You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Friday, October 28, 2011

قانون حق تعلیم RTE کے مضراثرات اطفال کو مفت اور لازمی تعلیم کے حق کاقانون E-mail


 THE RIGHT OF CHILDREN TO FREE AND COMPULSORY EDUCATION ACTملک کی پارلیمنٹ نے آگسٹ۲۰۰۹ء میں منظور کیا جو صدر جمہوریہ کی دستخط کے بعد یکم/ اپریل ۲۰۱۰ء سے نافذ العمل قراردیا گیا جس کے مکمل نفاذ کے لئے تین سال کی مدت رکھی گئی گویا حکومتیں تین سال کے اندر اپنی ذمہ داریوں کو مکمل کرلیں گی اور یکم/ اپریل۲۰۱۳ء سے یہ قانون مکمل طورپر نافذ العمل ہوگا اس قانون کو عام طورپر قانون حق تعلیم RTE کہا جاتاہے۔
اس قانون کا مقصد بہت ہی اعلیٰ اور ارفع ہے جس سے اختلاف کرتا مشکل ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ملک کے ہر بچہ کے لئے جس کی عمر(۶) اور (۱۴) سال کے درمیان ہو پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت تک ا یلیمنٹری تعلیم کا انتظام کیا جائے اور اس کو بچوں کا حق قراردیا گیا ہے کہ کوئی بچہ ایسا نہ رہے جس کو ایلیمنٹری تعلیم نہ ملی ہو۔ مگر اتنے اچھے مقصد کے لئے جو طریقہ کا رقانون میں مقرر کیا گیا ہے اس سے یہ مقصد حاصل ہونے کی بجائے ان پڑھ بچوں کی تعداد اور تناسب میں اضافہ ہوگا ۔علاوہ ازیں یہ قانون مذہبی تعلیم کے اداروں اور اقلیتوں کے زیر انتظام اسکولوں کو نقصان پہنچائے گا۔
اس قانون کی منظوری کے بعد یہ اعلان ہواکہ تین سال کی مدت میں آبادی کے علاقوں میں مرکزی وریاستی حکومتوں اور حکومت مقامی کے اداروں (کاریوریشن‘بلدیہ‘ ضلع پریشد‘پنچایت کمیٹی) کی جانب سے ہرکیلو میٹر پر ایک اسکول قائم کیا جائے گا۔ ا گسٹ ۲۰۰۹ء کے بعد آج کی تاریخ تک ایک بھی نیا اسکول قائم نہیں ہوا۔ یوں بھی ۳۱/ مارچ ۲۰۱۳ء تک ہر ایک کیلومیٹر پر ایک سرکاری اسکول قائم ہوجائے گا۔ اس کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ یہ تقریباََ ناممکن العمل ہے ۔اس لئے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے قانون یہ بننا چاہیے تھاکہ عوامی ادارے‘ انجمنیں ‘گروپس جگہ جگہ اسکول قائم کرسکیں اور اس کے لئے ان کو ترغیبات (INCENTIVES) دیئے جائیں۔ اس کے بر خلاف خانگی اسکولس کے قیام پر پابندی لگادی گئی ہے۔ قبل از قبل حکومت سے منظوری لئے بغیر کوئی خانگی اسکول قائم نہیں ہوسکتا اور اسکول کے لئے ایسی شرایط لگائی کئی ہیں جن کی پابندی سرکاری اسکولس میں بھی نہیں ہوئی۔ بڑے شہروں میں کھلی آراضی کا ملنا بڑادشوار کام ہے۔ کیا ہر سرکاری پرائمری اسکول اور مڈی اسکول میں پلے گراونڈ ہے خانگی اسکول کے لئے اس کی شرط عائد کرنا غلط ہے ۔ قانون کا جو مقصد ہے اس کو حاصل کرنے کے لئے خانگی اسکولس کے زیادہ سے زیادہ قائم ہونے کے لئے سہولتیں فراہم کی جائیں جو میعارات مقرر کئے گئے ہیں ان کو کم سے کم کیا جائے‘ ہر موسم کے لئے سازگار عمارت(ALL WEATHER BUILDING) جیسی مبہم اور غیر واضح اصطلاحات کی بجائے واضح بات کہی جائے اور اسکول قائم کرنے کے لئے ترغیبات (INCENTIVES) دیئے جائیں تو مقصد کے حصول میں آسانی ہوگی اور جگہ جگہ اسکول قائم ہوگا۔
دوسرا پہلو معیاری اور عمدہ تعلیم کا ہے ۔اس تعلیم کی بنیاد پر ہندوستان ساری دنیا کے لئے بہترین افرادی قوت(MAN POWER) فراہم کرنے والا ملک بن رہا ہے۔ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوستانی اپنی قابلیت اور صلاحیت کا ہر جگہ‘ امریکہ‘ انگلینڈ‘ آسٹریلیا ‘کینیڈا وغیرہ میں لوہا منوارے ہیں اس کے لئے تعلیم کا معیاری اور عمدہ ہونا ضروری ہے ۔مگر RTE قانون ایسی نسل کو تیار کرنے کا منصوبہ سامنے لاتا ہے جن کے ہاتھ میں سرٹیفیکٹ نام کا کاغذ ہوگا لیکن تعلیمی صلاحیت کچھ نہیں ہوگی۔ کیونکہ اس قانون میں یہ لازم کیا گیا ہے کہ طالب علم کوتعلیمی سال کے ختم پر اگلی کلاس میں ترقی دیدی جائے اس کا دارومدار کسی ٹسٹ یا امتحان پرنہیں ہوگا۔ اسی طرح کوئی لڑکا یا لڑکی اسکول میں داخلہ لینا چاہیے تو بغیر کسی ٹسٹ کے اس کی عمر کے لحاظ سے کلاس میں داخلہ دینا ہوگا۔ اگر اس کی عمر بارہ سال ہے تو چاہے وہ کچھ نہ جانتا ہوچھٹی کلاس میں داخلہ دینا ہوگا۔ آٹھویں کلاس کی تعلیم کے بعد بھی نہ کوئی امتحان ہوگا نہ کوئی ٹسٹ ہوگا۔ اس کو آٹھویں تک تعلیم حاصل کرنے کا سرٹیفکیٹ دید یا جائے گا بتلائے کیسی نسل ابھرے گی؟طلبا عموماََ امتحان کے قریب ہی سنجیدگی سے پڑھتے ہیں اور جب امتحان ہی نہ لیا جائے گا تو کتنے طلباء سنجیدگی سے پڑھیں گے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے ایسی نسل نکلے گی جو دنیا میں ہندوستان کا نام بلند کرنا تو بہت دور کی بات ہے ملک میں ایسا کوئی کام انجام نہیں دے سکے گی اور ایسی کوئی خدمت نہیں کرسکے گی جس کے لئے تعلیمی صلاحیت ضروری ہے ۔یہ قانون ہماری افرادی قوت MAN POWER کو غیر معیاری اور ناکارہ بنائے گا۔

مذہبی تعلیمی اداروں کے لئے خطرہ :-  
قانون کی دفعہ ۳(۱) کی رو سے چھ سال سے چودہ سال کی عمر کے ہر بچہ کو قرب وجوار کے اسکول میں یلیمنٹری تعلیم (پہلی سے آٹھویں کلاس) کی تکمیل تک مفت اور لازمی تعلیم حاصل کرنے کا حق تسلیم کیا گیا ہے اور دفعہ۲۹(۱) کی رو سے ایلیمنٹری تعلیم کا نصاب متعلقہ حکومت کا تشکیل کردہ ادارہ تیار کرے گا۔ مطلب یہ ہوا کہ ہر بچہ کو سرکاری نصاب کے مطابق پہلی سے اُٹھویں کلاس تک تعلیم دلانا اس کا بنیاد حق ہے یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ کے بعد ۱۴ سال کی عمر تک لازمی تعلیم کو دستور کے رہنمااصولوں میں سے ایک اصول کی بجائے دستور میں ترمیم کرکے آرٹیکل ۲۱(۷۱) کے ذریعہ بنیادی حق قرار دیا گیا۔
دفعات۶ تا ۱۰ میں ہربچہ کو سرکاری نصاب کے مطابق پہلی سے آٹھویں کلاس کی تعلیم کا انتظام کرنا‘ متعلقہ حکومتوں‘ حکومت مقامی اداروں اور والدین وسرپرستوں کا فریضہ (DUTY) اقرار دیا گیا ہے اور اگر وہ یہ کام نہیں کرتے ہیں تو اپنے فرض کی عدم انجام دہی کے قصوروار ہیں
ان دفعات کی موجودگی میں غور فرمائیے کیاوہ بچہ جس کی عمر ۱۴ سال یا اس سے کم ہے اور وہ کسی دینی مدرسہ میں تعلیم پارہا ہے‘اس کو اس کا بنیادی حق مل رہا ہے ‘حکومتیں ‘حکومتی ادارے‘ والدین یا سرپرست اس بچہ کے تعلق سے اپنا فرض انجام دے رہیں؟۔ نہیں ۔ یہ سب قصور وار اور مجرم ہیں اور سزا کے مستحق ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ اس صورت حال میں وہ دینی مدارس جہاں (۱۴) سال اور اس سے کم عمر کے بچے پڑھتے ہیں یکم/ اپریل ۲۰۱۳ء کے بعد جاری نہ رہ سکیں گے اس قانون کو تیار کرنے والوں نے اس پر غور نہیں کیا کہ مذہب کی تعلیم کے اداروں کو دستور کے اُرٹیکل ۲۵ اور ۲۶ کا تحفظ حاصل ہے۔ آرٹیکل ۲۵ مذہبی عقیدہ کے رکھنے‘ اس پر عمل کرنے اور اس کی اشاعت کرنے کی آزادی کا اعلان کرتا ہے اور مذہبی تعلیم کے ادارے مذہب کی آنے والی نسل میں اشاعت کا عمل ہیں آرٹیکل ۲۶ ہر مذہبی فرقہ کو اپنے مذہبی اور خیراتی مقاصد کے لئے ادارے قائم کرنے اور چلانے کا حق دیتا ہے۔ یہ قانون اس طرح ان دوبنیادی حقوق سے متصادم ہے ۔گزشتہ سال جو لائی میں متعلقہ وزیر مسٹرکپل سبل نے وعدہ کیا تھا کہ وہ قانون میں ترمیم کرکے مذہبی تعلیم کے اداروں کو قانون کے دائر ہ عمل سے خارج کریں گے لیکن قانون میں ترمیم کے لئے تو انھوں نے کچھ نہیں کیا البتہ گزشتہ نومبر میں ان کی وزارء ت سے گائیڈ لائنس جاری کے گئے جس کی گائیڈ لائن نمبر۳ میں کہا گیا بشمول مدرسہ اور ویدک پاٹھ شالہ خصوصاََ مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے لئے قائم اداروں کو دستور آرٹیکل ۲۹ اور ۳۰ کا تحفظ حاصل ہے۔ ایسے اداروں کی برقراری کے راستہ میں اور ایسے اداروں میں اطفال کے حقوق کے معاملہ میں RTE حائل نہیں ہوتا۔ پہلی بات تو یہ گائیڈلائنس ‘پارلیمنٹ سے منظورہ قانون میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتے اور قانون اور ان میں اختلاف ہوتو گائیڈلائنس کا کوئی مقام نہیں ہے دوسرے یہ کہ دستور کے آرٹیکل ۲۵ اور ۲۶ کا حوالہ دینے سے احتراز کیاگیا ہے اور غلط حوالہ دیا گیا ہے۔ بتایا جائے کہ ویدک پاٹھ شالہ کس مذہبی یا لسانی اقلیت کاادارہ ہے اور حیرت ہوتی ہے کہ دستور کا یہ غلط حوالہ اس وزارء ت کی طرف سے دیا جارہا ہے جس کے وزیر مشہور وکیل اور ماہر قانون رہے ہیں۔ طرفہ نماشہ یہ ہو کہ گائیڈلائن نمبر۴ میں کہا گیا ہے کہ اقلیتی تنظیموں کے اسکولوں پر RTE کی دفعات کا اطلاق ہوگا۔سوال ہے کہ نمبر۳ میں کس لسانی اقلیت کا ذکر ہے اور نمبر۴ کس لسانی اقلیت سے متعلق ہے انسانی وسائل کے فروغ کی وزارء ت سب کو کھلونے دے کے بہلا نے کی کوشش کررہی ہے بلکہ صریحاََ دہوکہ اور فریب سے کام لے رہی ہے ‘نہ ہی مذہبی تعلیمی اداروں کو مستثنیٰ قرار دیاگیا ہے اور نہ اقلیتوں کے تعلیمی حقوق کو متاثر کرنے والے دفعات کا اطلاق نہ کرنے کی بات کہی گئی ہے۔




اقلیتی تعلیمی اداروں کی خود مختاری پر ضرب :-
ہمارے دستور کا آرٹیکل (۲۹) مذہب اور زبان کی بنیاد پر اقلیتوں کو تسلیم کرتا ہے اور اپنی زبان اور کلچر کے تحفظ و فروع کا حق اقلیتوں کو عطا کرتا ہے آرٹیکل (۳۰ )اقلیتوں کو اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کو چلانے کی اجازت دیتا ہے اسی بنیادی حق کی وجہ سے ملک کے طول وعرض میں مسلمانوں ‘ عیسائیوں ‘پارسیوں کے اپنے اسکول اور کالج قائم ہیں۔ ان تعلیمی اداروں کے انتظامی معاملات میں خود مختاری حاصل ہے جس کو سپریم کورٹ نے اپنے کئی فیصلوں میں تسلیم کیا جائے سپریم کورٹ کے فیصلوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صرف دوصورتوں میں اقلیتی تعلیمی اداروں میں مداخلت کی جاسکتی ہے یہ کہ تعلیم بالکل غیر معیاری ہورہی ہوتو اس کو معیاری بنانے کے لئے اور اگر اسٹاف کے حقوق پامال کئے جارہے ہوں تو ان حقوق کو بحال کروانے کے لئے۔ ان امور کے علاوہ اقلیتی تعلیمی ادارے اپنے اندرونی معاملات میں خود مختار ہیں۔
اسRTE قانون کی کئی دفعات اس حق کو متاثر کرتی ہیں۔ پہلی بات تویہ ہے کہ اس قانون میں اقلیتی اسکولس کا ایک الگ زمرہ قائم کرنا چاہیے تھا۔ نہیں کیا گیا صرف خانگی اسکول کا ہی ایک الگ زمرہ ہے۔ ان اسکولس کو چھوڑ کرجو حکومت سے کوئی امداد نہیں لیتے دیگر تمام اسکولس کے لئے یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ اس کی مینجمنٹ کمیٹی میں کم سے کم تین چوتھائی تعداد یعنی۷۵ فیصد سے زیادہ تعداد طلباء کے والدین اور سرپرستوں کی ہو اور یہ کہ کل کی نصف تعداد خواتین کی ہو۔ اولیائے طلباء کی تین چوتھائی تعداد کو مینجمنٹ میں لینے کے بعد کیا اس اسکول کا انتظام اس کو قائم کرنے والے اقلیتی ادارے کے ہاتھ میں رہے گا۔؟ علاوہ ازیں یہ بھی لازم قرار دیا گیا کہ اسکول میں ۲۵فیصد تعداد اطراف کی آبادی کے کمزور طبقات کے طلباء کی ہو‘ طلباء کے داخلہ کے لئے شرط نہ ہو اور کوئی فیس نہ لی جائے۔ اس قانون کے اور بھی دفعات جن سے اقلیتی اسکولس کی داخلی خود مختاری پر ضرب پڑتی ہے اور اس کے اقلیتی کردار کو برقرار رکھنا مشکل ہوجاتا ہے۔
ان مضراثرات کے پیش نظر آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ نے دینی تعلیم کے اداروں کے لئے استثنیٰ اور اقلیتی تعلیمی اداروں کے لئے داخلی خود مختاری کو متاثر کرنے والی دفعات کے عدم اطلاق کا مطالبہ کیا ہے اور ان کی عبارتیں مرتب کرکے پیش کی ہیں کہ قانون میں ترمیم کرکے ان کا اضافہ کیا جائے۔ یہ مطالبہ ہر ریاست اور ہر تعلیمی ادارے کی جانب سے ہونا چاہیے۔

No comments:

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP