You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Sunday, January 16, 2011

طالب خوندمیری گزرگئے


شعر و ادب کے قدردانوں کو یہ جان کر دکھہ ھوگا کہ جناب طالب خوندمیری صاحب کا آج حرکت قلب بند ھوجانے کیوجہ سے انتقال ھوگیا۔ انا لللہ و انا الیہ راجعون۔
مرحوم ایک عالمی شھرت یافتہ شاعر، مزاح نگار اور ادیب تھے۔ زندہ دلان حیررآباد کے فعال رکن اور ھندوستان و پاکستان کے ادبی حلقوں میں بے حد مقبول تھے۔ پیشے سے آرکیٹیکٹ اور بحیثیت انسان ایک انتہائی بردبار، حلیم الطبع، اور سادگی پسند دوست تھے اردو اور ادب کی خدمت میں اپنی قیمتی ترین مصروفیات کے باوجود ہمہ تن گوش رھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنت کے اعلیٰ ترین مقامات سے نوازے۔
آمین

Sunday, January 09, 2011

قلم کاروں کے کاپی رائٹ حقوق

اردو قلم کاروں کی کاپی رائٹ کی حمایت میں بروز سنیچر مورخہ 8 جنوری 2011ء کو شام کے 7 بجے اردو مرکز ممبئی میں جاوید صدیقی کی صدارت میں ایک مٹینگ منعقد کی گئی ۔اس مٹینگ میں تعلیمی ،علمی ادبی اور فلمی شخصیات موجود تھیں ۔ ترقی پسند تحریک میں حصّہ لینے والے عنایت اختر صاحب ، جناب ، خیّام صاحب ، جلیس شیروانی جناب داؤد کشمیری ،اسلم خان ، سلیم عارف ، احمد وصی ، شفیق احمد ، عبدالاحد ساز ، فرید خان ، شاداب رشید ، ظہیر انصاری ، عامر ادریسی ،۔آصف پلاسٹک والا ، مقبول عالم صاحب ، سنگیتا اور پریم کمار وغیرہ اور دوسرے عمائدین شہر موجود تھے ۔بس سے پہلے اردو مرکز کے ڈائریکٹر جناب زبیر اعظمی صاحب نے پروگرام کا افتتا ح کیا ۔ اور پھر مشہور افسانہ نگار اسلم خان صاحب نے کاپی رائٹ سے متعلق تفصیلی معلومات دیں ۔ جلیس شیروانی صاحب نے اپنے تا ّثرات میں زیر اور زبر کا فرق واضح کیا ۔کہ جاوید اختر صاحب نے ایک ایجنسی کو ہائر کرکے سروے کروایا ہے اور پھر ایک 1700 صفحے کی ایک رپورٹ تیار کی گئی ۔ اور اردو قلم کاروں کی کاپی رائٹ کا بل پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے ۔ ال کی خلاف ورزی بھی کی گئی ۔ مگر رائٹرس کو ہمارے یہاں بہت کم حق ملتا ہے ۔مگر کاپی رائٹ کے ذریعے رائٹرس کے علاوہ ہر تخلیق کا ر کو ان کا حق ملے گا ۔ اور اس سے ان کے حالات سدھریں گے ۔کیونکہ اب تک تو سارے رائٹس زبردستی لکھا کر لۓ جاتے تھے ۔انھوں نے کہا کہ اللہ نے جاوید اختر صاحب کو ایک اچھا موقع دیا ہے ۔ پھر خيّام صاحب نے اپنے تاّثرات پیش کۓ انھوں نے چیلینج کیا کہ کوئی ہمیں بغیر موسیقی بغیر بیگراؤنڈ موسیقی کے فلم بنا کر بتاۓ ۔۔ ہم جاوید اختر صاحب کے ساتھ ہیں ۔ انھوں نے تمام عہدیداران اور صحافیوں سے کہا کہ وہ بھی ہماری حق کے لۓ
اٹھائی ہوئی آواز کو حق دلانے کی کوشیس کریں ۔اس کے بعد
سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا سب کے جوابات دیۓ گۓ ۔ پھر جناب جاوید صدیقی صاحب نے صدارتی خطبہ دیا کہا کہ استحصال تو شروعات سے ہوتا رہا ہے ۔ ا
ب تک ہو رہا ہے ، اب ہم سب کو جاوید اختر اور جلیس شیروانی کی حق کی لڑائی میں ان کا ساتھ دینا اور زبیر اعظمی نے کہا کہ ہم سب مل کر ایک کاپی رائٹ کی حمایت مین ایک دستخط مہم چلاکر ایک میمورینڈم جناب کپل سبل کو بھینجیں گۓ ۔یہ میٹنگ کافی کامیاب رہی۔

سیمینار


انجمن اسلام اردو ر یسرچ انسٹی ٹیوٹ اور کریمی لائبریری ممبئی کے زیر اہتمام 23 واں معین الدین حارث میموریل سیرت لیکچر بروز سنیچر مورخہ یکم جنوری 2011ء کو منعقد کیا گیا ۔ اس پروگرام میں صدر جلسہ ڈاکٹر ظہیر قاضی صاحب رہے ۔۔ سب سے پہلے کلام پاک کی تلاوت سے جلسہ کا آغاز ہوا ۔پھر ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر عبرالستار دلوی صاحب نے کریمی لائبریری کے مقاصد بیان کۓ ۔اور اپنے تاثرات بیان کۓ ۔ اور پروفیسر عبدالرحمن مومن صاحب نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی سیرت شخصیت ، عادت و اطوار کا جائزہ لیتے ہوۓ تفصیلی گفتگو کیں ۔اس موقع پر انجمن کے صدر ظہیر قاضی صاحب ، جی ،آر شیخ ،صاحب ،مشتاق انتولے صاحب ۔معین الدین جودھری ، شمیم طارق، اردو مرکز کے ڈائریکٹر زبیر اعظمی ،اور انجمن اسلام کے زیر تحت منسلک تمام اداروں کے پرنسپل حضرات موجود تھے ۔ پروگرام کا اختتام معین الحق جودھری صاحب نے رسم شکریہ ادا کر کے کیا ۔

nehru center شام افسانہ

نہرو سینٹر کی طرف سے ابھی تک شعروشاعری ، موسیقی وغیرہ جیسے پروگرام منعقد ہوتے رہے مگر اس بار نثری ادب کو دھیان میں رکھتے ہوۓ اسٹوری ریڈینگ کا پروگرام رکھا گیا ۔ اس پروگرام کے کنوینر ڈرامہ نگار و ہدایت کار اقبال نیازی تھے جناب ساجد رشید صاحب نے '' کٹے سر کی حکایات " نام کی کہانی پڑھی جس سے سامعین دم سادھ کر شروع سے آخر تک سنتے رہے ۔ پھر جناب انور کنول صاحب نے ''خبر رساں کی حیرانی '' نام کی کہانی پڑھی جسے سامعین نے پورے لطف کے ساتھ سماعت کیں ۔درمیان میں کہانیاں سننے کے بعد سامعین میں موجودہ نثروں کے ماہرین نے ان پر تبصرہ کیا ۔ اس پروگرام کی صدارت جناب افتخار قادری نے کیں ۔ ہمیشہ کی طرح نہرو سینٹر کے کلچرل ڈائریکٹر جناب لطافت قاضی پورے وقت اپنے خاص انداز کی وجہ سے چھاۓ رہے ۔ شہر و اطراف کی علمی ادبی و تعلیمی شخصیات موجود تھیں ۔یہ پروگرام کامیاب رہا

Thursday, January 06, 2011

یوم حسین

بروز پیر مورخہ 3 جنوری 2011ء کو اسلام جمخانہ ممبئی کے جابیر ہال میں شام 7 بجے کلچرل ہاؤس آف دی اسلامیک ریپبلیک آف ایران ممبئی ۔اور سہیوگ کلچرل سوسائٹی ممبئی کے زیر اہتمام ''یوم حسین ''، وحدت اے ملّت '' اور روحانی مشاعرہ منعقد کیا گیا ۔اس پروگرام کی نظامت سامی بوبرے صاحب ( پریسیڈنٹ آف سہیوگ کلچرل سوسائٹی اور ایڈیٹر آف انڈو گلف ٹائمس اور صبح ۔امید) نے کیں۔ اس مجلس میں حضرت امام حسین کو خراج عقیدت پیش کی گئی اور حمد ،نعت گوئی ، منقبت ،اور سلام پڑھے گۓ ۔ اور ایمان کو تازہ کیا ۔ اس روحانی مجلس میں شہر اور اطراف کی مشہور سو معروف شخصیات موجود تھیں ۔منوّر پیر بھائی ، ممتاز پیر بھائی ،اے آر شیخ صاحب اور صالح محمد صاحب پونے سے تشریف لاۓ تھے ۔ اور دوسرے بہت سے عمائدین شہر موجود تھے ۔ مولانا محمدی نے قراءت کلام پاک کی اور بہت ہی دلفریب انداز میں نذرانہ عقیدت حضرت امام حسین علیہ سلام کو پیش کیا اس کے بعد پھر ڈاکٹر محمودالرحمن صاحب جو کہ ممبئی مرکنٹائیل بینک کے سابق چیئرمین اور جموں و کشمیر کے چیئر مین ہیں ۔ انھوں نے اپنے تاّثرات اردو انگریزی اور فارسی میں پیش کۓ ۔ محمد رضا مرضئی صاحب ڈائریکٹر جنرل آف کلچرل ہاؤس آف دی اسلامیک ریپبلیک آف ایران ) نے اپنے مخصوص انداز میں انگریزی اور فارسی میں اپنے تاثرات پیش کۓ ۔ اس کے بعد روحانی مشاعرہ کا آغازحمد کس ان اشعار سے ہوا ( میری جھولی میں وہ لفظوں کے موتی ڈال دیتا ہے ۔سواۓ اس کے کچھ مانگوں تو ہنس کر ٹال دیتا ہے ۔ اس روحانی مشاعرہ میں شعراء کرام میں پروفیسر عبدالعزیز صاحب ، عبدالحمید ساحل ، نشتر مالکی ،فخرالدین غوری فیض ،فاقیر سلطانپوری ، ساغر ترپاٹھی ،احمد وصی ،اور اکسیر برہانپوری نے اپنے کلام ہندی عربی انگریزی اور اردو میں سناۓ ۔اور ایک روحانی سماں باندھ دیا اور مجمع کو محظوظ کر دیا ۔ آخر میں حافظ دلوی صاحب نے اپنا کلام سناکر تمام مہمانان کا اظہار تشکّر ادا کیا ۔ یہ مجلس اور روحانی مشاعرہ بہت ہی کامیاب رہا ۔ اس کے بعد ضیافت کا انتظام کیا گیا تھا ۔۔

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP