You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Wednesday, August 03, 2011

اپنے پرانے کاغذات میں ملی ایک نادر تحریر

محمد اسلم شہاب

نواب محمد حمیداللہ خان بھوپال کے مایہ ناز اور بہت ہی ہر دلعزیز سپوت تھے - انکے انتقال پر بے شمار لوگوں نے اپنے جذبات کا منظوم اظہار کیا تھا
(بخدمت علیہ حضرت شہزادی کرنل نواب گوہر تاج ثریا جاہ عابدہ سلطان بیگم صاحبہ ولیہ عہد ما سبق دارالاقبال بھوپال )
نوحہ غم افتخارالملک سر ایرکموڈور نواب محمد حمیداللہ خان بہادر جی سی ای ،جی سی آئی ای، سی وی او، بی اے علیگ مرحوم و مغفور
سابق فرمانروا ئے بھوپال دارالاقبال و اولوالامر
(آخر چانسلر چمبر آف پرنسس - ریاست ہا ئے ہند غیر منقسمہ )
یہ سب کو خبر ہے ہمیں دنیا سے ہے جانا
یہ بھی کہ کسی کا نہیں یہ اصل ٹھکانہ
الله جسے جاہ و مناسب سے نوازے
بھولےنہ وہ دم بھرکو کسےمنہ ہےدکھانا
سائل میں لیاقت ہو تو سمجھے اسے حقدار
الله کے بندوں کی امانت ہے خزانہ
تعلیم و ترقی مدارج کے افق پر
پہونچے تو غریبوں کا بدلوا ئے زمانہ
حامی و مددگاروسپر ملک و وطن ہو
آہنگر دستور و سراپا ئے مدن ہو
ہو اپنی مثال آپ کوئی رزم ہو یا بزم
دنیا ئےعمل جس سے سبق لےوہ اولوالعزم
تاریخ کے اوراق مکمّل نہ ہوں جب تک
ہو سرورق ہند جدید اسکا نہ پرچم
بھوپال کو ہے ناز جگر گوشہ بھوپال
خوداس پہ نچھاورہواجس ماں کا تھا وہ لعل

وہ ماں جو شہ کشور اقبال کی ماں تھی
خود نازش بھوپال تھی سلطان جہاں تھی
وہ ماں در تمثال وطن شہرہ آفاق
پھولے پھلے انصاف و امارت کا نشاں تھی
آج آنکھوں کا تارا ہوا الله کو پیارا
آخر کو کیا اسنے بھی دنیا سے کنارہ
فرزند و جگر بند سبھی ہونگے تہ خاک
اک روز اٹل ہے یہ طریقہ تہ افلاک
لیکن وہ دلاور جو بدل دیتے ہیں تاریخ
پیوند زمیں ہوں تو کریں قلب و جگر چاک
نواب کہاں ایسا طرحدار ملے گا
بتلا کہ کہاں چرخ ستمگار ملیگا

ایسا کہ نہ تھا جسکا بدل ہو کوئی پردیش
معمورہ عالم میں نہ تھا مثل کوئی خویش
ہر طبقے میں ماتم ہے تو ہر جا ہے صف غم
سکتےمیں ہیں صوفی ہوں کہ صافی ہوں کہ درویش
آ آ کے دلا جائے گی لاکھوں کو تری یاد
ایک انجمن آرا جو نہیں ہا ئے ری افتاد
پروانے کدھر جائیں شمع ہو گیئ خاموش
وہ جس پہ فدا کرتے تھے جاں خود ہی ہے خاموش
کس درجہ ہراساں ہے چمن ہند نہیں ہے
گل ہوں کہ ہو بلبل کہ چمن سب ہیں خزاں پوش
چال اور کہیں چلکے بسا ایسا گلستاں
صیاد کا کھٹکا نہ ہو تاراج کا امکاں

اے ہند تجھے صبر نہ آ ئے بھی تو کر صبر
ہاں ہاں تجھے کرنا ہے کلیجے پہ بہت جبر
تب جاکے کہیں آنکھ کے آنسو یہ تھمیں گے
آغوش میں لے اسکو سلالے خلش قبر
چودہ کی نفی مصرعہ تاریخ کا نکتہ
فردوس بریں تجھکو مبارک در یکتہ
چودھری کاظم حسین
(پیش کردہ ١٧ اپریل ١٩٦٠ -مورخہ فروری ١٩٦٠ )

No comments:

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP