You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Saturday, October 18, 2014

جمہوری حکومت اور عوام کی سوچ


مہاراشٹر اور ہریانہ میں انتخابی عمل ختم ہو چکا ہے ۔ ہزاروں امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ مشین میں بند ہو چکا ہے جو عوام یا ملک کی خدمت کیلئے نہیں بلکہ انہوں نے جو کچھ سرمایہ کاری اس الیکشن میں کی ہے اس کی سودسمیت واپسی کی لالچ میں شامل ہوئے اور اسی وجہ سے انہوں نے سرمایہ لگایا اور جیتنے کے بعد ان کی ترجیح عوامی املاک اور ملکی سرمایہ کی بندر بانٹ اور کروڑ پتی سے ارب پتی بننے کی طرف پیش قدمی ہی ہوتی ہے۔ ملک میں 65 سال سے یہ تماشہ جاری ہے ۔ اس درمیان ملک میں ارب پتیوں اور کروڑ پتیوں کی تعداد تو بڑھی ہے لیکن اسی کے ساتھ غریب اور غریب ہوا اور کسانوں کی حالت اتنی خراب ہوئی کہ انہیں موت کی آغوش میں ہی سکون مل رہاہے ۔ ایک بار پھر ابھی چار ماہ قبل پارلیمانی انتخاب ہو اتھا ۔ اب دو ریاستوں کی اسمبلی کیلئے انتخاب ہوا۔
بھاری سرمایہ کاری کرکے سیاسی جماعتیں اور امیدواروں نےملک کی خدمت اور عوام کو بہتر زندگی دینے کے وعدے کے ساتھ طرح طرح کی ترکیبیں اختیار کرکے نئے نئے جدید ذرائع سے عوام میں پہنچ بنانے کی بھرپور کوشش کی ۔ انہوں نے اس میں کتنی کامیابی حاصل کی 19
؍اکتوبر کو نتیجہ کی آمد کے ساتھ اس کا پتہ چلے گا۔ لیکن اتنا تو طے ہے کہ عوام کی زندگی میں کوئی خاص فرق نہیں آنے والا۔ بدعنوانی کا یونہی بو ل بالا رہے گا کسان اسی طرح خود کشی کرتے رہیں گے ۔سرمایہ دار عوام کا خون اسی طرح چوستے رہیں گے۔سرکاری افسران عوام کو ظلم و ستم کا نشانہ بناتے رہیں گے ۔ اس کی دو وجہ ہیں ۔ اول یہ کہ مغربی جمہوری طریقہ انتخاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کا سارا دارو مدار بھرپور تشہیر پر ہے جس میں کثیر سرمایہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ ملک اور بیرون ملک کے سرمایہ دار اپنے کاروباری مفاد کی خاطر مشروط سرمایہ لگاتے ہیں۔ اس بار آخری دو دن بی جے پی نے تشہیر کے سارے جدید ذرائع کو سرمایہ کی قوت سے خرید لیا ۔ کیا ایسی صورت میں یہ امید کی جاسکتی ہے کہ کوئی عام آدمی اس انتخابی عمل میں شامل ہوکر عوام کی خدمت کرے ۔ دوسری خاص وجہ ہے کہ اس ملک کے لوگ فرقہ وارانہ خطوط اور ذات پات اور لسانی اور علاقائی بنیادوں پر بری طرح تقسیم ہیں۔ جب عوام میں اتنا تفرقہ ہو تو پھر حکومت کے گریبان کون پکڑے ۔ اس لئے آپ اور ہم بس اس نظام کو یونہی چلائے چلئے ۔ آنکھیں بند کرکے جمہوریت کی لاٹھی پکڑ کر آگے بڑھتے رہئے ۔ انتخابی عمل میں حصہ لیتے رہئے ۔ کیوں کہ بڑی بڑی مشہور ہستیوں کے مطابق یہ ملک کا سب سے بڑا تہوار ہے اور اس سے غفلت ملک کی ترقی سے غفلت یا اعراض ہے۔ ان کے لئے تو واقعی یہ صحیح اور نفع بخش ہوسکتا ہے لیکن کیا مقہور ،مجبور اور پسماندہ آبادی کے لئے بھی ایسا ہی معاملہ ہے ۔ یقینا ً جواب نفی میں ہوگا۔ اس کی سچائی کی تصاویر ملک میں ہر طرف بکھڑی پڑی ہیں ۔ آپ بھی اس کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم دیکھ کر بھی ان دیکھی کریں اور اس کے سدھار سے متعلق کسی نکتہ پر پہنچنے کی کوشش نہ کریں تو اس میں کسی کا کیا قصور ۔ تعلیم کا ہر طرف چرچا ہے لوگ نئی نئی ایجادوں سے مستفید ہو رہے ہیں لیکن اپنی سوچ کو آج بھی انہوں نے کسی نہ کسی کا غلام بنا رکھا ہے ۔ نہ جانے یہ غلامی کہاں جا کر رکے گی۔ آج تو جانور بھی سوچنے سمجھنے والا ہو چکا ہے لیکن انسان ہے کہ کچھ سوچنے اور خود کو تبدیل کرنے کو راضی ہی نہیں سکہ کا ایک رخ ہی دیکھ کر فیصلہ کرلیتا ہے ۔ دوسرا رخ دیکھنے کیلئے اس کے پاس وقت ہی نہیں اس کے لئے اسے شاید کسی صور اسرافیل کا انتظار ہے۔ میری باتوں سے اختلاف ہو سکتا ہے اور ہونا بھی چاہئے لیکن بتائیے کہ کیجریوال کو کیوں ناکام مان لیا گیا ۔ اور عوام کیوں ذرائع ابلاغ کے گمراہ کن پروپگنڈہ کی رو میں بہے چلے جارہے ہیں۔ کیجریوال نے تو خالص عوامی خدمت کی تحریک شروع کی تھی ۔ جو وہ آج بھی جاری رکھے ہوئے ہیں ۔لیکن لوگوں کی ان کے تئیں طرح طرح طنز سنیں تو یہ احساس جاگتا ہے کہ شاید عوام اسی سڑے گلے نظام میں بے حسوں کی زندگی ہی گزارنا چاہتے ہیں ۔ ایک امیدوار کے بارے میں ابھی حالیہ ممبئی انتخاب میں ایک شخص نے کہا کہ امیدوار تو اچھا ہے لیکن پیسہ خرچ نہیں کرتا ۔اب بتائیے جہاں لوگ سترہ پیسہ روز کے حساب سے اپنے ووٹ کو بیچ دیتے ہوں ۔اور اچھے امیدوار کو جتانے کی کوشش کرنے کی بجائے یہ کہتے ہوں کہ یہ پیسہ خرچ نہیں کرتا ۔ بس یہی کمال ہے اس مغربی جمہوری نظام کا ۔جہاں لوگوں کے سوچنے کا انداز بھی بدل جاتا ہے ۔اور اب ایسی سوچ کے ساتھ سوچتے ہیں کہ تبدیلی آجائے اور بد عنوانی ختم ہو جائے تو بھائی یہ ناممکن ہے ۔ 
نہال صغیر

ممبئی ۔ موبائل: 9987309013
https://ssl.gstatic.com/ui/v1/icons/mail/images/cleardot.gif


No comments:

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP