از: حامد الانصاری انجم، سنت کبیر نگر، اتر پردیش، ہندوستان
ماحول ہے تاریک فضاؤں میں دھواں ہے
جس سمت نظر اُٹھتی ہے وحشت کا سماں ہے
انجام کی کچھ فکر نہ احساسِ زیاں ہے
یہ میرا زمانہ ہے یہی میرا جہاں ہے
کیا چیز نہیں میرے یہاں خیر سے ہمدم
جنگ و جدل و عصبیَّت و تیغ و سناں ہے
کہنے کے لئے آج ہیں آزاد یقینا
لیکن جبیں پہ ثبت غلامی کا نشاں ہے
گلشن کی تباہی کے یہ آثار ہیں اے دل
لرزیدہ و ترسیدہ بہار اور خزاں ہے
تم کہتے ہو انسانوں کی بستی ہے یہ بستی
لیکن مجھے بتلاؤ تو انسان کہاں ہے
یہ مشق ستم کس لئے اے بانیِ بیدار
ہر لب پہ تشکر کی جگہ آہ و فغاں ہے
باطل تو ہے آزاد مگر حق ہے مقیَّد
’’آواز دو انصاف کو انصاف کہاں ہے ‘‘
شہرہ ہے ترقی کا ترانے ہیں خوشی کے
نابود اگر ہے تو فقط امن و اماں ہے
اخلاق و محبت ہو کہ اخلاص و وفا ہو
یہ چیز مرے دیس میں کمیاب وگراں ہے
تم نے کیا شاہین کو پابند نشیمن
ڈنکا یہ بجاتے ہو یہاں امن و اماں ہے
افتادہ سرراہ ہے کس کا یہ جنازہ
پتھرائی ہوئی آنکھ ہے خاموش زباں ہے
یہ کیسا زمانہ ہے اور یہ کیسی روش ہے
ناقوس کی لَے میں ڈھلی آواز اذاں ہے
اب حق و صداقت کے عَلَم دار وہی ہیں
حق بات کی تائید جنھیں بارِ گراں ہے
اربابِ غرض لاکھ مِٹائیں اِسے انجم
یہ مِٹ نہیں سکتی کبھی یہ اردو زباں ہے
پیش کش : سلمان فیصل، نئی دہلی
Friday, June 03, 2011
Thursday, June 02, 2011
حامد اقبال صدیقی کی تازہ ترین غزل

ذراسی بات ہو کیا ،کیا سوال کرتا ہے
میرا ہنر مجھے اکثر نڈھا ل کرتا ہے
وہ چاٹ لیتا ہے ۔ دیمک کی طرح مستقبل
تمہیں پتہ نہیں ماضی جو حال کرتا ہے
بڑے قریب سے ہو کر گزر گئی دنیا
ملا نہ اس سے میرا دل کمال کرتا ہے
میں چاہتا ہوں مراسم بس ایک سمت چلے
مگر وہ خود ہی جنوب و شمال کرتا ہے
میرے وجود کو صدیوں کا سلسلہ دے کر
وہ کون ہے جو مجھے لا زوال کر تا ہے
: حامد اقبال صدیقی
Wednesday, June 01, 2011
غزل'' قیصرالجعفری
دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہو جائي گے ایسا لگتا ہے
کتنے دن کے پیاسے ہوں گے یاروں سوچو تو
شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے
آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن
آتے جاتے جو ملتا ہے تم سا لگتا ہے
اس بستی میں کون ہمارے آنسو پوچھے گا
جو ملتا ہے اس کا دامن بھیگا لگتا ہے
دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہے
شام ڈھلے اس سونے گھر میں میلہ لگتا ہے
کس کو پتھر ماروں قیصر کون پرایا ہے
شیش محل میں اک اک چہرا ، اپنا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہو جائي گے ایسا لگتا ہے
کتنے دن کے پیاسے ہوں گے یاروں سوچو تو
شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے
آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن
آتے جاتے جو ملتا ہے تم سا لگتا ہے
اس بستی میں کون ہمارے آنسو پوچھے گا
جو ملتا ہے اس کا دامن بھیگا لگتا ہے
دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہے
شام ڈھلے اس سونے گھر میں میلہ لگتا ہے
کس کو پتھر ماروں قیصر کون پرایا ہے
شیش محل میں اک اک چہرا ، اپنا لگتا ہے
1 comments
Labels:
ghazal,
غزل،urdu,
قیصرالبعفری ل
ملت کی ترجمانی کے دعویدار یہ اردو کے اخبارات E-mail - Parvez ahmed
اردو اخبارات کی بھی کہانی عجیب ہے۔ ہر اردو اخبار کے اپنے جداگانہ دعوے ہیں سب کی اپنی جداگانہ دلیلیں ہیں کہ کون کس قدر قوم کا بہی خواہ ہے۔بلکہ اس سے بھی دو قدم آگے جا کر انکا یہ دعویٰ کہ انکے علاوہ کوئی دوسرا قوم مسلم کا نقیب و ترجمان ہو ہی نہیں سکتا ۔میری عمر اس وقت بیالیس سال ہے اور کم وبیش بارہ سال کی عمر سے اردو اخبارات کا مطالعہ کر رہا ہوں ۔یعنی جب مجھے اردو پڑھنا آگیا تب سے ہی اخبار بینی کا نشہ سر چڑھ گیا جس سے آج تک مخمور ہوں۔کیا کروں کچھ عجیب ہی نشہ ہے یہ اترتا ہی نہیں ۔اور جب سے ہی اردو اخبارات کی اپنی لاف گزاف دعووؤں سے سمع خراشی کروا رہا ہوں ۔ذیل میں میں چند اردو اخبارات کے حالات کو نام نہ لکھ کر اشاروں میں پیش کر رہاہوں۔اگر اس میں کچھ بھی غلط ہو تو ہمارا میل باکس حاضر ہے۔اس پر آپ اپنے مثبت یا منفی احساسات بھیج سکتے ہیں ۔
آج سے پچیس سال قبل کلکتہ سے ایک اخبار بڑے بلند بانگ دعووں کے ساتھ اردو صحافت کے افق پر طلوع ہواغالباً یہ ۱۹۸۲ ء کی بات ہے ۔اس اخبار نے اپنے ایک اداریہ کے ذریعہ اپنی پالسی کی وضاحت کی تھی اور اس کا دعویٰ تھا کہ وہ کبھی بھی ملت کی ترجمانی سے دستبردار نہیں ہوگا ،خواہ اس راہ میں اسے کتنے ہی امتحانوں سے کیوں نہ گزرنا پڑے اور کیسی ہی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔لیکن صرف چار پانچ سال کے قلیل عرصہ میں ہی میں نے اس کی پالسی میں واضح تبدیلی محسوس کی۔عام طور پر جو اردو اخبارات تصور دیتے ہیں اس میں ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ انہیں سرکاری ،نیم سرکاری اور پرئیویٹ کمپنیوں کے اشتہارات نہیں دئے جاتے جو اخبارات کی زندگی ہوتے ہیں ۔بجا سوچ ہے لیکن بھائی یہ بلند وبانگ دعوے کی کیا ضرورت ہے کہ ’’ہم اخبار تو بند کردیں گے لیکن قوم کی غیرت کا سودا نہیں کریں گے‘‘۔ یہ بات اپنی جگہ پر سو فی صد درست ہے آج کے دور میں اخبار نکالنا اور اسے بغیر آلودگی کے کامیابی کے ساتھ چلانا کار محال ہی ہے۔اس کا احساس قوم کو اور قوم کے سچے ہمدرد کو ہونا چاہیئے کہ اخبار کی کیا ضروریات ہیں اور کس طرح اس آلائش سے بچاکرایک مشن ایک تحریک میں بدلا جائے۔کیا مسلمانوں کا کوئی ایسا اخبار نہیں نکل سکتا جو با لکل بے باک اور بے لوث ہو۔جو باہر کے دشمنوں کی خبر لینے سے پہلے اپنے اندر چھپے آستین کے سانپوں کی خبر لے۔میرے خیال میں اس طرح کے اخبار کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ کیوں کہ آج اردو اخباروں کی پہچان قوم کے سوداگر کی حیثیت سے ہے ۔ مسلمانوں کے پاس نہ تو سرمایہ کی کمی ہے نہ ہی تعلیمیافتہ پروفیشنلس کی کمی ہے، کمی ہے تو صرف عقل کے ساتھ قوم کے لئے بے لوث خدمت کے جذبہ کی۔نیچے میں اپنے دعووں کی صداقت میں چند حقائق پیش کر رہا ہوں۔جس سے قارئین کو اندازہ لگانے میں آسانی ہوگی کہ یہ نام نہاد اردو کے اخبارات اپنے دعووں میں کتنے سچے ہیں ۔جس طرح کے دعوے ہمارے اسلاف نے کیا اور اسے کما حقہ نبھایا۔ذرا ہم پیچھے کی جانب مڑ کر تائرانہ نظر ان پر انکی بے مثال قربانیوں پر ڈال لیں۔لیکن ہمیں فرصت ہی کدھر ہے،ہم صرف جھوٹے دعوے کر کے قوم کو گمراہ کرکے اپنی پیٹھ خود ہی تھپتھپانا چاہتے ہیں ۔بہر حال یہ تو آج کے دور کے اردو اخبارات کی ایک خامی رہی اب ایک نظر ادھر بھی ڈالئے کہ اردو اخباروں میں آپسی چپقلش اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی اردو اخبار نو آموز اخبار کے پیچھے پڑ جاتا ہے،اور اسکی چھوٹی چھوٹی خامیوں کو بھی ایک بڑے مسئلے کے طور پر پیش کرتا ہے۔بسا اوقات تو انکی خوبیوں کو بھی بہت ہی مہیب غلطی بنا کر پیش کرتا ہے اور باور یہ کراتا ہے کہ صرف وہی قوم کا واحد نمائندہ ہے اور اسے جتنی فکر ہے قوم کے مستقبل کی کسی اور کو نہیں ہے۔چنانچہ دہلی سے نکلنے والے ایک ہفتہ روزہ کا مقابلہ ایک دیگر ہفتہ روزہ سے ہوا تو برسوں ایک دوسرے کی خامیاں گنانے اور اپنے آپ کو قوم کا صحیح نمائندہ جتانے کی جنگ جاری رہی۔ یہ بات بھی دھیان دینے کے قابل ہے کہ ان دونوں ہفتہ روزہ کے مالک و ایڈیٹروں نے اسی بہا نے اقتدار کے مزے لئے اس میں سے ایک صاحب تو اب بھی کسی ملک کی سفارت پر معمور ہیں اس سے قبل راجیہ سبھا کے مزے بھی لئے، انہوں نے اپنے کیریئر کی شروعات دہلی کے مشہورہوٹل دستر خوان کریم کے ویٹر کی حیثیت سے کیاتھا ،اس پر مشہور صحافیہ تولین سنگھ نے بھی چار سال قبل ایک کالم ’’ویٹر سے صحافی تک‘‘ تحریر کیا تھا۔دوسرے جنکا ہفتہ روزہ آج بھی جاری ہے،یہ صاحب بھی تقریباً سبھی بڑی سیاسی پارٹیوں میں رہے اور پارلیمنٹ کی ممبری بھی حاصل کی۔مذکورہ ایڈیٹر اور اس ہفتہ روزہ کے مالک نے اتفاقی طور پر یا کانگریس کی مسلم دشمنی کہہ لیجئے کے طفیل کسی خالصتانی علٰحیدگی پسند لیڈر کے انٹر ویو کی اشاعت کے جرم میں تہاڑ جیل میں کچھ روز بتائے ،جو انکے لئے منافع کا سودا بن گیا۔ان کے بارے یہ بات بھی مشہور ہوئی تھی کہ ایک نجی محفل میں کسی نے کہہ دیا کہ صاحب آپ تو قوم کے بہت ہی غمخوار ہیں،جس پر انہوں برجستہ جواب دیاکہ بھائی یہ ہمارا کاروبار ہے۔ اسی طرح اوپرکلکتہ کے جس اخبار کا تزکرہ ہوا ہے اس کی اشاعت کے بعدہی پہلے سے موجود اخبار (جس کے ایڈیٹر خیر سے اب راجیہ سبھا کے بھی مزے لوٹ رہے ہیں اور کئی سال سے اخبار بند رہنے کے بعد کچھ لوگوں نے ملکر اسے خرید لیا اور اس طرح اسکی اشاعت پھر سے ممکن ہوسکی)نے اسکی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور کئی سال تک دونوں اخباروں میں لفظی جنگ کا سلسلہ چلتا رہا۔اس دوران دونوں ایک دوسرے کی ٹوہ میں لگے رہے اور خامی تو خامی ٹھہری خوبیوں کو بھی بہت بڑی برائی بنا کر ایک دوسرے سے اپنی بھڑاس نکالتے رہے۔
ممبئی سے بھی کئی اردو اخبار اپنا پنا مقام بنائے ہوئے ہیں لیکن اردو اخباروں کی وہی دیرینہ چپقلش یہاں بھی جاری ہے۔ایک ملٹی ایڈیشن اردو اخبار کے بارے میں تو یہاں تک کہا جاتا ہے کہ وہ امریکہ اور سرائیل کے اشارے پر کام کر رہا ہے ۔اس اخبار نے ابھی حال میں اشاعت کا اپنا پانچ سال پورا کیا ہے۔دوسرا ایک اور ایک اور اردو اخبار جسنے کچھ روز قبل اشاعت کے تیسرے سال میں قدم رکھا ہے،صحافت کے میدان میں قدرے بہتر کہہ سکتے ہیں لیکن یہ اخبار بھی کمیونسٹوں کو پروموٹ کرنے میں لگا ہوا ہے۔بہر حال اتنا تو ہے کہ اس نے اب تک خم ٹھونک کر ملت کی ترجمانی کا دعویٰ نہیں کیا ہے،یعنی پوری طرح سے منافقت میں شامل نہیں ہے۔لیکن اسے مسلمانوں کی پرانی روایتوں سے بے چینی رہتی ہے۔اور مغربی دنیا اور اسکے کلچر کی نقابت کے فرائض انجام دیتا ہے۔جس ملٹی ایڈیشن کا میں نے ذکر کیا جسے ممبئی میں پانچ سال ہوئے ہیں اسکے ممبئی کے مدیر کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگائیے اس ملٹی ایڈیشن کے ایک سینیئر ممبئی آئے انہوں نے مدیر صاحب سے کہا کہ رپورٹروں اور اسٹنگروں کی لسٹ دیجئے انکو مستقل کردیا جائے،آپ کویہ جان کر حیرت ہوگی کہ ان مدیر صاحب نے انتہائی سطحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سینیئر سے کہا کہ ارے صاحب رہنے دیں انکے ۔۔۔۔۔پر چربی چڑھ جائے گی۔آپ خالی جگہ کا مطلب سمجھ سکتے ہیں کہ انہوں نے کیا کہا ہوگا۔یہ لوگ ہیں قوم کے ترجمان جن کی سوچ اور زبان کا حال یہ ہے۔
تقریباً چھ سات ماہ قبل tv9 پر مہاراشٹر وقف بورڈ کی بد عنوانیوں کی رپورٹ کئی دن تک آتی رہی لیکن مجال ہے جو کسی اردو اخبار نے اس کا نوٹس لیا ہو۔صرف ایک اخبار نے تھوڑی سی جرا ت دکھائی لیکن ان دونوں اخباروں نے تو بالکل ان خبروں کا بائکاٹ ہی کردیا ،اور وہ ایسا کیوں نہیں کریں گے ،میری جانکاری کے مطابق ایک اخبار (جس نے اپنا ابھی پچاس سالہ جشن زریں منایا ہے)میں انکا کچھ شیئر ہے تو ملٹی ایڈیشن کے ممبئی کے مدیر کو ایک فلیٹ دیا ہے۔پھر بھلا کیوں کوئی اخبار وزیر اوقاف کو آئینہ دکھانے کی جرات کریگا۔اسی طرح ممبئی میں لاتعداد قوم کے نام پر سیاست کے ایوانوں اور پولس کے تھانوں تک میں دلالی کرنے والے ہر گلی ہر محلہ میں ایمان فروش ضمیر فروش قائد اور صحافی دستیاب ہیں۔
مجھے خاص طور پر ممبئی کے اس روزنامہ سے متعلق بات کرنا تھی جس نے اپنا جشن زریں ممبئی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں منایاہے۔ اور اس کا عنوان ’’قوم کی ترجمانی کے پچاس سال‘‘ اگر اس کے بجائے وہ یہ عنوان رکھتے ’’اردو صحافت میں کامیابی کے پچاس سال‘‘ تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوتا ۔لیکن انہوں نے اپنی مقبولیت میں اضافہ کے لئے ایک ہمالیائی جھوٹ کا سہارا لیا ہے۔اس کے بر عکس آپ انکے دعوے کو تبدیل کرکے اس طرح کر سکتے ہیں ’’ سیاست کے ایوانوں میں قوم کی دلالی کے پچاس سال‘‘ اور یہ سچائی کے اتنا ہی قریب ہے۔جیسے دن میں سورج کی موجودگی۔باخبر اور بیدار قارئین اس سے سو فی صد اتفاق کریں گے۔در اصل اپنی ایک تو سادہ لوح ہے اور دوسرے ناخواندگی کی شکار ہے۔جس کی وجہ سے وہ اس طرح کے جذباتی استحصال اور جذباتی بلیک میلنگ کو سمجھ نہیں پاتے۔اردو اخباروں کے بارے میں چند اور دلچسپ حقائق بعد میں تحریر کرونگا اور کوشش کرون گا کہ شواہد کی روشنی میں بات کی جائے۔لیکن جب تک قوم کے سنجیدہ طبقہ کو یہ ضرور سو چنا چاہئے کہ کیا مسلمانوں کا کوئی ایسا اخبار نہیں نکل سکتا جو اخبار ہو۔تلبیس حق وباطل کا ملغوبہ نہ ہو۔
آج سے پچیس سال قبل کلکتہ سے ایک اخبار بڑے بلند بانگ دعووں کے ساتھ اردو صحافت کے افق پر طلوع ہواغالباً یہ ۱۹۸۲ ء کی بات ہے ۔اس اخبار نے اپنے ایک اداریہ کے ذریعہ اپنی پالسی کی وضاحت کی تھی اور اس کا دعویٰ تھا کہ وہ کبھی بھی ملت کی ترجمانی سے دستبردار نہیں ہوگا ،خواہ اس راہ میں اسے کتنے ہی امتحانوں سے کیوں نہ گزرنا پڑے اور کیسی ہی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔لیکن صرف چار پانچ سال کے قلیل عرصہ میں ہی میں نے اس کی پالسی میں واضح تبدیلی محسوس کی۔عام طور پر جو اردو اخبارات تصور دیتے ہیں اس میں ایک خاص بات یہ ہوتی ہے کہ انہیں سرکاری ،نیم سرکاری اور پرئیویٹ کمپنیوں کے اشتہارات نہیں دئے جاتے جو اخبارات کی زندگی ہوتے ہیں ۔بجا سوچ ہے لیکن بھائی یہ بلند وبانگ دعوے کی کیا ضرورت ہے کہ ’’ہم اخبار تو بند کردیں گے لیکن قوم کی غیرت کا سودا نہیں کریں گے‘‘۔ یہ بات اپنی جگہ پر سو فی صد درست ہے آج کے دور میں اخبار نکالنا اور اسے بغیر آلودگی کے کامیابی کے ساتھ چلانا کار محال ہی ہے۔اس کا احساس قوم کو اور قوم کے سچے ہمدرد کو ہونا چاہیئے کہ اخبار کی کیا ضروریات ہیں اور کس طرح اس آلائش سے بچاکرایک مشن ایک تحریک میں بدلا جائے۔کیا مسلمانوں کا کوئی ایسا اخبار نہیں نکل سکتا جو با لکل بے باک اور بے لوث ہو۔جو باہر کے دشمنوں کی خبر لینے سے پہلے اپنے اندر چھپے آستین کے سانپوں کی خبر لے۔میرے خیال میں اس طرح کے اخبار کی ضرورت آج پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ کیوں کہ آج اردو اخباروں کی پہچان قوم کے سوداگر کی حیثیت سے ہے ۔ مسلمانوں کے پاس نہ تو سرمایہ کی کمی ہے نہ ہی تعلیمیافتہ پروفیشنلس کی کمی ہے، کمی ہے تو صرف عقل کے ساتھ قوم کے لئے بے لوث خدمت کے جذبہ کی۔نیچے میں اپنے دعووں کی صداقت میں چند حقائق پیش کر رہا ہوں۔جس سے قارئین کو اندازہ لگانے میں آسانی ہوگی کہ یہ نام نہاد اردو کے اخبارات اپنے دعووں میں کتنے سچے ہیں ۔جس طرح کے دعوے ہمارے اسلاف نے کیا اور اسے کما حقہ نبھایا۔ذرا ہم پیچھے کی جانب مڑ کر تائرانہ نظر ان پر انکی بے مثال قربانیوں پر ڈال لیں۔لیکن ہمیں فرصت ہی کدھر ہے،ہم صرف جھوٹے دعوے کر کے قوم کو گمراہ کرکے اپنی پیٹھ خود ہی تھپتھپانا چاہتے ہیں ۔بہر حال یہ تو آج کے دور کے اردو اخبارات کی ایک خامی رہی اب ایک نظر ادھر بھی ڈالئے کہ اردو اخباروں میں آپسی چپقلش اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی اردو اخبار نو آموز اخبار کے پیچھے پڑ جاتا ہے،اور اسکی چھوٹی چھوٹی خامیوں کو بھی ایک بڑے مسئلے کے طور پر پیش کرتا ہے۔بسا اوقات تو انکی خوبیوں کو بھی بہت ہی مہیب غلطی بنا کر پیش کرتا ہے اور باور یہ کراتا ہے کہ صرف وہی قوم کا واحد نمائندہ ہے اور اسے جتنی فکر ہے قوم کے مستقبل کی کسی اور کو نہیں ہے۔چنانچہ دہلی سے نکلنے والے ایک ہفتہ روزہ کا مقابلہ ایک دیگر ہفتہ روزہ سے ہوا تو برسوں ایک دوسرے کی خامیاں گنانے اور اپنے آپ کو قوم کا صحیح نمائندہ جتانے کی جنگ جاری رہی۔ یہ بات بھی دھیان دینے کے قابل ہے کہ ان دونوں ہفتہ روزہ کے مالک و ایڈیٹروں نے اسی بہا نے اقتدار کے مزے لئے اس میں سے ایک صاحب تو اب بھی کسی ملک کی سفارت پر معمور ہیں اس سے قبل راجیہ سبھا کے مزے بھی لئے، انہوں نے اپنے کیریئر کی شروعات دہلی کے مشہورہوٹل دستر خوان کریم کے ویٹر کی حیثیت سے کیاتھا ،اس پر مشہور صحافیہ تولین سنگھ نے بھی چار سال قبل ایک کالم ’’ویٹر سے صحافی تک‘‘ تحریر کیا تھا۔دوسرے جنکا ہفتہ روزہ آج بھی جاری ہے،یہ صاحب بھی تقریباً سبھی بڑی سیاسی پارٹیوں میں رہے اور پارلیمنٹ کی ممبری بھی حاصل کی۔مذکورہ ایڈیٹر اور اس ہفتہ روزہ کے مالک نے اتفاقی طور پر یا کانگریس کی مسلم دشمنی کہہ لیجئے کے طفیل کسی خالصتانی علٰحیدگی پسند لیڈر کے انٹر ویو کی اشاعت کے جرم میں تہاڑ جیل میں کچھ روز بتائے ،جو انکے لئے منافع کا سودا بن گیا۔ان کے بارے یہ بات بھی مشہور ہوئی تھی کہ ایک نجی محفل میں کسی نے کہہ دیا کہ صاحب آپ تو قوم کے بہت ہی غمخوار ہیں،جس پر انہوں برجستہ جواب دیاکہ بھائی یہ ہمارا کاروبار ہے۔ اسی طرح اوپرکلکتہ کے جس اخبار کا تزکرہ ہوا ہے اس کی اشاعت کے بعدہی پہلے سے موجود اخبار (جس کے ایڈیٹر خیر سے اب راجیہ سبھا کے بھی مزے لوٹ رہے ہیں اور کئی سال سے اخبار بند رہنے کے بعد کچھ لوگوں نے ملکر اسے خرید لیا اور اس طرح اسکی اشاعت پھر سے ممکن ہوسکی)نے اسکی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور کئی سال تک دونوں اخباروں میں لفظی جنگ کا سلسلہ چلتا رہا۔اس دوران دونوں ایک دوسرے کی ٹوہ میں لگے رہے اور خامی تو خامی ٹھہری خوبیوں کو بھی بہت بڑی برائی بنا کر ایک دوسرے سے اپنی بھڑاس نکالتے رہے۔
ممبئی سے بھی کئی اردو اخبار اپنا پنا مقام بنائے ہوئے ہیں لیکن اردو اخباروں کی وہی دیرینہ چپقلش یہاں بھی جاری ہے۔ایک ملٹی ایڈیشن اردو اخبار کے بارے میں تو یہاں تک کہا جاتا ہے کہ وہ امریکہ اور سرائیل کے اشارے پر کام کر رہا ہے ۔اس اخبار نے ابھی حال میں اشاعت کا اپنا پانچ سال پورا کیا ہے۔دوسرا ایک اور ایک اور اردو اخبار جسنے کچھ روز قبل اشاعت کے تیسرے سال میں قدم رکھا ہے،صحافت کے میدان میں قدرے بہتر کہہ سکتے ہیں لیکن یہ اخبار بھی کمیونسٹوں کو پروموٹ کرنے میں لگا ہوا ہے۔بہر حال اتنا تو ہے کہ اس نے اب تک خم ٹھونک کر ملت کی ترجمانی کا دعویٰ نہیں کیا ہے،یعنی پوری طرح سے منافقت میں شامل نہیں ہے۔لیکن اسے مسلمانوں کی پرانی روایتوں سے بے چینی رہتی ہے۔اور مغربی دنیا اور اسکے کلچر کی نقابت کے فرائض انجام دیتا ہے۔جس ملٹی ایڈیشن کا میں نے ذکر کیا جسے ممبئی میں پانچ سال ہوئے ہیں اسکے ممبئی کے مدیر کی ذہنی کیفیت کا اندازہ لگائیے اس ملٹی ایڈیشن کے ایک سینیئر ممبئی آئے انہوں نے مدیر صاحب سے کہا کہ رپورٹروں اور اسٹنگروں کی لسٹ دیجئے انکو مستقل کردیا جائے،آپ کویہ جان کر حیرت ہوگی کہ ان مدیر صاحب نے انتہائی سطحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سینیئر سے کہا کہ ارے صاحب رہنے دیں انکے ۔۔۔۔۔پر چربی چڑھ جائے گی۔آپ خالی جگہ کا مطلب سمجھ سکتے ہیں کہ انہوں نے کیا کہا ہوگا۔یہ لوگ ہیں قوم کے ترجمان جن کی سوچ اور زبان کا حال یہ ہے۔
تقریباً چھ سات ماہ قبل tv9 پر مہاراشٹر وقف بورڈ کی بد عنوانیوں کی رپورٹ کئی دن تک آتی رہی لیکن مجال ہے جو کسی اردو اخبار نے اس کا نوٹس لیا ہو۔صرف ایک اخبار نے تھوڑی سی جرا ت دکھائی لیکن ان دونوں اخباروں نے تو بالکل ان خبروں کا بائکاٹ ہی کردیا ،اور وہ ایسا کیوں نہیں کریں گے ،میری جانکاری کے مطابق ایک اخبار (جس نے اپنا ابھی پچاس سالہ جشن زریں منایا ہے)میں انکا کچھ شیئر ہے تو ملٹی ایڈیشن کے ممبئی کے مدیر کو ایک فلیٹ دیا ہے۔پھر بھلا کیوں کوئی اخبار وزیر اوقاف کو آئینہ دکھانے کی جرات کریگا۔اسی طرح ممبئی میں لاتعداد قوم کے نام پر سیاست کے ایوانوں اور پولس کے تھانوں تک میں دلالی کرنے والے ہر گلی ہر محلہ میں ایمان فروش ضمیر فروش قائد اور صحافی دستیاب ہیں۔
مجھے خاص طور پر ممبئی کے اس روزنامہ سے متعلق بات کرنا تھی جس نے اپنا جشن زریں ممبئی کے ایک پانچ ستارہ ہوٹل میں منایاہے۔ اور اس کا عنوان ’’قوم کی ترجمانی کے پچاس سال‘‘ اگر اس کے بجائے وہ یہ عنوان رکھتے ’’اردو صحافت میں کامیابی کے پچاس سال‘‘ تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوتا ۔لیکن انہوں نے اپنی مقبولیت میں اضافہ کے لئے ایک ہمالیائی جھوٹ کا سہارا لیا ہے۔اس کے بر عکس آپ انکے دعوے کو تبدیل کرکے اس طرح کر سکتے ہیں ’’ سیاست کے ایوانوں میں قوم کی دلالی کے پچاس سال‘‘ اور یہ سچائی کے اتنا ہی قریب ہے۔جیسے دن میں سورج کی موجودگی۔باخبر اور بیدار قارئین اس سے سو فی صد اتفاق کریں گے۔در اصل اپنی ایک تو سادہ لوح ہے اور دوسرے ناخواندگی کی شکار ہے۔جس کی وجہ سے وہ اس طرح کے جذباتی استحصال اور جذباتی بلیک میلنگ کو سمجھ نہیں پاتے۔اردو اخباروں کے بارے میں چند اور دلچسپ حقائق بعد میں تحریر کرونگا اور کوشش کرون گا کہ شواہد کی روشنی میں بات کی جائے۔لیکن جب تک قوم کے سنجیدہ طبقہ کو یہ ضرور سو چنا چاہئے کہ کیا مسلمانوں کا کوئی ایسا اخبار نہیں نکل سکتا جو اخبار ہو۔تلبیس حق وباطل کا ملغوبہ نہ ہو۔
مجروح سلطانپوری-تحریر: صادقہ نواب سحر

اکثر یوں ہوتا ہے کہ انسان اپنی پہچان ساری دنیا میں تو کروا لیتا ہے مگر اپنے ہی گھر میں وہ ایک اجنبی شخصیت بن کر رہ جاتا ہے اور پھر اتفاقاً شاعر ہوگئے تو بات ہی کیا ہے ۔… "بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے "… بہت کم ایسے ہوئے ہیں جو گھر اور باہر دونوں جگہوں پر قابل وقعت، قابل محبت اور قابل اعتماد ہوتے ہیں۔ شاعر اور گیت کار مجروح سلطان پوری انھی چند خوش قسمت لوگوں میں سے تھے ۔ وہ ہر جگہ کامیاب رہے ۔ بحیثیت ادبی شاعر، بحیثیت علمی شاعر، بحیثیت صاحب خاندان۔ انسان باہر کی دنیا میں کتنا ہی کامیاب رہے ، اگر وہ گھر میں کامیاب نہیں تو وہ ادھورا ہے ۔
مجروح صاحب گھر میں رہے یا باہر ان کو اپنے بیوی بچوں، رشتہ داروں، دوستوں کا ہمیشہ خیال رہتا۔ مجروح اپنے بچوں کو مشاعروں میں لے جانا پسند نہیں کرتے تھے البتہ شاعری کے مختلف پہلو انھیں ضرور سمجھا دیا کرتے تھے ۔ تعجب ہوا یہ جان کر کہ انھوں نے اپنے بچوں کو اردو نہیں پڑھائی، شاعری کے لیے ان کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور بچوں نے بھی اس طرف خاص دھیان نہیں دیا۔ I.C.S.C. اسکول کی پڑھائی اور ہوم ورک میں ہی ان کا وقت نکل جاتا تھا! شاید مجروح صاحب اپنے بچوں کو زمانے کی ٹھوکروں سے محفوظ رکھنا چاہتے تھے ۔
بچوں کی پڑھائی اور تربیت میں وہ سمجھوتہ نہیں کرتے تھے ۔ کبھی کبھار اسکول والوں کی کسی کوتاہی کا احساس ہوتا تو اسکول جاکر پرنسپل اور ٹیچروں کو ڈانٹ آتے ۔
وہ بیچارے لحاظ میں خاموش ہو جاتے اور بچے دل ہی دل میں ناموزوں ماحول سے دوچار ہو جاتے ۔ مگر اکثر جب وہ اسکول کے کسی جشن میں شیروانی، سفید کرتا، پاجامہ پہن کر جاتے تو بچوں کو محسوس ہوتا کہ پروگرام کی رونق ہمارے والد سے ہے اور یہ صحیح بھی ہوتا۔
مجروح صاحب کی تین بیٹیاں تھیں نوگل، نوبہار اور صبا اور دو بیٹے ارم اور عندلیب۔ نوگل کینڈا میں ہیں۔ ان کی شادی بھوپال کے بیرسٹر صبا رشید قاضی کے بیٹے وقار قاضی سے ہوئی۔ نوبہارظ انصاری صاحب کے بیٹے خورشید سے بیاہی گئیں۔ صبا، موسیقار نوشاد صاحب کے موسیقار بیٹے راجونوشاد کی بیوی ہیں۔ تین بیٹیوں کے بعد ارم کی پیدائش ہوئی تو مجروح صاحب نے شکیلہ بانوبھوپالی کی قوالی کا پروگرام رکھا۔ ارم جنھیں پیارے امّو کہتے تھے ، ہارٹ اٹیک کا شکار ہوکر بھری جوانی میں اس دنیا سے سدھار گئے ۔ یہ ایسایم ساگر کی بیٹی سے بیاہے گئے تھے ۔ دوسرے بیٹے عندلیب نے فلم لائن جوائن کی۔ "جانم سمجھا کرو" بنائی، لیکن والد کے انتقال کے بعد داڑھی بڑھالی اور اسلام سے قریب ہوگئے ۔
جگر صاحب سے مجروح کی قربت اور محبت مشہور ہے ۔ ایک بار جگر نے ننھی صبا کو ایک روپئے کا نوٹ دیا تھا۔ مجروح صاحب نے صبا کی تصویر کے نچلے حصّے میں نوٹ فریم کروا دیا۔ مگر ایک دن کسی نوکر نے اس نوٹ کو چرالیا۔ یہ واقعہ سناتے ہوئے صبا کی آنکھوں میں والد کے لیے محبت اور بچپن کی یادیں ابھر آئیں۔
مجروح صاحب کے سرپر چشمہ ٹوپی رہتی، گرمی کے موسم میں بھی سویٹر، مفلر، ساتھ رکھتے وجہ سردی کی شکایت۔ انھیں سر میں بہت سردی محسوس ہوتی تھی۔صبا کے گھر جاتے تو سیدھے نوشاد صاحب کے میوزک روم میں چلے جاتے ۔ صبا کو بعد میں خبر ہوتی۔ اکثر شام کو چار بجے وہاں جاتے ۔ باہر ہال میں صبا بیٹھی انتظار کرتی۔ نوشاد صاحب کی دوستی انھیں اتنی ہی عزیز تھی۔ جب وہ ممبئی آتے تھے تو دادر کی ایک چال میں نوشاد صاحب کے ساتھ ہی رہتے تھے ۔ اس وقت وہ مجروح تھے نہ نوشاد نوشاد سے ایسی یاری نبھائی کہ رشتہ داری تک پہنچائی۔
آج رضوی کالج باندرہ کے پڑوس میں 'سی گل بلڈنگ' میں مجروح صاحب کے گھر میں ان کی بیگم فردوس صاحبہ اور عندلیب اپنی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہاں بھی اور اس سے پہلے Lido سنیما کے قریب جوہو کے گھر میں بھی ان کے رشتہ داروں کا آنا جانا لگا رہتا۔ کچھ کو وہ گاؤں سے اپنا کیرئر بنانے کے لیے بلا لیتے ۔ نوکری اور گھر ملنے پر ہی وہ وہاں سے رخصت ہوتے ۔ ان کے ایک رشتہ دار مشتاق جو ان کے سکریٹری بھی تھے ۔ آخر وقت تک ان کے ساتھ رہے ۔ مجروح صاحب کی وفات کے چوتھے دن یعنی 21جون کو ان کا جنازہ بھی اٹھا۔
شاعری کے علاوہ مجروح صاحب کو کچھ اور شوق بھی تھے ۔ جیسے شکار کھیلنا، تاش کھیلنا، اچھا کھانا، فیملی کے ہمراہ سیروتفریح ٹیوی پر کرکٹ اور ہاکی میچ دیکھنا۔ شکار کے سلسلے میں اکثر بھوپال میں اپنے دوست اختر سعید خاں کے یہاں جایا کرتے ۔ مچھلی کے شکار کا بھی شوق تھا۔ اس سلسلے کا ایک دلچسپ قصہ یوں ہے کہ ممبئی کے پوائی لیک میں، جہاں وہ اکثر مچھلی کا شکار کیا کرتے تھے ، ایک بار پوری رات گزار دی۔ آخر مجروح کے کانٹے میں ایک باون پونڈ کی مچھلی لگی۔ مجروح صاحب چھوٹی بوٹ لے کر صبح تک اسے باہر نکالنے کی کوشش کرتے رہے اور کامیابی پائی۔
مجروح صاحب کو لکھنوی کھانا بڑا پسند تھا۔ بیگم فردوس اصلی گھی میں بڑا اچھا کھانا پکاتیں اور وہ بڑے شوق سے کھاتے ۔ گو کہ بہت کم کھاتے … مجروح صاحب حقہ بھی بہت شوق سے پیتے ۔ شام کو آنگن میں بیٹھے ہیں، ہولے (ہرے چنے ) لہسن کی چٹنی کے ساتھ چٹخارے لیتے ہوئے کھا رہے ہیں۔ حقہ بھی چل رہا ہے ۔ ایک زمانہ تھا جب بیگم رشید احمد صدیقی سے شب دیگ پکواتے ، کباب، قورمہ، روغنی روٹی کے ساتھ کھاتے ۔ چاول زیادہ نہ کھاتے ۔ چاول میں صرف پلا? پسند تھا۔ بھْنا قیمہ خاص طور سے پسند تھا۔ شکار کا گوشت خصوصاً تیتر، بٹیر، کلیجی وغیرہ آگ پر بھنوا کر کھاتے ۔ اخیر میں لیلاوتی اسپتال میں داخل کیے گئے تو بگڑتے پرہیزی کھانے سے بیزار تھے ۔ سترہ مئی کو ایڈمٹ ہوئے 20 کو گھر آئے ، جیسے گھر کا کھانا کھانے ہی آئے ہوں۔ 21مئی کو دوبارہ ایڈمٹ کیے گئے اور 23 کی رات انتقال کیا۔
مجروح صاحب کو اپنے گھروالوں سے اس قدر لگا? تھا کہ جہاں جہاں ممکن ہوتا بیوی بچوں کو ساتھ لے جاتے ۔ آج فردوس صاحبہ ذرا سا شوہر کی بات نکلنے پر روتی بلکتی ہیں وقت مرہم نہیں بن پایا تو کیا عجب ہے ۔ پچھلے دنوں پروڈیوسر، ڈائرکٹر ناصر حسین کا انتقال ہوا تو جیسے پرانی یادیں لوٹ آئیں۔ مجروح صاحب نے ناصر حسین کے ساتھ کئی فلمیں کی تھیں۔ بے قرار ہونے لگیں۔ مجروح صاحب کے گیت ٹیوی پر دیکھ سن کر یادوں کی ریل پھر الٹی چلنے لگی۔ مجروح صاحب اپنی بیگم کو یوروپ، کینڈا، جہاں جہاں فلم والے یا ادبی ادارے ٹکٹ دیتے تھے ، ہر جگہ لے گئے ۔ "پکار" فلم تک وہ ان کے ساتھ جاتی رہیں۔ پھر صحت کی خرابی کی وجہ سے اس میں کمی واقع ہوئی۔
مجروح صاحب کو 30 ستمبر1994 میں 93 کا دادا صاحب پھالکے ایوارڈ لینے دلی جانا تھا۔ بچوں کو بھی لے گئے ۔ ہر سال چنڈی گڑھ میں "جشن رفیع" کے موقع پر بہترین گلوکار کو ایوارڈ دیا جاتا ہے ۔ مجروح صاحب کے ہاتھوں ایوارڈ دیا جانا تھا۔ وہاں گئے تو منتظمین سے کہا کہ بیٹی صبا کو شملہ گھما لاؤ۔ انھوں نے شملہ کی سیر کروانے کے ساتھ ساتھ مشاعرے کا انتظام بھی کرلیا۔ مذاقاً کہتے ، "صبا تمھاری بدولت ہم نے شملہ دیکھ لیا۔" بچیوں کی شادی کے موقعوں پر خود انھیں لے جاتے اور شاپنگ کرواتے ۔
مجروح صاحب دوست نواز بھی تھے ۔راہی معصوم رضا، سلمیٰ صدیقی کے علاوہ بہت سی فلمی ادبی اور غیر فلمی لوگوں سے دوستی ہوئی اور اسے نبھایا بھی۔
مجروح صاحب آخری وقت تک تنومند رہے ۔ لیلاوتی میں بھی انھیں یقین تھا کہ سنبھل جائیں گے ۔ یہی جینے کی للک ان میں زندہ دلی بھرتی رہی۔ عمر اور کمزوری سے ہاتھوں میں رعشہ تھا مگر اپنی وفات سے دو مہینے پہلے تک گاڑی خود چلاتے تھے ۔ بچے منع کرتے کہ ہاتھوں میں لرزش ہے تو انھیں ڈانٹتے ۔
مجروح صاحب ادب اور فلم کی بڑی شخصیت ہیں مگر وہ اپنی بڑائی کو گھر نہیں لائے تھے ۔ گھر میں وہ صرف باپ تھے ، نانا، دادا تھے ، شوہر تھے ۔ گھر کے ہیڈ، جن کے سہارے اور بھروسے گھر چلتا ہے ۔ باہر جو جدوجہد کریں سو کریں۔ آپ کے رشتوں پر اس کا کوئی اثر نہیں۔
زی ٹیوی والوں نے "Making of Legend" پروگرام کے لیے جب عندلیب سے پوچھا کہ تمھارے ابا تمھیں کیسے لگتے ہیں تو انھوں نے بڑے فخر سے کہا تھا "Best in the world" یہ نہیں کہ وہ بہت بڑی جائداد چھوڑ گئے ہوں یا دنیا کی تمام نعمتیں بچوں کی جھولی میں ڈالی ہوں۔ مگر یہ تو تھا کہ کسی چیز کی کمی محسوس ہونے نہیں دی۔ عندلیب نے مجھ سے کہا کہ آج کروڑپتیوں کے بچے خودکشی کرتے ہیں کیوں کہ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی انھیں طمانیت نصیب نہیں۔ ہم میں ابا نے وہ کوٹ کوٹ کر بھر دی ہے ۔ گھر میں کبھی فلمی ماحول نہیں رہا۔ شعر خوانی بھی تبھی ہوتی جب مہمان گھر آتے ۔
مجروح صاحب کی غصے کے تعلق سے کئی روایتیں مشہور ہیں۔ کچھ جان پہچان والے ان سے نالاں بھی رہے لیکن بات کچھ ایسی تھی کہ آخری وقت تک انھیں کام کرنا پڑا۔ لہٰذا کچھ چڑچڑے ہو چلے تھے ۔ شروع کے دن جدوجہد کے گزرے ۔ پہلی تین بیٹیاں تھیں ایک ایک کر کے تینوں کی شادی کی بیٹے چھوٹے تھے ۔ کس کے Support پر آرام کرتے ۔ ارم کی موت کے بعد اکثر کہتے "خدا کسی باپ کے کندھے پر بیٹے کا جنازہ نہ اٹھوائے " آخر میں اس بات کا بھی چڑچڑاپن تھا کہ عندلیب کا کچھ کیوں نہیں بن رہا۔ انھیں کام مانگنے کی عادت نہ تھی مگر خوش قسمت تھے ۔ اسپتال میں بھی جتن للت کا اسی سلسلے میں فون آیا تھا۔ زندگی یوں گزرتی رہی کہ روز کنواں کھودو اور روز پانی پیو۔ فکر تھی کہ میرے بعد ان سب کا کیا ہوگا؟ کبھی اس بات کا غصہ نہ تھا کہ بوڑھے سے کام کروا رہے ہیں یا ہم نے انھیں سہارا دے رکھا ہے ۔ اس قسم کی بات نہ کبھی دوستوں سے سنی گئی نہ رشتہ داروں سے ۔ عندلیب نے بڑے دکھ سے کہا کہ 'ہم ہی کھڑے ہو جاتے تو وہ Relax کر لیتے ۔
مجروح صاحب اپنے بچوں کے بچپن کو اپنی فلمی و ادبی مصروفیات کی نذر کرنا نہیں چاہتے تھے ۔ ان کے بچوں نے جو خود اب چھوٹے یا بڑے بچوں کے ماں باپ ہو چکے ہیں۔ اپنی یادوں کے جھروکوں سے جھانک کر کہا کہ ہم بیمار پڑتے تو دہری خوشی ملتی، ایک تو اسکول سے چھٹی ملنے کی دوسرے امپورٹیڈ کھلونے پانے کی، جو اس زمانے میں بہت مہنگے ہوتے ۔
بچوں کو وہ اداس نہیں دیکھ سکتے تھے ۔ فلم "جانم سمجھا کرو" میں پس منظر موسیقی کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی کہ موسیقار اور پروڈیوسر میں کہا سنی ہوگئی اور ایک بہت اہم سین رہ گیا۔ پروڈیوسر نے میوزک ڈائرکٹر کو پیسے دینے سے انکار کر دیا۔ ان دنوں مجروح صاحب "مشعل جاں" کے نام سے اپنا مجموعہٴ کلام شائع کروانے کے لیے پیسے اکٹھے کر رہے تھے ۔ انھوں نے گھر میں سختی سے کہہ رکھا تھا کہ اتنے پیسے میرے ہیں۔ کسی ضروری کام کے لیے بھی صرف نہ کیے جائیں۔ مگر فلم کی تکمیل کے اس مرحلے میں انھوں نے عندلیب کو قریب بلایا، سارے پیسے نکال کر انھیں دے دیے اور کہا اپنی موسیقی کمپلیٹ کر لو۔
مجروح صاحب مغرور نہیں تھے ، خوددار ضرور تھے ۔ مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ منوہر جوشی کے ہاتھ سے دادا صاحب پھالکے ایوارڈ نہیں لیا، لیکن معروف شاعر جگر مرادآبادی کے پاؤں ضرور دباتے ۔ وہ مذہب کے نام پر ماحول خراب کرنے کے عمل کو سخت ناپسند کرتے تھے ۔ دوسروں کی مدد کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہے ۔ ساحر لدھیانوی کی بیماری کے دنوں میں ان کی طرف سے فلموں میں گیت لکھے اور محنتانہ بھی نہیں لیا۔ نظیر بنارسی اور محمد علی تاج وغیرہ کو فلم پروڈیوسروں سے متعارف کروایا۔ وہ خوبصورت شخصیت، سریلے گلے کے مالک، مہذب، مشفق، اخلاق کی قدروں کی علامت تھے ۔
مجروح صاحب کی بیماری کی خبر نہیں پہنچی، انتقال کی خبر ملی۔ ان کے انتقال سے صرف پانچ مہینے پہلے میں اپنے شوہر اسلم نواب صاحب کے ساتھ ان سے مل آئی تھی۔ اپنی بلڈنگ کے میٹریس پر شام کی چہل قدمی کے لیے گئے تھے ۔ ہمارے ساتھ ہی گھر لوٹ آئے "مشعل جاں" تحفتاً دی۔ اپنے ہاتھوں سے اس پر لکھا: "صادقہ بیٹی کے لیے ۔"
ان کی وفات کی خبر اخباروں کے ذریعے پہنچی تھی… میں دوڑ پڑی 'سی گل' کے 'سی' ونگ کے ناموں کی تختیوں کے نیچے لاکھوں دلوں کی دھڑکنیں اپنی ادبی غزلوں اور میٹھے فلمی گیتوں سے بڑھانے والا زندہ دل شاعرمجروح بڑے سکون سے سو رہے تھے ۔ لگا جیسے ابھی بول پڑیں گے 'ٹھیک تو ہو بیٹا' اور پھر "آواز دیں گے ، 'ارے بھئی، صادقہ آئی ہے ، چائے وائے پلاؤ۔۔۔ مگر اس دن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
بہت کم لوگ سو سے بھی کم، عمارت کے احاطے میں نظر آئے ۔ لوگوں کو خبر ہی نہیں ہوئی اور ایک اہم ادبی ہستی اور ہزاروں فلمی گیتوں کا خالق، جن کی موجودگی ہزاروں لوگوں کو اکٹھا کر لیتی تھی، چند چاہنے والوں کی موجودگی میں منوں مٹی کے نیچے سلا دیا گیا۔
Subscribe to:
Posts (Atom)