Monday, January 23, 2012
Monday, January 09, 2012
اُف ! یہ ہمارے ڈاکٹرس

ڈاکٹر ! یہ لفظ سنتے ہی ہمارے ذہن میں ایک نہایت متفق باوقار انسان ابھرتا ہے جس کے پاس ہماری تمام بیماریوں کا علاج موجود ہے۔ ہر دور میں ڈاکٹر کو مسیحا کا درجہ عطا رہا ہے۔ بعض لوگ تو انہیں بھگوان کا درجہ دے دیتے ہیں۔ ہندی فلموں کے اکثر ڈائیلاگ تو آپ نے سنے ہی ہوں گے کہ ڈاکٹر صاحب آپ تو بھگوان ہیں یا بھگوان کے بعد آپ ہی میرا سہارا ہے۔ مگر افسوس زمانے کے ساتھ ساتھ یہ باتیں بھی پرانی ہوگئی ہیں۔ اب ڈاکٹرز وہ ڈاکٹرز نہ رہے۔ بلکہ آج کل کے ڈاکٹر تو قصائیوں کو بھی مات دیتے نظر آتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ قصائی جانور کے گلے پہ چھری پھیرتا ہے اور ڈاکٹر انسان کی جیب پر۔ بھئی آج کل ڈاکٹری کا پیشہ بطور مسیحائی نہیں بلکہ پیسے کمانے کے لیے اپنایا جارہاہے۔ کئی لوگوں کو تو یہ کہتنے بھی سنا گیا ہے کہ چار پانچ لاکھ پڑھائی پر لگاؤ کوئی فکر نہیں کچھ دنوں میں مع سود واپس مل جائیں گے۔ وہ ڈاکٹر بنتے یا اپنے بچوں کو بناتے ہی اس لیے ہیں کہ انہیں کم وقت میں زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہوتا ہے۔
آپ کسی بھی نامور ہاسپٹل میں چلے جائیں۔ مریض کتنا بھی سیریس ہو کاؤنٹر پر پیشگی روپے جمع کرائے بغیر مریض کا علاج نہیں شروع ہوگا۔ اس کے بعد دواؤں کی لمبی فہرست تھمادی جائے گی جس میں مہنگے سے مہنگے انجکشن اور دوائیں شامل ہوں گی اور اس پر مرے ہرسودرے کہ آپ کو اپنے مریض کے پاس ٹھہرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی خاص کر آئی. سی. یو. واڑڈ میں ۔ جہاں اکثر مریض بوڑھے ہتے ہیں۔
ذرا تصور کیجیے بیچارہ بوڑھا مریض اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہا ہے اسے دواؤں سے زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے اسے ایسے وقت میں اکیلا کردینا کتنا بڑا ظلم ہے۔ جب اس کے پاس کوئی رشتہ دار نہ ہو تو اس کا دل اپنوں کو دیکھنے کیسے تڑپتا ہوگا بیچارہ آخری وقت میں کچھ کہنا بھی چاہتا ہوں گا تو کہہ نہیں پاتا ہے اور اسی طرح انتقال کرجاتا ہے۔
بھئی آپ لوگ پورے گھر والوں کو نہ سہی مگر ایک قریبی رشتہ دار مثلاً بیٹا یا بیٹی کو تو رہنے دیجیے اور تو اور اگر مریض انتقال کرجائے تو ہاسپٹل کا بل ادا کرنے تک آپ میت بھی نہیں لے جاسکتے بھلے آپ پیسے کہیں سے بھی کیسے بھی لایئے۔
اگر آپ کو معمولی سردی زکام محسوس ہورہا ہو تو گھبرائیے مت فوراً سے پیشتر ڈاکٹر کے پاس جایئے وہ آپ کے مرض کو اتنا سنگین و مہلک مرض میں مبتلا کردے گا کہ آپ خود کو چند دنوں کا مہمان سمجھنے لگیں گے۔ دسیوں قسم کے ٹیسٹ اور ایکسرے کروائے جائیں گے اور پتہ چلے گا کہ یہ سب ٹیسٹ اور ایکسرے وغیرہ ڈاکٹر ک بیوی کے کلینک میں ہوتے ہیں۔ آخر میں آپ کو چند اینٹی بایوٹک دوائیں دے کر رخصت کردیا جائے گا۔ آہ!
برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی ہے
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا
ہر ایک اتوارے میرا مطلب ہے ایک ڈاکٹر کلینک کھول کر بیٹھا ہے جس کے بورڈ میں ڈاکٹر کا نام مع لمبی چوڑی ڈگریوں کے درج ہے جن کاعام آدمی کوعلم بھی نہیں۔ جو کہ اکثر نقلی بھی نکلتے ہیں اور ایسے لوگوں کی وجہ سے کتنی ہی زندگیاں برباد ہوجاتی ہیں مگر یہ کاروبار پھلتا پھولتا جاتا ہے اور کسی کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی۔
ہمارے پڑوسی عزیز میاں کل پیدل جارہے تھے۔ ہم نے کار کے بارے میں دریافت کیا تو کہنے لگے بیچ دی۔ ہم نے مذاقاً کہا کہ ’’کیوں ڈاکٹر کا مشورہ تھا پیدل چلنا؟‘‘ تو انہوں نے جواب دیا ’’جی نہیں ڈاکٹر کا بل ادا کرنے میں بیچ دی۔‘‘ یہ بات کہہ کر چلتے بنے ، او رہم ہکا بکا وہیں کھڑے رہ گئے۔
کتنے ہی قصے ہیں جو بیان کیے جائیں تو صفحات کے صفحات سیاہ ہوجائیں گے مگر ان ڈاکٹرس کے کرتوت پوری طرح عیاں نہیں ہوپائیں گے۔
ایسی بات نہیں ہے کہ اب دنیا میں اچھے ڈاکٹر نہیں بچے۔ نہیں بھئی اتنا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں اب بھی دنیا میں ایسے ڈاکٹر ہیں جو غریبوں کا علاج مفت کرتے ہیں۔ مریض کو دیکھنے، آدھی رات کو جانے سے بھی نہیں ہچکچاتے ہیں۔ کئی ڈاکٹروں کی تو صرف مسکراہٹ سے ہی مریض آدھا اچھا ہوجاتا ہے۔ مگر افسوس ایسے ڈاکٹروں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ اللہ رب العالمین سے دُعا ہے کہ وہ تمام ڈاکٹروں کے دل میں مسیحائی کا جذبہ پیدا کردے (آمین)۔
آچھ چھیں! ارے یہ کیا کہیں مجھے بھی تو سردی زکام نہیں ہوگا۔ لو! ڈاکٹروں کی اتنی برائی کرنے کے باوجود مجھے انہی کے پاس جانا پڑے گا کیا کریں زندگی اسی کا نام ہے۔
صادقہ طارق انصاری
رمضانی بلڈنگ، دوسرا مالا، روم نمبر29،
ہنس روڈ، بائیکلہ (ویسٹ)، ممبئی۔موبائل 09892728425..
| Reactions: |
لفظ سے کھیلنے والے کو گنہگار کہو
اردو مرکز میں پروفیسر احمد سجاد کا’’تعمیری ادب کا امتیاز‘‘پر اظہارخیال، بندہ مومن کارسم اجرا اور شعری نسشت
گزشتہ شب اردو مرکز میں پروفیسر احمد سجاد کے اعزاز میں ایک ادبی نششت ہوئی۔پروگرام کا آغاز تلاوت سے ہوا۔ صدارت ڈاکٹر خورشید نعمانی نے کی۔اس پروگرام کے دوحصے تھے۔پہلے حصے کی نظامت ندیم جاوید اور شعری نششت کی نظامت یوسف دیوان نے کی۔ جاوید ندیم نے ادارہ ادب اسلامی ہند کاتعارف اور اسکے قیام کی غرض غایت پر روشنی ڈالی۔اسلم غازی نے پروفیسر احمد سجادکی شخصیت اور انکی علمی خدمات پر گفتگو کی۔آل انڈیا مومن کانفرنس کے بانی عاصم بہاری پر پروفیسر احمد سجاد کی تازہ کتاب بندہ مومن کا ہاتھ کی رسم اجرامولانا جنید بنارسی اورڈاکٹر خورشید نعمانی نے کی ۔ پھر اظہار خیال کے لئے پروفیسر احمد سجاد کا نام پکا را گیا۔آپ نے عاصم بہاری اور ان کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ’’آج صرف مولانا ابوالکلام کانام لیاجاتاہے،اور دوسرے لوگوں کانام نہیںٖ لیا جا تا ہے اس میں ہمارا بھی قصور ہے ۔ہم اپنی شخصیات کو بھول جائیں تو دوسرے کیوں یاد رکھیں۔مولانا عاصم بہاری جیسی اہم شخصیت کوبھی ہم نے نظر انداز کیا۔مزدور پیشہ دبے کچلے طبقات بیدار کرنا اور انھے جنگ آزادی کے تیار کرنا مولاناعاصم بہاری صاحب کا سب سے بڑا کارنامہ ہے ۔انھون نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی کوشش کی ۔اور اسلامی اخوت کی ڈعوت دی۔اسلامی اخوت کو بنیا د بنا کر آل انڈیا مومن کانفرنس کو منظم کیا۔اور آل انڈیا مومن کانفرنس کو مضبوط کیا۔لیکن المیہ یہ ہے کی عاصم بہاری کی وفات یہ جماعت کئی خانوں میں بٹ گئی۔بڑی حد تک عبد القیوم انصاری نے اس جماعت کو کمزور کیاتھا۔اگر آل انڈیا مومن کانفرنس کمزور نہ ہوتی تو ہمیں منقسم ہندوستان میں جائز مقام ملتا۔‘‘انھوں بندہ مومن کا ہاتھ کے بتا یا کہ’’ یہ کتاب بیس سال میں مکمل ہوئی ۔مجھے بیس سال تک عاصم بہاری کی شخصیت پر لکھنے کا جنون سوار رہا۔‘‘اردو کی مقبولیت کے بارے میں انھوں نے کہاکہ ’’اردو نے ہندوستا نی میڈیا کو گرفت میں لے لیا ہے۔کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ اردو الفاظ کا سہار الئے بغیر عوام کے جذبات کی سچی ترجمانی نہیں کی جاسکتی ہے۔اردو کے اساتذہ کی تین ذمہ داریا ں ہیں وہ معلم ،مجاہداورمبلغ بھی ہیں۔‘‘پروفیسر احمد سجاد نے تعمیری ادب کا امتیاز پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ’’ہر ادب کی تین تسلیم شدہ بنیادیں ہیں موضوع کی عظمت ،اسلوب وابلاغ اورہیت ۔تعمیری فکر کا حامل ادیب مثبت قدروں کو ہاتھ جانے نہیں دیتا۔وہ رجائیت پسند ہوتا ہے۔تعمیری ادب غیر مسلموں نے بھی تخلیق کیا ہے۔‘‘ انھو ں نے مزید کہا کہ’’اکیسویں صدی میں تخریبی ادب کا جنازہ نکل گیا۔ادب دوہری تسخیر کامالک ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات کسی فکرکا مخالف بھی شعرو افسانے کی راہ سے لا شعوری پر اس فکر سے متاثر ہوجاتا ہے۔ماضی میں صوفیا نے مقامی زبان ریختہ میں اردو میں اپنے خیالات کے ذریعہ لوگوں کو قبول حق پر آمادہ کیا۔آج کی باطل قوتیں اس کی قوت تاثیر سے واقف ہیں۔چنانچہ کے۔جی۔بی۔اور سی۔آئی ۔اے کے اشاروں پر جدید ذہنوں کو کو مسخر اور ماؤف کیا جاتا رہا ہے۔‘‘
انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’’ اصلاح وانقلاب کے داعیوں کو لفظ کی تاثیر اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہئے کیونکہ یہ لفظ ہی ہے جو حسن میں پھول بھی ہے اور شبنم بھی ۔یہ کاری زخم بھی لگاسکتا ہے اور زخموں پر پھائے بھی رکھ سکتا ہے۔لفظ سے نبیوں نے بھی کام لیا ہے اور ولیوں نے بھی۔یہی الفاظ کبھی کرشن کی بانسری میں گیت بن کر ڈھلے ہیں تو کبھی مہاتما بدھ کے لبوں پر شانتی کا اپدیش بنے ہیں ہے کبھی مسیحؑ کی زبان سے پہاڑی وعظ میں ڈھلے ہیں توکبھی سینت فرانسیس ،نانک اور چشتی کی اثر آفریں دعاؤں میں ابھرے ہیں اور یہی الفاظ مسخ ہو کر مسولینی ،اسٹالین ،ہٹلر ،بش اور اباما کی زبانوں سے موت،نفرت اور ظلم وستم کے زہر اگلنے والے سانپ بھی بنے ہیں۔‘‘ ڈاکٹر خورشید نعمانی نے صدارتی تقریر کی۔مہمانوں کا شکریہ زبیر اعظمی نے ادا کیا ۔شعری نششت میں جاوید ندیم ،اسلم غازی ،وقار اعظمی،منصف ریاض،عالم ندوی،عارف اعظمی،یوسف دیوان ،جمیل مرصع پوری اور زبیر اعظمی وغیرہ نے اپنا کلام سنایا۔
| Reactions: |



















