You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Saturday, May 26, 2012

خدارا غور وفکر کیجئی


            ہم اور آپ مسلمان ہونے کی وجہ سے ہمیں اپنی زندگی ہمارے نبی  کے بتائے ہوئے راستوں پر ہی گزارنی چاہئے ۔اسی میں آخرت کی کامیابی ہی۔چند دنوں پہلے ایک خبر شائع ہوئی کہ ۵۲ مسلمان اجمیر معین الدین چشتی کی درگاہ پر جارہے تھے ،ایک حادثہ میں ان کی گاڑی میں آگ لگ گئی،اور وہ لوگ جل کر مر گئی۔واضح رہے کہ ہمیں مسجد حرام (کعبتہ اللہ )،مسجد اقصیٰ اور مسجد نبی ؐ جانے کے لئے خصوصی سفر کرنے کا حکم ہے ۔قرآن و حدیث کی روشنی میں اجمیر،بغداد یا کسی اور مقام پر جانے کا قطعی حکم نہیں ہی۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان مرنے والے مسلمانوں کا اجمیر سفر کرنا یہ عمل کیا عین قرآن و حدیث کی روشنی میں تھا؟ ہمیں اس تعلق سے غور و فکر کرنے کی ضرورت ہی۔دوسری بات یہ ہے کہ اجمیر میں معین الدین چشتی  کے عرس کے موقع پر جنتی دروازہ کھولنے کی تصویر شائع ہوئی ہے ۔ہماری ناقص معلومات اور دینی کتابوں کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہے کہ دین اسلام میں کسی بھی درگاہ ،خانقاہ پر اس طرح کے جنتی دروازہ کا ذکر نہیں ہی۔البتہ قرآن کی تلاوت نیز حدیثوں کی کتابوں سے جنت کی معلومات ملتی ہے اور اسکے حاصل کرنے کا واحد راستہ رضائے الٰہی ہے اور رضائے الٰہی حاصل کرنے کا واحد راستہ بقول قرآن ’’اطیعو اللہ و اطیعو الرسول‘‘ یعنی اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت۔اللہ اس تعلق سے سمجھ عطا کرے اور مختلف مذہبی ادارے قرآن اور حدیث کی روشنی میں زندگی بسر کرانے کے لئے کم پڑھے لکھے اور انپڑھ مسلمانوں کی رہنمائی کریں ۔اللہ ہم سبھوں کو عامل قرآن بنائی۔آمین
ہاشم احمد چوگلی
روہا ۔ضلع رائے گڑھ
مہاراشٹر
موبائل ۔22142352

Friday, May 25, 2012

تعلیم کی طرف لوٹتے مسلمان دشواریاں اور خدشات

سیمینار میں اعظم خان کا خطاب۔میڈیکل کالج بھی قائم کرنے کا عزم
            رام پور کے ایک کالج سے طلباء یونین سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرنے والے اور بعد میں علی گڑھ یونیورسٹی کے طلباء یونین میں اپنی ایک خاص پہچان بنانے والے اعظم خان جنہوں نے سماج وادی میں بھی اپنی ایک الگ شناخت بنائی ہے ۔یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اعظم خان نے سماج وادی سے امر سنگھ چودھری اور کلیان سنگھ کی چھٹی کرواکر سماج وادی میں ایک مضبوط پوزیشن بنالی ہے ۔پچھلے دنوں وہ دہلی کی شاہی جامع مسجد کے امام احمد بخاری کی مخالفت کرکے بھی خوب میڈیا کی توجہ اپنی جانب کرائی تھی ۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اعظم خان میڈیا میں آنے کا فن خوب جانتے ہیں ۔اس قبل بابری مسجد تحریک اور موقعہ پر متنازعہ بیان دیکر بھی وہ کافی چرچا میں تھے ۔اس کے بعد دوسرا سر سید بننے کی کوشش میں بھی انہیں خوب میڈیا کوریج ملا ۔ممبئی کے کچھ انکے بہی خواہوں نے اور کچھ متحرک تعلیمی کارکن نے ان کے اعزاز میں’’ تعلیم کی طرف لوٹتے مسلمان دشواریاں اور خدشات...... ‘‘کے عنوان سے 
سیمینار کا انعقاد کیاتھا۔
            اتر پردیس میں سماج وادی کی حکومت بننے کے بعد پہلی مرتبہ انہوں نے ممبئی کا دورہ کیا یہ دورہ آرگنائز کیا گیا تھا دلی کی دو غیر سرکاری تنظیموں اردو پریس کلب اورمائناریٹیز فورم آف انڈیا کے ذریعہ۔ انکے ساتھ ا تر پردیس کے کئی ایم ایل اے اور راجیہ سبھا کے رکن بھی تھے ۔منور سلیم جو کہ مدھیہ پردیش سے سماج وادی کے رکن راجیہ سبھا ہیں اور جن کی نامزدگی میں اعظم خان پیش پیش رہے تھے نے اعظم خان کو اپنا قائد کہتے ہوئے کہا کہ اعظم خان اس شخص کا نام ہے جس نے حکومت میں آنے کے بعد اپنے لئے کسی پیٹرول پمپ کا لائسنس نہیں مانگا نہ ہی کسی انڈسٹریل ایریا میں کوئی پلاٹ مانگا بلکہ انہوں نے قوم کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے لئے محمد علی جوہر یونیور سٹی مانگا ۔پروفیسر آئی یو خان نے کہا کہ ہم کوشش ہی نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہم پیچھے ہیں ۔گرچہ ہمارے تعلیمی اداروں کے ساتھ کافی پریشانیاں ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں ہمت نہیں ہارنا چاہئی۔ سید شعیب رضا نے کہا کہ پینسٹھ سالوں میں چالیس سال تو ہم عالم بے چارگی میں رہے جس میں تعلیم معاش سمیت مسلمان زندگی کے تمام شعبوں میں پچھڑ گئے لیکن ادھر بیس پچیس سالوں سے تعلیمی میدان میں ہم نے جو کا کیا ہے اس کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں جس کی وجہ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب ہم میں صرف انپڑھ اور جاہل ہی نہیں بلکہ اب ہم میں شاندار تعلیمی تکنیکی مہارت رکھنے والے بے شمار نوجوانوں کی تعداد ہی،جو اپنا راستہ خود چن سکتے ہیں۔خالد عرفان جو کہ اتر پردیش اسمبلی میں سماجوادی کی طرف سے نمائندگی کرتے ہیں نے کہا کہ قرآن کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک خود اسے اپنی حالت کے بدلنے کا خیال نہ ہو۔قرآن کا ہی دوسرا قول ہے کیا علم والے اور بغیر علم والے برابر ہوسکتے ہیں۔پھر بھی تعلیمی پسماندگی کی وجہ کیا ہے ۔کسی قوم کی ترقی تعلیم کے بغیر ناممکن ہے ۔اتر پردیش کے مسلمانوں نے ملک کے مسلمانوں کو یہ اشارہ دیا ہے کہ ہم حالات کا ڑخ بدل ڈالیں ۔انکا اشارہ یقینا اس بات کی طرف تھا کہ جس کانگریس نے آزادی 
کے ۵۶ سالوں میں مسلمانوں کو جہاں پہنچایا ہے اب مسلمان بھی کانگریس کو وہیں پہنچائیں ۔
            اعظم خان نے کہا کہ نبی ؐ پر پہلی وحی ہی اقراء سے شروع ہوئی اس کے باجود ہم تعلیم میں پچھڑ گئے ۔تعلیم تو اللہ کا حکم ہی۔انہوں نے کہا کہ میری تربیت مادر علمی مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے کی ہی۔ ہم نے محمد علی جوہر یونیورسٹی اس لئے بنائی ہے کہ قوم کی تعلیمی پسماندگی کو دور کیا جاسکے ۔میں سرسید کے خوابوں کو پورا کرنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے لیکن سر سید کو جس طرح قوم نے ذلیل کیا میں اپنے ساتھ ویسا نہیں ہونے دونگا کیوں کہ میں سر سید نہیں ہوں ۔کانگریس کے بارے میں کہا کہ ۶دسمبر ۲۹۹۱ کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد کانگریس کے وزیر اعظم نرسمہا رائو نے کہا تھا کہ’’ مسلمان اداس نہ ہوں مسجد وہیں بنے گی ‘‘ ۔ہمیں آج بھی اس وعدے کے وفا کا ہونے کا انتظار ہی۔ہمیں اپنے سیاسی فیصلے خود ہی کرنا ہے ہم آپ کی مردہ نمائندگی نہیں کرتے ہم آپ کو مایوس نہیں کریں گے آپ نے دیکھا کہ ’]کلیان سنگھ کے ایشو پر ہماری بات مانی گئی‘‘۔بھارت میں ۲۵ یونیورسٹی ایسی ہے جس کے پرو وائس چانسلر اس کے قائم کرنے والے ہیں لیکن چونکہ میں مسلمان تھا اس لئے کانگریس کی حکومت نے ہمارے ساتھ یہ سلوک کیا ۔آپ کو یہ جان کر حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ اس یونیورسٹی کی مخالفت میں کانگریس سب سے آگے تھی ۔اعظم خان نے کہا کہ مایا وتی حکومت نے  نو سو دو کروڑ روپیہ جو مدارس کے لئے آئے تھے اس میں سے ایک روپیہ بھی مدارس کو نہیں ملے وہ پوری رقم اسی طرح واپس ہو گئی۔حج سبسڈی پر انہوں نے کہا کہ حکومت ہند مسلمانوں کو ذلیل کر رہی ہی۔سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ کہ دس سالوں میں حج سبسڈی ختم کی جائے میرا کہنا ہے کہ اگر یہ سبسڈی جائز ہے تو اسے جاری رہنا چاہئے اور اگر ناجائز اور خلاف قانون ہے تو پھر دس سالوں کا انتظار کیوں اسے فی الفور ختم ہونا چاہئی۔آخر میں کہا کہ میرے جیسا کمزور انسان جب ایک یونیورسٹی بنا سکتا ہے تو پھر ممبئی کے مسلمان تو ایسی کئی یونیورسٹیاں بناسکتے ہیں۔انہوں نے وعدہ کیا کہ جس دن محمد علی جوہر یونیورسٹی کا افتتاح ہوگا اسی دن میڈیکل کالج کی بھی بنیاد رکھ دی جائے گی۔اعظم خان کے مذکورہ بالا بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر اعظم خان اپنے پرو وائس چانسلر بننے پر نہ اڑتے تو آج محمد علی جوہر یونیورسٹی بن چکی ہوتی اور جو رقم انہوں نے اس پرائویٹ یونیورسٹی کو بنانے پر خرچ کی ہے اس سے قوم کے دوسرے فلاحی کام بھی ہوسکتے تھے

Sunday, May 20, 2012

مئی ٹیپو سلطان کی شہادت کا مہینہ ہے

-مئی کا مہینہ شہیدان محبت کے امام‘حریت کے پروانے ’’سلطان ابوالفتح علی ٹیپو‘‘کی شہادت کا مہینہ ہے ۔ جس نے غیرملکی اقتدارکوروکنے کے لیے اپنی پوری زندگی مجاہدانہ سرگرمیوں میں بسرکی۔ وطن کوغیرکی غلامی سے بچانے کے لیے اپنا آرام چین بھلادیا اور اپنی زندگی اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے قربان کردیا اور آخرکار خود بھی مردانہ وارلڑتاہوا شہیدہوگیا سلطان ٹیپوکی شہادت پرلارڈہارس بے اختیارپکاراٹھاکہ ’’آج ہندوستان ہماراہے‘‘ تمام بڑے مورخ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ 1764ء میں سندھیا کی وفات کے بعدانگریزہندوستان کی سرزمین پرمکمل قبضہ کی راہ میں صرف ایک شخصیت کو اپنا حریف سمجھتے تھے اوروہ تھا میسورکا مسلم فرمانروا ’’ٹیپوسلطان‘‘ ہندوستان کو غلامی سے بچانے کے لیے ٹیپو نے اس وقت کی ہندوستان کی تمام طاقتوں کو انگریزوں کے خلاف متحدہونے کی دعوت دی۔ حالانکہ اس وقت کے والیان ریاست متحدہ قومیت کے تصورسے بھی آشنا نہیں تھے۔ ٹیپونے مرہٹوں اورنظام دونوں کو آنے والے خطرے سے آگاہ کرنے کی کوششیں کی انہیں متحد ہوکر آزادی کے حفاظت کی ترغیب دلائی لیکن افسوس ذاتی اقتدار اورشخصی مفاد کے خاطر انگریزوں کا ساتھ دیا گیا بالکل اسی طرح جیسے آج اپنے اقتدارکو قائم رکھنے کے لیے امریکیوں کا ساتھ دیا جارہاہے۔ لیکن اقتداررہا نہ حکومت ‘وہاں یہ ہواکہ پوری ہندوستانی قوم غلامی کی دلدل میں دھنس گئی جس پر ہرتاریخ داں نے انہیں غداران قوم کے لقب سے پکارا۔ اقبال نے کہا۔ جعفر از بنگال وصادق از دکن ننگِ آدم ننگ دیں ننگ وطن لیکن افسوس کہ نہ جعفروصادق سبق سیکھتے ہیں نہ ان کے حامی وموالی ہی عقل سے کام لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہی ہے کہ ہم نے اپنی آزادی کے حقیقی ہیروں کو بھلادیا۔ غلامی اورمحکومی سوچ وفکرمیں ایسے بسائی کہ آقائوں کی ہراداکو دل سے لگایا ان کے طورطریقے ادب وآداب تہذیب وثقافت زبان لباس ہرچیزکو اپنایا ان کی خوشی کو اپنی خوشی اور ان کی ناراضگی کو اپنی ناراضی کہا ہی نہیں سمجھابھی لہٰذا ہم نے اپنی تاریخ میں آزادی کے ان تمام ہیرووںکوجگہ نہ دی جنہوں نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ سراج الدولہ‘ حافظ رحمت خان‘ شاہ اسماعیل شہید اورسید احمدشہید سب کو فراموش کردیا۔ یہ سب اس طقبے نے کیا جو اہل دانش کی حیثیت رکھتاہے جس کی بنیادی ذمہ داری قومی زندگی کو استحکام اورقوت فراہم کرناہوتی ہے۔ اقبال نے تاریخ کی گردصاف کرکے ہمیں ان کی یاددلائی لیکن اب تو لگتاہے کہ اقبال کوبھی ہم نے فراموشی کے پردوں سے ڈھانپنے کا ارادہ کرلیاہے۔ مہینوںکیا سالوں گزرجاتے ہیں ریڈیو ٹی وی پر نہ اقبال کی شاعری سنائی دیتے ہیں نہ اس کی فکرسے آگاہی کا کوئی پروگرام کیاجاتاہے۔ یوں نئی نسل اقبال سے ناآشنا سی ہوتی جارہی ہے۔ اقبال ٹیپوسلطان سے اپنی ملاقات کا حال جاوید نامے میں یوں کہتے ہیں ۔ آں شہیدانِ محبت را امام آبروئے ہندوچین وروم وشام نامش از خورشید ومہ تابند تر خاک قبرش از من وتو زندہ تر یعنی اے اقبال! سلطان ٹیپوشہیدانِ محبت کا امام تھا اور مشرقی ممالک کی آبرو(آزادی) اس کی ذات سے وابستہ تھی آج اس کا نام سورج اورچاند سے زیادہ روشن ہے اور اس کی قبرکی مٹی ہندوستان کے رسمی مسلمانوں سے زیادہ زندگی کے خواص اور آثاراپنے اندر رکھتی ہے۔ سیاسی تدبر اور حسن تدبیرمیں ٹیپوسلطان کو تمام ہندوستانی بادشاہوں پربلند مقام حاصل ہے۔ وہ ہندوستان کے مقتدر حلقوں میں پہلا شخص تھا جس نے انگریز بادشاہت کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس میں پنہاں خطرات کو پوری طرح محسوس کیا اور ان کو روکنے کے لیے بہترین تدابیرجوکچھ ہوسکتیں تھیں کیں۔ اس نے فوجی طاقت کے علاوہ صنعتی اورتجارتی شعبوں کی اہمیت کو محسوس کیاتمام گردونواح کے مسلمانوں کو دعوت دی کہ وہ سمٹ کر اس کی سلطنت میں جمع ہوجائیں۔ کیونکہ مضبوط متحد آبادی کی اہمیت سے واقف تھا۔ اس نے مسلم اورغیرمسلم ریاستوں کو انگریزوں سے مقابلہ کرنے کے لیے متحدکرنے کی بھی حتی الامکان کوشش کی۔ ان تمام حکمتوں اور قابلیت کے باوجود وہ ناکام رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ نظرآتی ہے کہ وہ تمام قابلیتیں اورخوبیاں اس کی شخصی تھیں اجتماعی نہیں تھیں…ہندوستان کے لوگ اخلاقی طورپر بری طرح بگڑچکے تھے۔ سب سے بڑھ کرہرفرد اپنے اپنے ذاتی فائدے کے لیے ہرانتہا پرجانے کے لیے تیارتھا۔ لہذا جہاں اجتماعی فائدے کے بجائے ذاتی فائدہ اہم بن جائے فردقوم کے بجائے اپنی ذات کو مقدم رکھے تو وہاں کسی دوسری قوم کو غلبے سے روکنا ممکن نہیں رہتا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’اوراس فتنے سے بچتے رہو جواگر اٹھا تو اس کی زد انہی پرنہیں پڑے گی جو تم میں ظلم کرنے والے ہیں بلکہ سبھی اس کی لپیٹ میں آجائیں گے۔ (سورہ انفال) حضرت عبداللہ بن عباسؓ جن کو رسول اللہ نے ’’ترجمان القرآن‘‘ کا خطاب دیا تھا’’فتنہ‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’لَسّلَطُ الظَلِمَتِہ‘‘ یہ ظالم قوم کا تسلط ہے۔ قرآن میں اسی سورہ میں بھی دوآیت کے بعد اس ظلم کی تفسیر فرمادی گئی کہ کون سی بداعمالی ہے جس کا ارتکاب اگر قوم کے بعض افراد کریں تو تمام قوم کی قوم محکوم بنادی جاتی ہے فرمایاگیا’’مسلمانوں ایسا نہ کروکہ اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کرو اور نہ یہ کہ آپس کی امانتوں میں خیانت کرو‘‘ اللہ کی سنت یہ ہی ہے کہ جب کسی قوم کے مقتدر افراد قومی اورملی خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں تو ان کی بداعمالی کی سزامیں تمام قوم کی قوم غلام اور محکوم بنادی جاتی ہے۔ یہ نوشتہ تقدیرہے جسے پڑھااورسمجھانہیں گیا تو غلامی کی دلدل میں دھنسنا پھرمقدرٹھہرے گا۔

Saturday, May 19, 2012

تعزیتی نشست









لنترانی ڈاٹ کام  اور بھڑاس نامی ویب سائٹ کے بانی اور 
روح رواں ڈاکٹر روپیش سری واستو  کی ناگہانی موت سے اردو طبقے میں غم کا ماحول  بن گیا ہے ۔اسی موقع پر گل بوٹے  فاؤنڈیشن کی جانب سے  احمد ذکریا ہال  انجمن اسلام  سی ایس ٹی میں تعزیتی نشست  کا انعقاد کیا گیا تھا۔ڈاکٹر کلیم ضیاء نے  روپیش سری واستو  کی شخصیت پر  قطعات پیش کيۓ۔عرفان  جعفری  نے انھیں منظوم خراج   پیش کیا ۔جسے وہاں تمام لوگوں نے پسند کیا ۔گل بوٹے کے  مدیر فاروق سیّد  نے اپنے خیالات  کا اظہار کرتے ہوۓ  بتایا  کہ کس طرح  روپیش ان کی علالت کے موقع پران سے ملنے گۓ ۔اور دواؤں کے ساتھ ساتھ  اپنے خلوص سے  انہیں مقروض کردیا  ۔اس واقعے کو یاد کرتے ہوۓ  فاروق سیّد نے کہا  کہ یہ  قرض  اتارنے  کے لۓ  انہیں کسی بھی  مریض کے ساتھ  وہی حسن سلوک کرنا ہو گا ۔روزنامہ ہندوستان کے  مدیر سرفراز  نے اپنے خیالات  کا اظہار  کرتے ہوۓ  کہا کہ  ہم اپنی  صحت سے متعلق سوچتے ہیں۔ مگر وہی ہوتا ہے ۔جو خدا کو منظور ہوتا ہے ۔ زبیر اعظم اعظمی  نے کہا  کہ  اردو کا کوئی بھی پروگرام ہو سکتا تھا ۔یہی روپیش کی خوبی بھی   عبدالا حد ساز نے کہا کہ مجھے تو روپیش کی موت  کی خبر  سن کرمجھے یقین ہی نہیں آیا ۔اس موقع پر شہر کی معزز شخصیات موجود تھیں ۔ حامد اقبال صدیقی، ڈاکٹر قاسم امام ، اقبال نیازی،شمشیر پٹھان ، انجمن کے نائب صدر حسین پٹیل ، ریحانہ اندرے ، شیخ  عبداللہ ، ڈاکٹر مصطفی پنجابی ، سلیم الوارے ،افسر دکنی،فاروق سیّد ، مسسز نجمہ قاضی ، نادرہ موٹلیکر، نجمہ امتیاز،  غزالہ آزاد ،آیڈوکیٹ زبیر اعظم اعظمی، نجر بجنوری، آصف پلاسٹک والا شاداب صدیقی، منوج وراڈے ، شاداب رشید ،اجۓ سکسینہ ،اور مالیگاؤں اور پونہ سے بھی دیگر اشخاص نے شرکت کیں ،آخری میں ڈاکٹرروپیش سری واستو کی زندگی پر ایک ڈاکیومینٹری دکھائی گئي۔ اوران کے نام پر ہر سال ایوارڈ دینے اور اردو اسکول کا نام روپیش سری واستو کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز رکھی  گئی ۔جس کی تائيد سب نے کیں۔    

Tuesday, May 15, 2012

کرناٹک اردو اکیڈمی میں


 ’’لن ترانی ‘‘ کے ڈاکٹر روپیش شری واستوکے انتقال پر تعزیتی جلسہ 
بنگلور ۔ 15  مئی ( راست ) آج مؤرخہ 15  مئی منگل کی دوپہر کرناٹک اردو اکیڈمی میں اردو کے معروف قلمکار پریم چند کے پوتے ڈاکٹر روپیش شری واستو کے انتقال پر ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیاگیا جس میں مرزا عظمت اللہ ، رجسٹرار کرناٹک اردو اکیڈمی، حافظ کرناٹکی ، چیرمین کرناٹک اردو اکیڈمی ، جناب حافظ سید ثناء اللہ نظامی اور جناب نیر ربانی کے علاوہ اکیڈمی کا سارا عملہ موجود تھا، اس موقع پر حافظ کرناٹکی نے مرحوم کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جو کسی کونے میں بیٹھ کر اردو کی خاموش خدمت کر رہے ہیں، ایسے لوگوں میں ڈاکٹر روپیش کی بھی ایک گمنام شخصیت تھی، جن کے مرنے کے بعد اردو برادری کو اردو کے تئیں ان کی خدمات کا اندازہ ہوا ، ڈاکٹر روپیش شری واستو پریم چند برادری کے ایک ایسے فرد تھے جو پریم چند کے مشن کو ان کہے طورپر اپنا مشن بنا چکے تھے اور اسی کے تحت کام کر رہے تھی، ان کی شخصیت میں سچائی اور حق گوئی کا چارہ پوری طرح سما چکا تھا، وہ ملک دشمن عناصر کے خلاف نہایت خاموشی سے جہاد کر رہے تھی، انہیں اردو زبان سے ایک خاص لگاؤ اور محبت تھی، یہی وجہ تھی کہ وہ اس زبان کے فروغ کے لئے ہر طرح کی کوشش کر رہے تھے ۔ لن ترانی انہی کوششوں کا اثاثہ ہے ، اور ان کی خواہش تھی کے اردو کمپیوٹر جاری ہو ، تاکہ اردو برادری اس اردو کمپیوٹر سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو ۔ انہیں یہ بات ناگوار گزرتی تھی کہ لوگ اردو کی روٹی کھا کر انگریزی بات چیت کرتے ہیں، او راپنے روز مرہ کے کاموں میں انگریزی بول چال کا استعمال کرتے ہیں، حافظ کرناٹکی نے کہا کہ یہ میرے اچھے اردو دوست تھی، جن کے اندر اردو زبان کی ترقی کی حسرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اس کے فروغ کے لئے وہ بہت کچھ کرنا چاہتے تھی، وہ آج ہمارے درمیان نہیں رہے ۔ دعا ہے کہ اردو دنیا کو ان کا نعم البدل عطا ہو ۔ امید ہے کہ ان کے شاگرد ستیہ پرکاش اس کام کو آگے بڑھائیں گے ، محترمہ منور سلطانہ باجی اس کام کو آگے بڑھائیں گے ، آج ایک اچھے اردو ساتھی اور ایک اچھے رہبر کو انہوں نے کھویا ہے ۔ اللہ انہیں صبر جمیل عطا کرے ۔
کرناٹک اردو اکیڈمی کے رجسٹرار جناب ایس مرزا عظمت اللہ نے کہا کہ اردو کے ایسے سچے خادم کی خدمات کو ممبئی جیسے بڑے شہر میںموجود سینکڑوں اردو انجمنوں نے کبھی نہیں سراہا ۔ مجھے فخر ہے کہ جناب حافظ کرناٹکی نے ڈاکٹر  روپیش کو شکاری پور بلا کر ان کی خدمات کے اعتراف میں ایک جلسہ منعقد کیا اور انہیں اعزاز سے نوازا ۔ڈاکٹر  روپیش اردو کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے تھے اور اردو کے تئیں ان کے عزائم انتہائی بلند تھی۔ 
جناب حافظ ثناء اللہ صاحب نظامی نے کہاکہ ڈاکٹر روپیش کے انتقال کی خبر سن کر بڑا صدمہ ہوا ۔ یہ خبر نہ صرف ہمارے لئے بلکہ اردو دنیا کے لئے ہی نہایت رنجیدہ رہی ، اردو دنیا کے لئے یہ بہت بڑا نقصان تصور کیا جاسکتا ہے ۔ مرحوم بالکل خاموش اور گمنامی کے ذریعہ اردو ادب کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے ، اب ان کا ثانی پیدا ہونا ناممکن نہ سہی مشکل ضرور ہے ، اردو ادب کے لئے ایسے گمنام اور بے لوث خدمات انجام دینے والے اگر دو چار بھی مل جائیں تو شاید اردو زبان کی تقدیر ہی بدل جائے ۔ اللہ کرے کہ اردو ادب میںایسے ہی افراد پیدا ہوں،اور زبان اردو کو جگمگاتے ہوئے اپنی نمایاں خدمات اپنے پیچھے چھوڑ جائیں ۔جناب منصور علی خان ( المنصور گرافکس )، جناب نوید پاشاہ (صدر ، اقراتحفظ اردو تنظیم بنگلور)نے کہا کہ جناب روپیش کی موت ہمارے لئے باعث غم ہے ، گزشتہ کچھ دنوں قبل وہ ہمارے درمیان ہنس بول رہے تھے اور ان سے بے انتہائی بے تکلفی ہوگئی تھی، لیکن آج اچانک ان کی موت کی خبر سن کر ہم پر سکتہ طاری ہوگیا ۔ جناب کلیم پاشاہ ( تاج پرنٹرس ) بھی اس تعزیتی اجلاس میں شریک رہے اور ڈاکٹر روپیش کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔  رجسٹرار مرزا عظمت اللہ کے کلمات تشکر پر یہ مجلس اختتام کو پہنچی ۔ 

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP