You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Wednesday, March 09, 2016

آج جدید اردو نظم کے بنیاد سازوں میں شامل ، ل کے فلم مکالمہ نگار اختر الایمان کی برسی ہے۔ 9March,1996.. اخترالایمان کا ذکر کیا جائے تو یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ اردو نظم کے باکمال شاعر اور ہندی فلموں کے لاجواب سکرین رائٹر تھے۔ انہوں نے بہت عرصہ تک اپنی فنی عظمت کے نقوش چھوڑے۔ 12 نومبر1915 ء کو قلعہ ڈسٹرکٹ گرھوال اترچند بھارت میں پیدا ہونے والے اختر الایمان نے بجنور میں ابتدائی تعلیم حاصل کی جہاں ان کا رابطہ شاعر اور اپنے وقت کے معروف عالم خورشید الاسلام سے ہوا جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔ انہوں نے دہلی کے ذاکر حسین کالج سے گریجوایشن کی اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے اردو کیا۔ انہوں نے اظہار شعر کیلئے غزل کی بجائے نظم کا انتخاب کیا اور بہترین نظمیں تخلیق کیں۔ان کی شہرت کی ایک بڑی وجہ وہ فلمیں بھی تھیں جن کے وہ سکرین رائٹر تھے۔ ویسے تو وہ بے شمار فلموں کے سکرین رائٹر تھے، جن فلموں نے انہیں بہت شہرت بخشی ان میں ’’وقت، آدمی، جورو کا غلام، داغ، ضمیر، چھتیس گھنٹے، چور پولیس، دومسافر، چاندی سونا، لہو پکارے گا، ہمراز اور قانون‘‘ شامل ہیں، وہ فلم ’’لہو پکارے گا‘‘ کے ہدایتکار بھی تھے۔ سکرین رائٹر کی حیثیت سے ان کی عظمت مسلمہ تھی اور سلیم خان اور جاوید اختر نے بھی بارہا اس حقیقت کا اعتراف کیا۔ 1973ء میں یش چوپڑا کی فلم ’’داغ‘‘ سپرہٹ فلم تھی اور اس فلم نے شرمیلا ٹیگور اور راجیش کھنہ کی فنی صلاحیتوں کو ایک نئی سمت سے روشناس کیا۔ یش چوپڑا خود کہتے ہیں کہ ان کی اس فلم کی کامیابی میں اس کے سکرین رائٹر اختر الایمان کا بڑا ہاتھ تھا۔ اسی طرح 1965ء میں ریلیز ہونے والی ’’وقت‘‘ کے سکرین رائٹر بھی وہی تھے۔ اس فلم کے ہدایتکاربھی یش چوپڑا تھے۔ اسی طرح دلیپ کمار کی فلم ’’آدمی‘‘ کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے سکرین رائٹر اختر الایمان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ اختر الایمان نے ایک نظم گو کی حیثیت سے بھی بڑا نام کمایا۔ ان کی آزاد نظموں میں میرا جی اور ن م راشد کے شعری فکر کی پرچھائیاں ملتی ہیں۔ میرا جی کے ساتھ ان کی بڑی دوستی تھی جو ایک طویل عرصہ تک برقرار رہی۔ اختر الایمان کوایک انتہائی منفرد نظم نگار تسلیم کیا جاتا ہے۔ ویسے تو کچھ نقادوں کی رائے میں وہ کھردری زبان استعمال کرتے تھے اور ان کی زبان کو شعری زبان نہیں کہا جا سکتا لیکن بہرحال ایک بات طے شدہ ہے کہ وہ ایک انتہائی اختراع پسند شاعر تھے۔ ان کے شعری مجموعوں میں ’’تاریک سیارہ، گردیاب، آب جو، یادیں، نیا آہنگ اور سروسامان ‘‘شامل ہیں۔ اختر الایمان اپنے ہم عصر شاعروں سے بالکل الگ نظر آتے ہیں۔ یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ اختر الایمان شاعر اور سکرین رائٹر کے علاوہ ڈرامہ نگار بھی تھے۔ انہوں نے صرف ایک فلم کے گیت لکھے جس کا نام تھا ’’بکھرے موتی‘‘۔ وہ بھارت کے مشہور اداکار امجد خان کے سسر تھے۔ اختر الایمان کو 1963ء میں دھرم ’’پترا‘‘ فلم کے بہترین، مکالمے لکھنے پر فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اسی طرح 1966ء میں فلم ’’وقت‘‘ کے مکالمے لکھنے پر بھی انہیں اس ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 1962ء میں انہیں سہسیتااکیڈمی ایوارڈ (اردو) سے نوازا گیا۔ ذیل میں ہم اپنے قارئین کیلئے اختر الایمان کی کچھ نظموں کا تذکرہ کررہے ہیں: پھر وہی تاروں کی پیشانی پر رنگ لازوال پھر وہی بھولی ہوئی باتوں کا دھندلا سا خیال ایک اور نظم کے مندرجہ ذیل اشعارملاحظہ کیجئے: تم سے بے رنگی ہستی کا گلہ کرنا تھا دل پہ انبار ہے خوں گشتہ تمنائوں کا آج ٹوٹے ہوئے تاروں کا خیال آیا ہے ایک میلہ ہے پریشان سی امیدوں کا اختر الایمان نے فلموں میں بھی ادبی پن برقرار رکھا۔ ان کی کئی فلمیں ادب کی چاشنی سے مزین ہیں۔ یہی ان کا کمال ہے۔ پاکستان میں ان کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ قتیل شفائی، سیف الدین سیف اور تنویر نقوی نے اپنی فلمی شاعری میں بھی ادب کی چاشنی کو برقرار رکھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ مذکورہ بالا تینوں شاعر غزل گو تھے جبکہ اختر الایمان نظم گو تھے۔ 9 مارچ1996ء کو اختر الایمان کا ممبئی میں انتقال ہوگیا۔ بشکریہ:عبدالحفیظ ظفر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منتخب نظمیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ درد کی حد سے پرے درد کی حد سے پرے کوئی نہیں جا سکتا درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں ایک سنّاٹا ہے، احساس کی ادراک کی موت یہ کرہ، گھومتی پھرتی یہ ستم کوش زمیں خاک اور آب کا اِک گولا ہے بے رونق سا آؤ چھپ جائیں، چلو موت کے ڈر سے بھاگیں تم مری بانہوں میں، میں زلفوں میں چھپ جاؤں یہیں اور اس درد کا اظہار کریں زندگی جس سے عبارت ہے تمام درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں گرمیِ عشق، یہ بوسوں کی حرارت، یہ سد مھ جو پسینہ میں ہے یہ جھرجھری جو تم نے ابھی سینہ کو چھونے سے لی، سب یہ سمو لےنم کی بھوک جسم کے ٹوٹنے اِک نشہ میں گھل جانے کا رس رنگ میں، نغموں میں اور لمس میں ڈھلنے کی ہوس سال، صدیاں یہ قرن، ماہ، یہ لمحے، یہ نفس کیف، بہجت، خوشی، تسکین، مسرت سب کچھ سب یہ اس واسطے ہے درد ہے ساتھی ہر وقت درد پیمانہ ہے ہر چیز کا اس دنیا میں زیست اِک واہمہ ہے ذات کے ہونے کا گماں درد کی حد سے پرے کچھ بھی نہیں جس کا نشاں درد کی حد سے پرے سوچ لو تم کچھ بھی نہیں ایک سنّاٹا ہے احساس کی ادراک کی موت درد کی حد سے پرے کچھ بھی نہیں جان کہیں درد کی حد سے پرے کوئی گیا بھی تو نہیں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اتفاق دیار غیر میں کوئی جہاں نہ اپنا ہو شدید کرب کی گھڑیاں گزار چکنے پر کچھ اتفاق ہو ایسا کہ ایک شام کہیں کسی اِک ایسی جگہ سے ہو یوں ہی میرا گزر جہاں ہجوم گریزاں میں تم نظر آ جاؤ اور ایک ایک کو حیرت سے دیکھتا رہ جائے! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عمر گریزاں کے نام عمر یوں مجھ سے گریزاں ہے کہ ہر گام پہ میں اس کے دامن سے لپٹتا ہوں مناتا ہوں اسے واسطہ دیتا ہوں محرومی و ناکامی کا داستاں آبلہ پائی کی سناتا ہوں اسے خواب ادھورے ہیں جو دُہراتا ہوں ان خوابوں کو زخم پنہاں ہیں جو وہ زخم دکھاتا ہوں اسے اس سے کہتا ہوں تمنّا کے لب و لہجے میں اے مری جان مری لیلیِ تابندہ جبیں سنتا ہوں تو ہے پری پیکر و فرخندہ جمال سنتا ہوں تو ہے مہ و مہر سے بھی بڑھ کے حسیں یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں کہ ابھی تک میں نے جاننا تجھ کو کجا پاس سے دیکھا بھی نہیں صبح اُٹھ جاتا ہوں جب مرغ اذاں دیتے ہیں اور روٹی کے تعاقب میں نکل جاتا ہوں شام کو ڈھور پلٹتے ہیں چراگاہوں سے جب شب گزاری کے لیے میں بھی پلٹ آتا ہوں یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں مرا سرمایہ ابھی خواب ہی خواب ہیں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں ملتوی کرتا رہا کل پہ تری دید کو میں اور کرتا رہا اپنے لیے ہموار زمیں آج لیتا ہوں جواں سوختہ راتوں کا حساب جن کو چھوڑ آیا ہوں ماضی کے دھندلکے میں کہیں صرف نقصان نظر آتا ہے اس سودے میں قطرہ قطرہ جو کریں جمع تو دریا بن جائے ذرّہ ذرّہ جو بہم کرتا تو صحرا ہوتا اپنی نادانی سے انجام سے غافل ہو کر میں نے دن رات کیے جمع خسارہ بیٹھا جاننا تجھ کو کجا پاس سے دیکھا بھی نہیں اے مری جان مری لیلیِ تابندہ جبیں یوں نہ ہو مجھ سے گریزاں مرا سرمایہ ابھی خواب ہی خواب ہیں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیشکش:: و.ا. جوگی

No comments:

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP