر،سی اسکول ممبئ میں شہید وطن اشفاق اللّہ خان اور دیگر مجاہدین آزادی کی یاد میں کل ہند مشاعرہ اور جلسہ کا پروگرام منعقد کیا گیا ۔اس پروگرام میں مہمان خصوصی کے طور پر حکومت مہاراشٹر ہوم ڈپارٹمنٹ کی سابق ایڈیشنل چیف سکریٹری چندرا آئنگر نے شرکت کی ۔پھر رحمت فاؤنڈیشن کے روح رواں اور صدر ڈاکٹر امیرانور نے پروگرام کے مقاصد بیان کۓ ۔اور یہ بات خاص طور تر نظر ّثانی کی کہ اس جلسہ کا اصل مقصد نہ صرف 14 سالوں سے اشفاق اللّہ خان جیسے شہید وطن اور دیگر مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو منظرعام پر لانا ہے بلکہ جن شہیدوں نے وطن کے نام پر سب کچھ قربان کر دیا ایسے مجاہدین آزادی کے کارناموں کو خراج تحسین کا نذرانہ پیش کرنا تھا ۔اس وقت شہید ہیمنت کر کرے کو یاد کیا گیا ۔اور مجاہدین آزادی ٹرافی پیش کی گئی ۔پروگرام میں محمد اسحاق پٹیل ،اقبال میمن آفیسر ،مصطفی پنجابی ،غلام پیش امام ،داؤد خان ،فرید بٹاٹا والا ، فلم ایکٹر رزّاق خان ،آئی پی ،ایس افسر قیصر خالد ، اے سی پی جو گائيگواڑ، شمشیر پٹھان ،پروفیسر قاسم امام اوردیگر معزّز شعراء کرام نے شرکت کی ۔

مشاعرہ اور اجراء اسماعیل یوسف کالج

مورخہ 21 دسمبر 2010ء اسماعیل یوسف کالج کے زیر سالانہ فنکس فیسٹیول اور مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ اس کی صدارت عبدالاحد ساز نے کیں ۔ اور اس کی نظامت کے فرائض اّّثر صدیقی نے انجام دیۓ ۔ اس مشاعرہ کے کنوینر مشہور و معروف شاعرو پروفیسر ڈاکٹر کلیم ضیاء تھے ۔ شہر اور اطراف کے تمام مشہور ومعروف شعراء کرام موجود تھے ۔ ناظم مشاعرہ اثر صدیقی تھے ۔ابراہیم اشک ، حامد اقبال صدیقی ، عرفان جعفری ،عبید اعظم اعظمی ،پروفیسر عائشہ شیخ ،یوسف دیوان ،یوسف یلغا ر، نذر بجنوری اور شمیم طارق نے اپنے کلام پیش کرکے مجمع کو مسحور کر دیا ۔ اور اس خاص موقع پر ڈاکٹر کلیم ضیاء کی ایک دلچسپ کتاب ''کھا چڑی " کا اجراء جناب ابراہیم اشک صاحب اور دوسرے معزّزین کے ہاتھوں کیا گیا ۔ یہ مشاعرہ ا علمی ،ادبی اور ّّثقافتی تھا کافی کامیاب رہا ۔
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP