You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Saturday, October 06, 2012

اختلافات کو دور کرنے کے لئے مباحثہ ہی واحد راستہ ہے جو مسائل حل کرسکتا ہے

مبئی کے مراٹھی پتر کار سنگھ ہال میں منعقدہ ’’ڈائیلاگ بٹون میڈیا اینڈ مسلمس‘‘پروگرام میں دانشوروں و صحافیوں کا اظہار خیال 
ممبئی:ہندوستان میں مسلمانوں اور میڈیا کے مابین پائی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئےممبئی مراٹھی پتر کار سنگھ میں ایک مباحثے کا انعقادـ’’ڈائیلاگ بٹون میڈیا اینڈ مسلمســ‘‘’’مباحثہ مابین میڈیاا ور مسلمان‘‘کا انعقاد کیا گیا جس میں کثیر تعداد میں مسلم فضلاء،ماہرین علم و ادب کے ساتھ سماج کے سر کردہ افراد نیز اہم صحافیوں نے شرکت کی اور اس بات پر زور دیا کہ بات چیت ہی وہ پہلو ہے جس کے ذریعہ مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔پروگرام کے آرگنائزر دانش ریاض نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہماری کوشش یہ ہے کہ میڈیا میں مسلمانوں سے متعلق جو غلط فہمیاں ہیں وہ دور کئے جائیںساتھ ہی مسلمانوں کو یہ بھی یہ بتایا جائے کہ وہ میڈیا سے کس طرح خوشگوار تعلقات بحال کر سکتے ہیں اوراپنی باتیں میڈیا کے افراد تک پہنچا سکتے ہیں۔ ہندوستان ٹائمز کی پولٹیکل ایڈیٹر سجاتا آنندن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’لوگوں کا یہ سوچنا بالکل غلط ہے کہ میڈیا میں صرف مسلمانوں کے خلاف ہی گفتگو کی جا رہی ہے اور کسی کے خلاف باتیں نہیں ہوتیں بلکہ حقیقت تو یہ ہےکہ میڈیا ہر ایک کے لئے آزاد ہے جو چاہے اپنی رپورٹنگ کروائےاور اپنی باتیں پیش کرے‘‘انہوں نے کارپوریٹ کی دخل اندازی پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اشتہارات کا ایڈیٹوریل سے کوئی تعلق نہیں رہتا لہذا ہمیںکبھی بھی اس جانب اس طور پر نہیں دیکھنا چاہئےبلکہ آپ بھی اگر چاہیں تو اشتہارات کے ذریعہ اثر انداز ہو سکتے ہیں‘‘سجاتا نے کہا کہ ’’المیہ تو یہ ہے کہ ’’مسلمانوں کو اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ نہ تو ایڈیٹر حضرات سے ملاقات کرتے ہیں اور نہ ہی خطوط لکھ کر یا مضامین لکھ کر اپنی باتیں پہنچا تے ہیں بلکہ اس کے بر خلاف وہ سیاسی لیڈروں کے پاس کاجا کر اپنی روداد بیان کرتے ہیں۔اسی طرح کوئی ایک لیڈر شپ نہ ہونے کی وجہ سے بھی ہمیں مسلمانوں کے صحیح موقف کا پتہ نہیں چل پاتا۔‘‘تاسیس کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شارق نثار نے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ’’میڈیا نے بین الاقوامی اثرات کو قبول کرتے ہوئے جس طرح مسلمانوں کی شبیہ خراب کرنے کی کوشش کی ہے اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ہونا تو یہ چاہئے کہ میڈیا اس رخ کو پیش کرے جو حقیقت ہے نہ کہ جھوٹی خبروں کا سہارا لے کر اسے پیش کرنے کی کوشش کرےجو ہماری شبیہ داغدار کرے‘‘انہوں نے کہا کہ ’’جب مسلم نوجوان گرفتار ہوتے ہیں تو ان کی خبریں صفحہ اول پر نظر آتی ہیں لیکن جب وہی نوجوان با عزت بری ہو جاتے ہیں تو انہیں خبروں میں جگہ نہیں دی جاتی‘‘۔پریس کلب کے صدر گور بیر سنگھ نے  پروگرام کو ایک خوش آئند قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’اس وقت غلط فہمیاں زیادہ ہیں اور دوریوں کو مزید دوریوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،لہذا ہونا تو یہ چاہئے کہ کسی طرح اس کھائی کو پاٹا جائے اور ڈائیلاگ کی جو نئی کوشش شروع ہوئی ہے اس کی ہمت افزائی کی جائے۔کیونکہ ڈائیلاگ ہی مسائل کا حل پیش کر سکتے ہیں‘‘معروف سینئر صحافی جیوتی پنوانی نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہ انگریزی میڈیا مسلمانوں کی شبیہ خراب کررہا ہے کہا کہ ’’وہیں اردو میڈیا نے جو حرکتیں کی ہیں اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے مسلمانوں کی خراب شبیہ کے تعلق سے مسلم لیڈر شپ کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’جو پولس آفیسر مسلم نو جوانوں کو سب سے زیادہ گرفتار کرتا ہے اور مسلم نوجوانوں کو پریشان کرتا ہے مسلم لیڈر شپ انہیں ہی سب سے زیادہ اپنے پروگراموںمیں بلاتی ہے پھولوں کا گلدستہ پیش کرتی ہے ،‘‘انہوں نے کہا کہ ’’انگریزی میڈیا مسلمانوں کو بدنام کر رہا ہے لیکن اس کا جواب دینے والا کمیونیٹی سے کوئی نہیں ہے جو مسلم صحافی اخبارات میں کام کر رہے ہیں وہ بھی پولس کا اسٹونوگرافر بن کر ہی کام کر رہے ہیں اور صرف کرائم رپورٹنگ تک ہی محدود ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر آپ کو کسی خبر سے تکلیف پہنچتی ہے تو آپ عدالتوں ،پریس کونسل وغیرہ کا رخ کیوں نہیں کرتے‘‘۔سینئر صحافی جتن دیسائی نے کہا کہ ’’حالات کی خرابی کو درست کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور ڈائیلاگ ہی اس کی بہتر صورت ہے،جب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا اس وقت تک ہم بہتر ماحول مہیا کرا سکیں گے‘‘۔انہوں نے ایشیائی اسلام کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس خطے کا مسلمان عربی خطے کے مسلمانوں سے جدا ہے لہذا ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے‘‘۔اسلامک ایجوکیشن سینٹر بھوپال سے تشریف لائے اطہر خان نے کہا کہ ’’مغربی میڈیا نے جو ماحول بنایا ہے ہندوستانی میڈیا اسی کے زیر اثر کام کر رہا ہے اگر حالات یہی رہے تو پھر دوریوں میں اضافہ ہوگا‘‘انہوں نے نبی کریم ﷺ کی توہین اور دہشت گردی کے عنوان پر مسلمانوں کی شبیہ خراب کرنے میڈیا کے اہم رول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ آخر ہمیں ان موضوعات میں الجھا کر مغربی میڈیا کیا فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے‘‘۔انقلاب کے سب ایڈیٹر قطب الدین شاہد نے اردو میڈیا پر لگائے گئے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’اردو میڈیا نے مسلمانوں کی رہنمائی کا کام انجام دیا ہے بلکہ کبھی بھی اردو میڈیا نے مسلمانوں کو کسی غلط رخ پر لے جانے کی کوشش نہیں کی ‘‘انہوں نے کہا کہ ’’ہمارے یہاں جہاں تعلیمی ترقی ،سماجی ناہمواری کو ختم کرنے والے مضامین شائع ہوتے ہیں وہیں ملکی مفادات سے متعلق بھی مضامین کی لمبی فہرست ہوتی ہے۔‘‘واضح رہے کہ اس پروگرام میں مولانا بر ہان الدین قاسمی،مبارک کاپڑی ،ڈاکٹر سید خورشید،اشرف ملانی وغیرہ نے بھی گفتگو میں حصہ لیا تو سامعین میں حسن چوگلے،لیاقت علی خان،جی ایم صدیقی،قاسم امام۔اسلم پرویز،خورشید صدیقی وغیرہ شریک تھے۔

No comments:

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP