You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Wednesday, November 14, 2018

یوم اطفال


جواہر لال نہرو اور اردو زبان*
———————-م—————————
ہندوستان ایک قدیم ملک ہے اور اس ملک میں کئی تاریخی شخصیتوں نے جنم لیا ہے – کبھی یہاں مولانا ابوالکلام آزاد نے جنم لیا تو کبھی رادھا کرشنن نے کبھی فیض تو کبھی کالی داس وغیرہ – بہر حال ہمارا ملک دانشوروں سے کبھی خالی نہیں رہا – جہاں رابندر نارتھ ٹیگور اور علامہ اقبال نے ادبی سطح پر ملک کو عالمی وقار بخشے ہیں وہیں مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو اس ملک کی سیاسی تاریخ کے اہم سپوت شمار کئے جاتے ہیں .
پنڈت جواہر لال نہرو ایک خوش حال گھرانے میں 14 نومبر 1989ء کو پیدا ہوئے – اعلی تعلیم اور بیرسٹری کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ وکالت کرنے لگے –
گلابوں اور بچوں سے بے پناہ محبت کرنے والے پنڈت جواہر لال نہرو اردو زبان سے بھی والہانہ محبت کرتے تھے اس محبت میں کوئی مصلحت سیاست یا کھوٹ نہیں تھی – اس زبان کی شیرینی اور دلکشی ان کی طبیعت میں بسی ہوئی تھی – آزادی کے بعد جب قانون ساز اسمبلی میں ہندوستان کے دستور کے شیڈول آٹھ میں دوسری قومی زبانوں کے ساتھ اردو کو بھی شامل کرنے کی بحث ہورہی تھی تو ایک اردو مخالف رکن نے پوچھا ” اردو بھلا کس کی زبان ہوسکتی ہے ،، تو پنڈت جواہر لال نہرو نے بلند آواز اور غصہ کے ساتھ کہا ” اردو میری ماں اور میری دادی کی زبان ہے – انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں اس سوال کے جواب میں کہ اردو سیکھ کر نئی نسل کو کیا فائدہ ہوگا ،، تو انہوں نے کہا تھا کہ اردو اس ملک کی ایک اہم اور مقبول زبان ہے جو کروڑوں لوگوں کی مادری زبان بھی ہے ان کے لئے اس زبان کا جاننا ضروری ہے اس زبان کا جاننا ملک کی دوسری زبانوں خاص طور پر ہندی کو مالا مال کر نے میں مددگار ہوگا – انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اردو اس ملک کی ایک عظیم مذہب-اسلام کے تہذیبی و ثقافتی ورثہ کو سمجھنے میں مدد دیگی اور آخر کار یہ کہ اردو ہمارے ہمسایہ ملک پاکستان اور ان ممالک جہاں عربی و فارسی رسم الخط رائج ہے ان سے رشتے جوڑنے میں معاون ہوگی.
صد افسوس کہ ملک میں اردو تعلیم کو فروغ دینے میں پنڈت جواہر لال نہرو کا خواب ابھی بھی پورا نہیں ہوا – خیر – وہ ہمارے ملک کے پہلے وزیراعظم تھے ان کے یوم پیدائش کو پورے ہندوستان میں بچوں کے دن کے نام سے جانا جاتا ہے اور بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے .
بچوں کے چاچا نہرو بچوں سے بہت پیار کرتے تھے – اپنی گوناگوں مصروفیتوں کے باوجود وہ بچوں کے پروگراموں میں حصہ لیتے تھے – ان کے ساتھ کھلتے تھے خود بھی ہنستے تھے اور بچوں کو ہنساتے تھے انھیں تحفے تحائف دیتے تھے اور انکا حوصلہ بڑھاتے تھے – چاچا نہرو کہا کرتے تھے کہ ”بچے مستقبل کے معمار ہیں” ہندوستان کو آگے بڑھانے ، ترقی یافتہ بنانے ، سائنس ٹیکنالوجی ، زراعت اور ہر میدان میں ملک کو خود کفیل بنانے کی ذمےداری بچوں کی ہی ہوگی کیونکہ آج کے بچے کل بڑے ہونگے اور ملک و قوم کا بوجھ انکے کندھوں پر ہوگا – انھیں بچوں میں کل کے ہندوستان کی تصویر نظر آتی ہے – آج جب چاچا نہرو ہمارے درمیان نہیں ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ان کے آدرشوں پر چل کر ملک و قوم کو آگے بڑھائیں .
آخر وہ دن بھی آگیا کہ ان کے سامنے بہت سارے مسائل ہیں، بہت سارے پروگرام ہیں، جنہیں پورا کرنا تھا مگر وقت کسی کو مہلت نہیں دیتا – آخر کار 27 مئی 1964ء کو خواب دیکھنے والی یہ آنکھیں ہمشیہ ہمیش کے
لئے سوگیں – وصیت کے متابق انکے چتا کی خاک گنگا میں بہادی گئی تاکہ وہ سمندر میں جا ملے –

No comments:

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP