You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Saturday, April 14, 2012

غزل


تم قتل کی خواہش سے گزر کیوں نہیں جاتے


اک بار مجھے مار کے مر کیوں نہیں جاتے


کیوں کرتے ہو حالات کی بھٹّی میں تماشا


سونا ہو تو کندن سے نکھر کیوں نہیں جاتے


گھر جاتے ہو،ڈرجاتے ہو ،کرتے ہی نظر بند


سورج کی شعاعوں سے مکر کیوں نہیں جاتے


خوابوں کے جزیروں سے سفر کرتے ہیں منظر


بے خواب نگاہوں میں اتر کیوں نہیں جاتے


دم گھٹتا ہے رشتوں کی فصیلوں میں تمہارا



سب توڑ کے اس پار اتر کیوں نہیں جاتے


اس پار درختوں سے جدا ہو کے چلے پھل


میں سوچ رہا ہوں کہ شجر کیوں نہیں جاتے


پلکوں کے افق ٹوٹے ستاروں سے منوّر



ہیں ہاتھ دعا شاخ تو بھر کیوں نہیں جاتے


( احمد منظور)


No comments:

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP