You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Sunday, May 20, 2012

مئی ٹیپو سلطان کی شہادت کا مہینہ ہے

-مئی کا مہینہ شہیدان محبت کے امام‘حریت کے پروانے ’’سلطان ابوالفتح علی ٹیپو‘‘کی شہادت کا مہینہ ہے ۔ جس نے غیرملکی اقتدارکوروکنے کے لیے اپنی پوری زندگی مجاہدانہ سرگرمیوں میں بسرکی۔ وطن کوغیرکی غلامی سے بچانے کے لیے اپنا آرام چین بھلادیا اور اپنی زندگی اپنے بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے قربان کردیا اور آخرکار خود بھی مردانہ وارلڑتاہوا شہیدہوگیا سلطان ٹیپوکی شہادت پرلارڈہارس بے اختیارپکاراٹھاکہ ’’آج ہندوستان ہماراہے‘‘ تمام بڑے مورخ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ 1764ء میں سندھیا کی وفات کے بعدانگریزہندوستان کی سرزمین پرمکمل قبضہ کی راہ میں صرف ایک شخصیت کو اپنا حریف سمجھتے تھے اوروہ تھا میسورکا مسلم فرمانروا ’’ٹیپوسلطان‘‘ ہندوستان کو غلامی سے بچانے کے لیے ٹیپو نے اس وقت کی ہندوستان کی تمام طاقتوں کو انگریزوں کے خلاف متحدہونے کی دعوت دی۔ حالانکہ اس وقت کے والیان ریاست متحدہ قومیت کے تصورسے بھی آشنا نہیں تھے۔ ٹیپونے مرہٹوں اورنظام دونوں کو آنے والے خطرے سے آگاہ کرنے کی کوششیں کی انہیں متحد ہوکر آزادی کے حفاظت کی ترغیب دلائی لیکن افسوس ذاتی اقتدار اورشخصی مفاد کے خاطر انگریزوں کا ساتھ دیا گیا بالکل اسی طرح جیسے آج اپنے اقتدارکو قائم رکھنے کے لیے امریکیوں کا ساتھ دیا جارہاہے۔ لیکن اقتداررہا نہ حکومت ‘وہاں یہ ہواکہ پوری ہندوستانی قوم غلامی کی دلدل میں دھنس گئی جس پر ہرتاریخ داں نے انہیں غداران قوم کے لقب سے پکارا۔ اقبال نے کہا۔ جعفر از بنگال وصادق از دکن ننگِ آدم ننگ دیں ننگ وطن لیکن افسوس کہ نہ جعفروصادق سبق سیکھتے ہیں نہ ان کے حامی وموالی ہی عقل سے کام لیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہی ہے کہ ہم نے اپنی آزادی کے حقیقی ہیروں کو بھلادیا۔ غلامی اورمحکومی سوچ وفکرمیں ایسے بسائی کہ آقائوں کی ہراداکو دل سے لگایا ان کے طورطریقے ادب وآداب تہذیب وثقافت زبان لباس ہرچیزکو اپنایا ان کی خوشی کو اپنی خوشی اور ان کی ناراضگی کو اپنی ناراضی کہا ہی نہیں سمجھابھی لہٰذا ہم نے اپنی تاریخ میں آزادی کے ان تمام ہیرووںکوجگہ نہ دی جنہوں نے انگریزوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ سراج الدولہ‘ حافظ رحمت خان‘ شاہ اسماعیل شہید اورسید احمدشہید سب کو فراموش کردیا۔ یہ سب اس طقبے نے کیا جو اہل دانش کی حیثیت رکھتاہے جس کی بنیادی ذمہ داری قومی زندگی کو استحکام اورقوت فراہم کرناہوتی ہے۔ اقبال نے تاریخ کی گردصاف کرکے ہمیں ان کی یاددلائی لیکن اب تو لگتاہے کہ اقبال کوبھی ہم نے فراموشی کے پردوں سے ڈھانپنے کا ارادہ کرلیاہے۔ مہینوںکیا سالوں گزرجاتے ہیں ریڈیو ٹی وی پر نہ اقبال کی شاعری سنائی دیتے ہیں نہ اس کی فکرسے آگاہی کا کوئی پروگرام کیاجاتاہے۔ یوں نئی نسل اقبال سے ناآشنا سی ہوتی جارہی ہے۔ اقبال ٹیپوسلطان سے اپنی ملاقات کا حال جاوید نامے میں یوں کہتے ہیں ۔ آں شہیدانِ محبت را امام آبروئے ہندوچین وروم وشام نامش از خورشید ومہ تابند تر خاک قبرش از من وتو زندہ تر یعنی اے اقبال! سلطان ٹیپوشہیدانِ محبت کا امام تھا اور مشرقی ممالک کی آبرو(آزادی) اس کی ذات سے وابستہ تھی آج اس کا نام سورج اورچاند سے زیادہ روشن ہے اور اس کی قبرکی مٹی ہندوستان کے رسمی مسلمانوں سے زیادہ زندگی کے خواص اور آثاراپنے اندر رکھتی ہے۔ سیاسی تدبر اور حسن تدبیرمیں ٹیپوسلطان کو تمام ہندوستانی بادشاہوں پربلند مقام حاصل ہے۔ وہ ہندوستان کے مقتدر حلقوں میں پہلا شخص تھا جس نے انگریز بادشاہت کے بڑھتے ہوئے اثرات اور اس میں پنہاں خطرات کو پوری طرح محسوس کیا اور ان کو روکنے کے لیے بہترین تدابیرجوکچھ ہوسکتیں تھیں کیں۔ اس نے فوجی طاقت کے علاوہ صنعتی اورتجارتی شعبوں کی اہمیت کو محسوس کیاتمام گردونواح کے مسلمانوں کو دعوت دی کہ وہ سمٹ کر اس کی سلطنت میں جمع ہوجائیں۔ کیونکہ مضبوط متحد آبادی کی اہمیت سے واقف تھا۔ اس نے مسلم اورغیرمسلم ریاستوں کو انگریزوں سے مقابلہ کرنے کے لیے متحدکرنے کی بھی حتی الامکان کوشش کی۔ ان تمام حکمتوں اور قابلیت کے باوجود وہ ناکام رہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ نظرآتی ہے کہ وہ تمام قابلیتیں اورخوبیاں اس کی شخصی تھیں اجتماعی نہیں تھیں…ہندوستان کے لوگ اخلاقی طورپر بری طرح بگڑچکے تھے۔ سب سے بڑھ کرہرفرد اپنے اپنے ذاتی فائدے کے لیے ہرانتہا پرجانے کے لیے تیارتھا۔ لہذا جہاں اجتماعی فائدے کے بجائے ذاتی فائدہ اہم بن جائے فردقوم کے بجائے اپنی ذات کو مقدم رکھے تو وہاں کسی دوسری قوم کو غلبے سے روکنا ممکن نہیں رہتا۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’اوراس فتنے سے بچتے رہو جواگر اٹھا تو اس کی زد انہی پرنہیں پڑے گی جو تم میں ظلم کرنے والے ہیں بلکہ سبھی اس کی لپیٹ میں آجائیں گے۔ (سورہ انفال) حضرت عبداللہ بن عباسؓ جن کو رسول اللہ نے ’’ترجمان القرآن‘‘ کا خطاب دیا تھا’’فتنہ‘‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’لَسّلَطُ الظَلِمَتِہ‘‘ یہ ظالم قوم کا تسلط ہے۔ قرآن میں اسی سورہ میں بھی دوآیت کے بعد اس ظلم کی تفسیر فرمادی گئی کہ کون سی بداعمالی ہے جس کا ارتکاب اگر قوم کے بعض افراد کریں تو تمام قوم کی قوم محکوم بنادی جاتی ہے فرمایاگیا’’مسلمانوں ایسا نہ کروکہ اللہ اور اس کے رسول سے خیانت کرو اور نہ یہ کہ آپس کی امانتوں میں خیانت کرو‘‘ اللہ کی سنت یہ ہی ہے کہ جب کسی قوم کے مقتدر افراد قومی اورملی خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں تو ان کی بداعمالی کی سزامیں تمام قوم کی قوم غلام اور محکوم بنادی جاتی ہے۔ یہ نوشتہ تقدیرہے جسے پڑھااورسمجھانہیں گیا تو غلامی کی دلدل میں دھنسنا پھرمقدرٹھہرے گا۔

Saturday, May 19, 2012

تعزیتی نشست









لنترانی ڈاٹ کام  اور بھڑاس نامی ویب سائٹ کے بانی اور 
روح رواں ڈاکٹر روپیش سری واستو  کی ناگہانی موت سے اردو طبقے میں غم کا ماحول  بن گیا ہے ۔اسی موقع پر گل بوٹے  فاؤنڈیشن کی جانب سے  احمد ذکریا ہال  انجمن اسلام  سی ایس ٹی میں تعزیتی نشست  کا انعقاد کیا گیا تھا۔ڈاکٹر کلیم ضیاء نے  روپیش سری واستو  کی شخصیت پر  قطعات پیش کيۓ۔عرفان  جعفری  نے انھیں منظوم خراج   پیش کیا ۔جسے وہاں تمام لوگوں نے پسند کیا ۔گل بوٹے کے  مدیر فاروق سیّد  نے اپنے خیالات  کا اظہار کرتے ہوۓ  بتایا  کہ کس طرح  روپیش ان کی علالت کے موقع پران سے ملنے گۓ ۔اور دواؤں کے ساتھ ساتھ  اپنے خلوص سے  انہیں مقروض کردیا  ۔اس واقعے کو یاد کرتے ہوۓ  فاروق سیّد نے کہا  کہ یہ  قرض  اتارنے  کے لۓ  انہیں کسی بھی  مریض کے ساتھ  وہی حسن سلوک کرنا ہو گا ۔روزنامہ ہندوستان کے  مدیر سرفراز  نے اپنے خیالات  کا اظہار  کرتے ہوۓ  کہا کہ  ہم اپنی  صحت سے متعلق سوچتے ہیں۔ مگر وہی ہوتا ہے ۔جو خدا کو منظور ہوتا ہے ۔ زبیر اعظم اعظمی  نے کہا  کہ  اردو کا کوئی بھی پروگرام ہو سکتا تھا ۔یہی روپیش کی خوبی بھی   عبدالا حد ساز نے کہا کہ مجھے تو روپیش کی موت  کی خبر  سن کرمجھے یقین ہی نہیں آیا ۔اس موقع پر شہر کی معزز شخصیات موجود تھیں ۔ حامد اقبال صدیقی، ڈاکٹر قاسم امام ، اقبال نیازی،شمشیر پٹھان ، انجمن کے نائب صدر حسین پٹیل ، ریحانہ اندرے ، شیخ  عبداللہ ، ڈاکٹر مصطفی پنجابی ، سلیم الوارے ،افسر دکنی،فاروق سیّد ، مسسز نجمہ قاضی ، نادرہ موٹلیکر، نجمہ امتیاز،  غزالہ آزاد ،آیڈوکیٹ زبیر اعظم اعظمی، نجر بجنوری، آصف پلاسٹک والا شاداب صدیقی، منوج وراڈے ، شاداب رشید ،اجۓ سکسینہ ،اور مالیگاؤں اور پونہ سے بھی دیگر اشخاص نے شرکت کیں ،آخری میں ڈاکٹرروپیش سری واستو کی زندگی پر ایک ڈاکیومینٹری دکھائی گئي۔ اوران کے نام پر ہر سال ایوارڈ دینے اور اردو اسکول کا نام روپیش سری واستو کے نام سے منسوب کرنے کی تجویز رکھی  گئی ۔جس کی تائيد سب نے کیں۔    

Tuesday, May 15, 2012

کرناٹک اردو اکیڈمی میں


 ’’لن ترانی ‘‘ کے ڈاکٹر روپیش شری واستوکے انتقال پر تعزیتی جلسہ 
بنگلور ۔ 15  مئی ( راست ) آج مؤرخہ 15  مئی منگل کی دوپہر کرناٹک اردو اکیڈمی میں اردو کے معروف قلمکار پریم چند کے پوتے ڈاکٹر روپیش شری واستو کے انتقال پر ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیاگیا جس میں مرزا عظمت اللہ ، رجسٹرار کرناٹک اردو اکیڈمی، حافظ کرناٹکی ، چیرمین کرناٹک اردو اکیڈمی ، جناب حافظ سید ثناء اللہ نظامی اور جناب نیر ربانی کے علاوہ اکیڈمی کا سارا عملہ موجود تھا، اس موقع پر حافظ کرناٹکی نے مرحوم کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس دنیا میں ایسے بھی لوگ ہیں جو کسی کونے میں بیٹھ کر اردو کی خاموش خدمت کر رہے ہیں، ایسے لوگوں میں ڈاکٹر روپیش کی بھی ایک گمنام شخصیت تھی، جن کے مرنے کے بعد اردو برادری کو اردو کے تئیں ان کی خدمات کا اندازہ ہوا ، ڈاکٹر روپیش شری واستو پریم چند برادری کے ایک ایسے فرد تھے جو پریم چند کے مشن کو ان کہے طورپر اپنا مشن بنا چکے تھے اور اسی کے تحت کام کر رہے تھی، ان کی شخصیت میں سچائی اور حق گوئی کا چارہ پوری طرح سما چکا تھا، وہ ملک دشمن عناصر کے خلاف نہایت خاموشی سے جہاد کر رہے تھی، انہیں اردو زبان سے ایک خاص لگاؤ اور محبت تھی، یہی وجہ تھی کہ وہ اس زبان کے فروغ کے لئے ہر طرح کی کوشش کر رہے تھے ۔ لن ترانی انہی کوششوں کا اثاثہ ہے ، اور ان کی خواہش تھی کے اردو کمپیوٹر جاری ہو ، تاکہ اردو برادری اس اردو کمپیوٹر سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو ۔ انہیں یہ بات ناگوار گزرتی تھی کہ لوگ اردو کی روٹی کھا کر انگریزی بات چیت کرتے ہیں، او راپنے روز مرہ کے کاموں میں انگریزی بول چال کا استعمال کرتے ہیں، حافظ کرناٹکی نے کہا کہ یہ میرے اچھے اردو دوست تھی، جن کے اندر اردو زبان کی ترقی کی حسرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اس کے فروغ کے لئے وہ بہت کچھ کرنا چاہتے تھی، وہ آج ہمارے درمیان نہیں رہے ۔ دعا ہے کہ اردو دنیا کو ان کا نعم البدل عطا ہو ۔ امید ہے کہ ان کے شاگرد ستیہ پرکاش اس کام کو آگے بڑھائیں گے ، محترمہ منور سلطانہ باجی اس کام کو آگے بڑھائیں گے ، آج ایک اچھے اردو ساتھی اور ایک اچھے رہبر کو انہوں نے کھویا ہے ۔ اللہ انہیں صبر جمیل عطا کرے ۔
کرناٹک اردو اکیڈمی کے رجسٹرار جناب ایس مرزا عظمت اللہ نے کہا کہ اردو کے ایسے سچے خادم کی خدمات کو ممبئی جیسے بڑے شہر میںموجود سینکڑوں اردو انجمنوں نے کبھی نہیں سراہا ۔ مجھے فخر ہے کہ جناب حافظ کرناٹکی نے ڈاکٹر  روپیش کو شکاری پور بلا کر ان کی خدمات کے اعتراف میں ایک جلسہ منعقد کیا اور انہیں اعزاز سے نوازا ۔ڈاکٹر  روپیش اردو کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے تھے اور اردو کے تئیں ان کے عزائم انتہائی بلند تھی۔ 
جناب حافظ ثناء اللہ صاحب نظامی نے کہاکہ ڈاکٹر روپیش کے انتقال کی خبر سن کر بڑا صدمہ ہوا ۔ یہ خبر نہ صرف ہمارے لئے بلکہ اردو دنیا کے لئے ہی نہایت رنجیدہ رہی ، اردو دنیا کے لئے یہ بہت بڑا نقصان تصور کیا جاسکتا ہے ۔ مرحوم بالکل خاموش اور گمنامی کے ذریعہ اردو ادب کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے ، اب ان کا ثانی پیدا ہونا ناممکن نہ سہی مشکل ضرور ہے ، اردو ادب کے لئے ایسے گمنام اور بے لوث خدمات انجام دینے والے اگر دو چار بھی مل جائیں تو شاید اردو زبان کی تقدیر ہی بدل جائے ۔ اللہ کرے کہ اردو ادب میںایسے ہی افراد پیدا ہوں،اور زبان اردو کو جگمگاتے ہوئے اپنی نمایاں خدمات اپنے پیچھے چھوڑ جائیں ۔جناب منصور علی خان ( المنصور گرافکس )، جناب نوید پاشاہ (صدر ، اقراتحفظ اردو تنظیم بنگلور)نے کہا کہ جناب روپیش کی موت ہمارے لئے باعث غم ہے ، گزشتہ کچھ دنوں قبل وہ ہمارے درمیان ہنس بول رہے تھے اور ان سے بے انتہائی بے تکلفی ہوگئی تھی، لیکن آج اچانک ان کی موت کی خبر سن کر ہم پر سکتہ طاری ہوگیا ۔ جناب کلیم پاشاہ ( تاج پرنٹرس ) بھی اس تعزیتی اجلاس میں شریک رہے اور ڈاکٹر روپیش کے انتقال پر گہرے رنج کا اظہار کیا۔  رجسٹرار مرزا عظمت اللہ کے کلمات تشکر پر یہ مجلس اختتام کو پہنچی ۔ 

Monday, May 14, 2012

ماں‘ میرے لیے خاص کیوں ہے؟



میری ماں میرے لیے خاص کیوں ہے؟ جب میں سخت بارش میں گھر آیا تو میرے بھائی نے استفسار کیا: تم نے چھتری کیوں نہیں لی؟ میری بہن نے کہا: تم نے بارش رکنے کا انتظار کیوں نہ کیا؟ والد صاحب نے تنبیہہ کی کہ تم بیمار ہوئے تو تمہاری خیر نہیں۔ مگر ماں، جو اب تک میرے بال خشک کررہی تھی بولی: اے بارش، میرے بچے کے گھر پہنچنے تک انتظار تو کرلیتی۔ یہ ہے ماں… نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھا کہ میں نے اپنی معذور ماں کو کاندھوں پر بٹھاکر حج کروایا ہے، کیا میرا حق ادا ہوگیا؟ ارشاد فرمایا: ابھی تو اُس ایک رات کا حق ادا نہیں ہوا جس رات تُو نے بستر گیلا کردیا تھا اور تیری ماں نے تجھے خشک جگہ پر سلایا اور خود گیلے میں سوئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب اپنی والدہ کی وفات کے بعد اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے لیے کوہِ طور پر تشریف لے گئے تو ایک غیبی آواز آئی: ’’اے موسیٰ، اب ذرا سنبھل کے آنا اور سوچ سمجھ کر گفتگو کرنا۔‘‘ حضرت موسیٰ بہت حیران ہوئے اور پوچھا ’’یاباری تعالیٰ وہ کیوں؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اب تمہارے لیے مجھ سے رحم و کرم اور عنایت کی دعا کرنے والی ماں اس دنیا میں نہیں رہی۔‘‘ ماں… احسانات، احساسات، خوبیوں اور جذبات کا وہ مجموعہ ہے جو سارے زمانے کے وار اور موسم کی سختیاں اپنے جسم پر سہتی ہے مگر اس کا ہر لمحہ رشتوں کو پیار کی ڈوری میں پروتے اور اپنی اولاد کے لیے خوشیاں خریدتے گزرتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک دوست کے پاس اُس کی والدہ کی وفات کا افسوس کرنے گیا تو اُس نے بتایا کہ اس کی ماں نے اس کی آسائشوں کی خاطر اس سے آٹھ جھوٹ بولے اور وہ چاہنے کے باوجود اس کے لیے کچھ نہ کرسکا۔ اس نے بتایا کہ ’’اس کی ماں ہمیشہ سچ نہیں بولتی تھی۔ وہ ایک غریب فیملی کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اکثر کھانے کو کچھ نہیں ہوتا تھا۔ اگر کبھی کچھ مل جاتا تو ماں اپنے حصے کا کھانا بھی اسے دے دیتی اور کہتی تم کھالو مجھے بھوک نہیں ہے۔ یہ اس کی ماں کا پہلا جھوٹ تھا… تھوڑا بڑا ہوا تو ماں گھر کا کام ختم کرکے قریبی جھیل پر مچھلیاں پکڑنے چلی جاتی۔ ایک دن بالآخر اس نے دو مچھلیاں پکڑلیں، انہیں جلدی جلدی پکایا اور اس کے سامنے رکھ دیا۔ وہ کھاتا جاتا اور جو کانٹے کے ساتھ تھوڑا بہت لگا رہ جاتا اسے اس کی ماں کھاتی۔ اس نے دوسری مچھلی ماں کے سامنے رکھ دی۔ اس نے واپس کی اور کہا: بیٹا تم کھالو مجھے مچھلی پسند نہیں ہے۔ یہ اس کی ماں کا دوسرا جھوٹ تھا… جب وہ اسکول جانے کی عمر کا ہوا تو اس کی ماں نے ایک گارمنٹس فیکٹری میں ملازمت اختیار کرلی، سردی کی ایک رات جب بارش زوروں پر تھی، وہ ماں کا انتظار کرتا رہا جو ابھی تک نہیں آئی تھی، بالآخر وہ اسے ڈھونڈنے آس پاس کی گلیوں میں نکلا، دیکھا تو وہ لوگوں کے دروازوں پر کھڑی سامان بیچ رہی تھی، اس نے کہا: ماں اب بس بھی کرو، سردی بھی بہت ہے، رات بھی ہوگئی ہے اور تم تھک بھی گئی ہو، باقی کل کرلینا، تو ماں بولی: بیٹا میں بالکل نہیں تھکی۔ یہ اس کی ماں کا تیسرا جھوٹ تھا… ایک روز اس کا فائنل پیپر تھا، اس کی ماں نے ضد کی کہ وہ بھی اس کے ساتھ چلے گی۔ وہ اندر پیپر دے رہا تھا اور وہ باہر دھوپ کی تپش میں کھڑی اس کے لیے دعا کررہی تھی۔ وہ باہر آیا تو اس کی ماں نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا اور ٹھنڈا جوس لے کر دیا۔ اس نے ایک گھونٹ لیا اور ماں کے پسینے سے شرابور چہرے کی طرف دیکھ کر جوس اس کی طرف بڑھایا تو بولی: مجھے پیاس نہیں ہے۔ یہ اس کی ماں کا چوتھا جھوٹ تھا… اس کے باپ کی موت ہوئی تو زندگی مزید مشکل ہوگئی، اکیلے گھر کا خرچ چلانا آسان نہ تھا، اکثر نوبت فاقوں تک آجاتی۔ رشتہ داروں نے ان کی حالت دیکھ کر ماں کو دوسری شادی کا مشورہ دیا مگر ماں نے کہا: ’’مجھے کسی سہارے کی ضرورت نہیں‘‘۔ یہ اس کی ماں کا پانچواں جھوٹ تھا… گریجویشن مکمل کرنے پر اچھی ملازمت مل گئی، سوچا اب ماں کو آرام کرنا چاہیے وہ بہت بوڑھی ہوگئی ہے۔ اس نے ماں کو کام سے روک دیا اور اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ اس کے لیے مختص کردیا۔ ماں نے انکار کیا اور کہا کہ اسے پیسوں کی ضرورت نہیں۔ یہ اس کی ماں کا چھٹا جھوٹ تھا… حصولِ روزگار کے لیے وہ بیرون ملک چلاگیا۔ کچھ عرصے بعد ماں کو اپنے پاس بلایا تو اس نے بیٹے کی تنگی کے خیال سے منع کردیا اور کہا کہ اسے گھر سے باہر رہنے کی عادت نہیں۔ یہ اس کی ماں کا ساتواں جھوٹ تھا… ماں کو کینسر ہوا، وہ بہت لاغر ہوگئی۔ وہ اپنی ماں کے قدموں میں بیٹھ کر خون کے آنسو رونے لگا، ماں اسے دیکھ کر مسکرائی اور بولی: مت رو بیٹا، میں ٹھیک ہوں۔ یہ اس کی ماں کا آٹھواں جھوٹ تھا، اور پھر اس کی ماں نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کرلیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب ماں کی تخلیق کی تو اسے رحمت کی چادر، چاہتوں کے پھول، پاکیزہ شبنم، دھنک کے رنگوں، دعائوں کے خزانوں، زمین و آسمان کی وسعتوں، جذبوں، چاہتوں، چاند کی ٹھنڈک، خلوص، رحمت، راحت، برکت، عظمت، حوصلے اور ہمت کے تمام رنگوں سے مزین کیا، یہاں تک کہ اس کے قدموں میں جنت ڈالی۔ یوں ماں قدرت کا بہترین تحفہ اور عطیہ ہے جس کی قدر ہم پر فرض بھی ہے اور قرض بھی۔ ’’ماں‘‘… یہ لفظ بہت سے معنی اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے۔ ممتا، پیار، وفا، قربانی، محبت، لگن، سچائی، خلوص، پاکیزگی، سکون، خدمت، محنت، عظمت، دعا، سایہ، دوست، ہمدرد، راہنما، استاد، بے غرضی، معصومیت، عبادت، ایمان، دیانت، جذبہ، جنت، یہ سب ماں کی خوبیوں کی صرف ایک جھلک ہے، ورنہ اس کی خوبیاں تو اس قدر ہیں کہ لفظ ختم ہوجائیں مگر ماں کی تعریف ختم نہ ہوگی۔ پس ’’ماں‘‘… ایک ایسا موضوع ہے کہ قلم بھی جس کا احاطہ نہیں کرپاتا۔ اس موضوع پر بہت ضخیم کتب لکھی جاسکتی ہیں مگر ماں کے احسانات، احساسات اور چاہتوں کا بدلہ تب بھی نہیں چُکتا۔ والدین کے احسانات کے بارے میں سوچنے بیٹھیں بھی، تو سوچ ان کے احسانات کے مقابلے میں بہت پیچھے دکھائی دیتی ہے۔ مائیں عزم و حوصلے اور ایثار و قربانی کا پیکر ہوتی ہیں۔ ہم تو مائوں کی ایک رات کا قرض بھی نہیں چکا سکتے۔ میرزا ادیب اپنی کتاب ’’مٹی کا دیا‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’اباجی مجھے مارتے تھے تو امی بچا لیتی تھیں، ایک دن میں نے سوچا کہ اگر امی پٹائی کریں گی تو اباجی کیا کریں گے؟ یہ دیکھنے کے لیے میں نے امی کا کہا نہ مانا، انہوں نے بازار سے دہی لانے کو کہا میں نے بات نہ مانی، انہوں نے سالن کم دیا میں نے زیادہ پر اصرار کیا، انہوں نے کہا پیڑھی کے اوپر بیٹھ کر روٹی کھائو، میں زمین پر دری بچھاکر بیٹھ گیا، لہجہ بھی گستاخانہ اختیار کررکھا تھا۔ مجھے پوری توقع تھی کہ امی ضرور ماریں گی، مگر انہوں نے مجھے سینے سے لگاکر کہا: کیوں بیٹا! ماں صدقے جائے تم بیمار تو نہیں؟ اُس وقت میرے آنسو تھے کہ شرمندگی کے مارے رکنے میں نہیں آرہے تھے۔ جب بھی میرے دل کی مسجد میں تیری یادوں کی اذان ہوتی ہے اے ماں میں اپنے ہی آنسوئوں سے وضو کرکے تیرے جینے کی دعا کرتا ہوں بلاشبہ ماں کا وجود ایک نعمت اور اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ دنیا میں کہیں بھی کوئی انسان کامیاب ہے تو اس کے پیچھے اس کی ماں ہی کا ہاتھ ہے جس کا آج وہ ثمر پارہا ہے۔ ان کی مائوں نے پال پوس کر ان پودوں کو تناور درخت بنایا اور اپنی مائوں ہی کے طفیل آج یہ پیڑ عمدہ اور رسیلا پھل دے رہے ہیں۔ ان کی تربیت میں جو خوبیاں ہیں وہ ان کی مائوں ہی کی مرہونِ منت ہیں۔ ماں کا وجود صرف گھر کے لیے ہی نہیں بلکہ ہماری زندگیوں کے لیے بھی مقدس صحیفے کی مانند ہے۔ ماaں تو تپتے صحرا میں بوند برسنے کا نام ہے۔ یہ کڑی، چلچلاتی دھوپ میں ابر کی مانند ہے۔ دعا ہے کہ جن کے والدین حیات ہیں خدا کرے ان کا سایہ ہمیشہ سلامت رہے اور وہ ہر دکھ، پریشانی، آفت اور آزمائش سے محفوظ ہوں۔ اور جو لوگ والدین کی نعمت سے محروم ہیں وہ اس دعا کا ورد کرتے رہا کریں: … رب ارحمھما کما ربینی صغیرا …

Thursday, May 10, 2012

روپیش سری واستو ہمیشہ کے لیے دلوں میں رہیں گے




تین کہانیاں جو کہ بہت ہی مشہور ہیں ۔ایک   آدمی تھا جو بہت  خوبصورت اور تعلیم یافتہ تھا ۔بہت  امیر  تھا ۔ایک  دن اچانک وہ مر گیا ۔
دوسری کہانی یہ ہے کہ ایک آدمی تھا جو بہت  دولت مند   ہر کام میں ماہر  تھا ۔بہت پیسے والا تھا ۔ لوگوں میں مشہور تھا ۔ غریبوں کا مسیح تھا۔وہ ایک دن مر گیا ۔
تیسری کہانی یہ ہے کہ  ایک آدمی تھا جو بہت غریب تھا ۔ان پڑھ تھا ۔وہ بھی مرگيا ۔
یہ کہانی جو کہ سب کو سنایا کر  تا تھا۔ہر  اردو  ادب  کی محفل کی جان تھا ۔اردو کے فروغ  کے لیے کوشش کرتا رہتا تھا ۔اردو  ویب سائٹ لنترانی ڈاٹ کام اور لنترانی میڈیا ہاؤس کا   مینیجنگ ڈائریکٹر  بروز بدھ مورخہ  9 مئی 2012ء کو حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے  اس دار فانی سے کوچ کر  گئے۔ان کی عمر 38 سال تھی ۔ لنترنی آٹ کام ، بھڑاس     ڈاٹ کام ،اردھ ستیہ بلاگ ، آیوش دید ڈاٹ کام جس پر آیوشوید کی مفت صلح دی  جاتی تھی ۔ اہل اردو سے پر تپاک  سے  ملنا ، ان کی محفلوں میں شریک ہونا اور وقت ضرورت ان کے ساتھ تعاون کرنا  ڈاکٹر روپیش سری واستو کا خاصہ تھا  اچانک اس سانحہ سے اردو حلقوں میں دکھ کی لہر دوڑ گئی ہے ۔
Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP