You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Saturday, August 20, 2011

آخری عشرہ کی شروعات

رمضان کا مہینہ اپنی برکتوں و رحمتوں کے ساتھ اب وداع چاہتا ہے ۔آخری عشرہ کی شروعات ہے۔ یعنی اب یہ ماہ مبارک گذرجانے والا ہے۔ بے شک امت میں بہت سے ایسے ہوں گے جنہوں نے اس ماہ مقدس میں اپنی بخشش کر والی ہوگی ، بہت سے ایسے ہونگے جنھوں نے اپنے درجات بلند کر لیے ہونگے بہتوں کی دعا صبح شام قبولیت کا شرف حاصل کر رہی ہوگی اللہ اپنے ایسے بندوں کی برکات سے اپنی رحمت خصوصی سے ہم سب کو فیض یاب کر ے ۔(آمین)
امت اس ماہ میں کا رخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے نہ صرف حصہ لیتی بلکہ اس ملت میں ایسے دردمند افراد بھی موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ ملت کے ان افراد کو بھی اس ماہ کا فیض پہنچائیں جو اس قابل نہیں ہیں کہ اپنی ضروریات پوری کرسکیں۔ یہ ضرورت غذا ،لباس ،مکان اور تعلیم سے لے کر قرض کی ادائیگی ،چھوٹے موٹے کاروبار وغیرہ کے لیے کی جاتی ہے۔ یہ لوگ اہل خیر حضرات سے مالی تعاون حاصل کر مختلف کمیٹیوں، اداروں (NGOs) کی شکل میں اپنا کام انجام دیتے ہیں۔ ملت میں اپنی زکوۃ و صدقات کے تئیں کافی بیداری آئی ہے اب اہل خیر حضرات روایتی مصارف کے علاوہ زکوۃ کو اسلام کی تبلیغ کرنے والے اداروں ، دارالاشاعتوں نیز اسلام کی تبلیغ و ترویج میں مصروف TV چینلس و اخبارات وغیرہ کو بھی ادا کررہے ہیں۔
قرآن مجید سورۂ التوبہ آیت 60 میں زکوۃ کے آٹھ مستحقین کی نشاندہی کی گئی ہے جنھیں زکوۃ دی جائے۔
۱) فقراء: فقہ کی رو سے فقراء ( غریب)ان لوگوں کو کہا گیا ہے جن کے پاس اس قد ر مال موجود نہ ہو جس سے انکی ضرورتیں پوری ہوتی ہوں اس کے باوجودیہ لوگ کسی سے نہیں مانگتے۔
۲) مساکین: یہ بہت ہی تباہ حال لوگ ہیں جن کے پاس اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے کچھ بھی نہ ہو۔ حضرت عمر مساکین میں ان لوگوں کا بھی شمار کرتے ہیں جو کمانے کے لائق تو ہوں مگر انہیں روزگار نہیں مل رہا ہو۔
۳) عاملین علیہا: ان سے مراد وہ لوگ جو اسلامی حکومت کی جانب سے زکوۃ وصول کرنے پر مامور ہوں۔
۴) مؤلفتہ القلوب: یہ ان لوگوں کو کہا گیا ہے جو اسلام کی حمایت کرتے ہیں۔ مؤلفتہ القلوب میں ان لوگوں کا بھی شمار ہوتا ہے جو اپنے آبائی دین کو ترک کرکے اسلام میں داخل ہوئے ہوں جس کے باعث ان کا کاروبار تباہ ہوگیا ہو۔ ایسے افراد کا شمار بھی مؤلفتہ القلوب میں کیا جائے گا جو ایمان تو نہیں لائے البتہ ان افراد کے تعلق سے امید ہو کہ مستقبل میں اسلام قبول کرلیں گے۔
۵) فی الرقاب : وہ شخص جو غلامی سے آزاد ہونا چاہتا ہو لیکن اس کے پاس آزادی کے لیے درکار مال اسکے پاس موجود نہ ہو ایسے شخص کو بھی زکوۃ سے مدد دی جائے گی۔
۶) الغارمین : ان سے مراد وہ لو گ جو مقروض ہوں اور قرض ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہوں ۔انہیں قرض کی ادائیگی کے سلسلے میں زکوۃ سے مدد دی جاے گی۔ البتہ اس بات کا اطمینان کر لیں کہ مطلوبہ شخص بے جا اصراف، بدکاریوں ،غیر اخلاقی و غیر اسلامی کاموں کی وجہ سے مقروض نہ ہوا ہو ، ورنہ ایسے فرد کا ان کاموں میں دوبارہ مرتکب ہونے کا اندیشہ رہتاہے۔
۷) فی سبیل اللہ: یہ لفظ اپنے آپ میں بہت وسعت رکھتا ہے ۔ اس کے تحت ان تمام نیک کاموں میں زکوۃ استعمال میں لائی جائے گی جس سے دین اسلام کو سربلندی حاصل ہو۔
۸) ابن السبیل: مطلب مسافر جو اگرچہ مالدار بھی ہو لیکن حالت سفر کی وجہ سے محتاج ہو تو اس کی مدد زکوۃ سے کی جائے۔
آئیے ہم اپنی زکوۃ کہاں صرف ہورہی ہے اس کا جائزہ لیں۔
۲۔۱) فقراء اور مساکین : یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا حال خود نہیں بتاتے ۔ ہمارے رشتہ دراوں ، محلے کے تمام گھروں کا ہم جائزہ لیں تو یہ لوگ ہماری نظروں میں بآسانی آجاتے ہیں ۔ لیکن مارے غیرت کے زکوۃ لینا گوارہ نہیں کرتے۔ ہمارا فرض کہ مستحق کو اسکا حق پہنچائیں اور اس کے لیے بھی بہترین طریقہ اختیار کریں جس سے لینے والے کی عزت نفس کو بھی ٹھیس نہ پہنچے اور ہماری زکوۃ صحیح ہاتھوں میں پہنچ جائے۔
ہمارے محلے و شہر میں ایسے گھر بھی موجود ہوتے ہیں جن کے کمانے والے حکومت کے ظلم کا شکارہوکر بے وجہ جیلوں میں بند ہیں۔ اب ان کے اہل و عیا ل کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہیں۔ ان کے بچے صرف یہ سوچ کر ہی عید پر صبر کر لیتے ہیں کہ جب ابو چھوٹ کر آجائیں گے نہ تو ہم بھی نئے کپڑے پہنیں گے۔ حد تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے یہاں اکثر افطار بھی پانی سے ہوتا ہے۔ یہ لوگ ہر طرح سے زکوۃ کے مستحق ہیں۔
عوام ایسے لوگوں کو اپنی زکوۃ ،فطرہ و صدقات ادا کرکے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے زکوۃ ادا کردی ہے۔ جب کہ زکوۃ اس کے اصل حقدار سے کافی دور رہتی ہے ۔ ایسے لوگ جو مانگنے کے عادی ہیں اور اسی کو اپنے گذر بسر کا ذریعہ بنا لیا ہے ایسوں کو ہم ’سائل‘ تو کہہ سکتے ہیں ۔ قرآن و احادیث میں سائلین کی ضرورت پوری کرنے کے متعلق احکام موجودہیں۔ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کی گئی کہ سائل کو جھڑکایا، دھتکارا نہ جائے۔ لیکن یہ لوگ فقراء و مساکین کی تعریف میں ہرگز نہیں آسکتے۔
افسوس کہ امت کا پیسہ ان لوگوں کی جیبوں میں دھڑلے سے چلاجاتا ہے جو اوپر درج کسی بھی زمرے میں نہیں آتے ۔ رمضان آتے ہی سارے جواری ، بھکاری جن میں سے بیشتر نشے کے عادی اور کئی غیر اخلاقی و اسلامی عادات اور گناہوں کے عادی ہوتے ہیں ، سر پر ٹوپی سجائے ،اپنے عورتوں بچوں سب کے ساتھ گلی گلی ، گھرگھر دھاوا بول دیتے ہیں اور بعض کا تو حال یہ ہوتا ہے کہ وہ باضابطہ قبول کرتے ہیں کہ رمضان میں سال بھرکا 50تا 80 فیصد بندوبست ہوجاتا ہے۔
۳) عا ملین علیہا:ہم جس نظام حکومت میں رہ رہے ہیں وہ اسلامی نہیں ہے اس لیے عاملین علیہا یعنی حکومت کے وہ کارندے جو زکوۃ وصول کرنے پر مامور ہوں موجود نہیں۔
۴) مؤلفتہ القلوب: اس ملک میں رہنے کا سب سے بڑا فائدہ اس ملک کی عوام تک اسلام کا پیغام پہنچانا ہے اور جو افراد ہماری دعوت کی طرف راغب ہوں ان کے مؤلفتہ القلوب کے تحت زکوۃ کام میں لائی جا سکتی ہے ۔ اس ملک میں بعض ایسی بھی جگہیں ہیں جہاں اشرار سے اسلام اور اہل ایمان کی حفاظت کرنا بے حد ضرور ی ہے اس کے تحت بھی ہم ایسے افراد سے پیسہ دے کر جان چھڑا سکیں تواس کے لیے بھی زکوۃ کام میں لائی جاسکتی ہے۔
۵) فی الرقاب کے تحت غلام کو آزاد کرانے کا دور آج نہیں رہا۔ لیکن ذرا غور کریں کہ آج ملت کے نوجوان بے قصور ہونے کے باوجود جیلوں میں بند ہیں ۔ ان میں کثیر تعداد ایسے افراد کی بھی جنھیں گرفتاری سے پہلے دو وقت کی روٹی کمانے کے لیے کڑی محنت کرنی پڑتی تھی۔ اب جیل میں نبد ہیں تو ضمانت کے لیے ہزاروں روپے کا مچلکہ کہاں سے بھریں ۔ ایسے افراد کے گھروں کا حال یہ ہے کہ بچوں کی عید کا پتہ نہیں اگر کہیں سے کچھ مدد آبھی جائے تو جیل میں بند افراد کو چھوڑانے کی امید میں آدھی سے زیادہ رقم عدالتی کاروائی ، وکیل کی فیس میں چلی جاتی ہے بہتوں کے پاس تو وکیل کے لیے بھی فیس نہیں۔ ہماری زکوۃ اس کام کے استعمال کی جائے تو جانے کتنے ہی گھروں کی خوشیاں واپس آسکتی ہیں۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جب مولانا غلام یحیٰ ( امام حج ہاؤس ،ممبئی) کی ضمانت کے لیے 25؍ ہزار روپے ماہانہ کمانے والے 2؍ ملازمین کی ضرورت پیش آئی تب کیا اس ملک میں کوئی اہلِ خیر ایسا موجود نہیں ہے کہ جو مولانا موصوف کی ضمانت اپنے ذمہ لے سکے ۔ آج ملت کے کئی نوجوان صرف اس لیے جیلوں میں بندہیں کیونکہ انکے پاس زر ضمانت موجود نہیں ہے۔ اگرہمارے پاس زکوۃ کا اجتماعی نظام موجود ہوتا تو کیا آج ہم سب کی نہ سہی لیکن کچھ کی ضمانت کرواکر انہیں آزادی نہیں دلا سکتے تھے؟
۶) ہم اگر اپنے رشتہ داروں کا ہی جائزہ لیں تو ہمیں ایسے لوگوں کی طویل فہرست نظر آجائے گی جو کسی بیماری ، کاروبار کے سلسلے میں مقروض ہوگئے ۔ بعض کی حالت تو یہ ہے کہ وہ سود کے چکر میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ الغارمین کے تحت ایسے مقروض افراد کی مدد کی جاسکتی ہے۔
۷) ہماری زکوۃ اگر آج کسی مد کے تحت کام لائی جاتی ہے تو وہ ہے فی سبیل اللہ ۔جس میں فلاحی ، اسلام کی تبلیغ کرنے والے ، طلباء کے مسائل حل کرنے والے اور اس طرح کے کا رخیر کرنے والے کئی ادارے ہیں جو زکوۃ وصول کرتے ہیں۔ ان اداروں میں 60تا 70 فی صد عربی مدارس ہیں جو بڑھ چڑھ کر زکوۃ وصول کرتے ہیں ۔
اسکولی طلبہ کے لیے زکوۃ جمع کرنے والے ادارے بھلے ہی کتنے ہی نیک مقصد کو سوچ کر یہ کام انجام دے رہے ہوں لیکن حقیقت سے منہ نہیں موڑا جا سکتا حقیقت یہ ہے کہ امت کے پیسے پر نصرانیت او رشرک کی تبلیغ زوروں پر کی جاتی ہے ۔ اسکولی طلبہ میں بھاری فیس مشنری اسکول میں پڑھنے والے طلباء کی ہوتی ہے۔ مشنری اسکول کے نصاب کا اگر ہم جائزہ لیں تو KG سے ہی بچوں کے نصاب میں عسائیت کی کتابیں شامل ہوتی ہیں ۔ اسکول کی کتب کی فہرست میں غیر عیسائی طلبہ کے لیے عیسائی عقائد پر مبنی کتاب باضابطہ لکھا ہوتا ہے ۔ آگے چل کر بچوں میں غیر اسلامی اخلاق واقدار اور بے دینی پروان چڑھتی ہے۔ جن والدین کی لڑکیاں مشنری اسکولوں میں پڑھتیں ہیں پتہ نہیں انکی عقل پر کونسے پتھر پڑے ہیں جو اپنی جوان بیٹوں کو نیم برہنہ( اسکرٹ میں) ان اسکولوں میں خوشی خوشی بھیجتے ہیں ۔ کیا ہماری زکوۃ ان کاموں کے لیے ہے؟
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کئی اردو اسکول خستہ عمارت اور صحیح انتظام و سہولیات کی فراہمی نہ ہونے کے سبب بند پڑ رہے ہیں ۔آج کے دور میں اسکولوں کے لیے نئی عمارت یا جگہ ملنا محال ہے لیکن اس جانب کسی کی توجہ نہیں جاتی ۔ زکوۃ و صدقات سے ملت کے مستقبل کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی خاطر ایسے خستہ اسکولوں کی درستی و سہولیات کی فراہمی کی خاطر کی جاسکتی ہے۔
۸) زکوۃ کے آٹھویں مستحق مسافر ہیں لیکن آج کل پائے جانے والے مستحق مسافر شاذ ونادر ہی ملتے مثلاً کسی کا سامان روپیہ چوری ہوگیااور محتاج بن جائے ایسے لوگ زیادہ نہ مانگ کر نہایت ہی انکساری اور شرمندگی کے ساتھ واپسی کا ٹکٹ بنوانے کی گذارش کرتے ہیں ۔ جنھیں دیکھ کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے یہ واقعی سچ بول رہا ہے۔
لیکن آج کل لوگ کندھے پر جھولا تانے چلے آتے ہیں ، مساجد گھر ،آفس جہاں کہیں بھی موقع ملے اپنی جھوٹی داستان سفرسنانے لگتے ہیں۔ کہتے ہیں مسافرہیں مدد کردو ۔ یہ لوگ زکوۃ کے بالکل بھی مستحق نہیں البتہ ایسے لوگو ں کو ازراہ ہمدردی کھا نے کا کچھ بندوبست ضرور جا سکتا ہے ۔
ان دنوں نصاب کے تعلق سے بھی لوگ کا فی تذبذب کا شکار ہورہے ہیں ۔ جن کے پاس سونا ہے وہ جب دیکھ رہا ہے کہ سونے کی قیمت آسمان چھو رہی ہے تب اسے زکوۃ کی قیمت بھی بڑھتے ہوئے بوجھ کی مانند لگ رہی ہے ۔ کوئی ہے کہ محلے کے امام صاحب سے مل کر عرض کر رہا ہے کہ ہمارے زیورات پر زکوۃ کتنی عائد ہوتی ہے ؟ فلاں مولوی صاحب تواتنا اتنا بتا رہے تھے۔ یاد رکھیے ہمارے یہاں جو نصاب کی طے شدہ مقدار ہے وہ کم سے کم کی آخری حد پر طے کی گئی ہے ۔ جب دینے کی بات آتی ہے تو اہل ایمان کم سے کم نہیں بلکہ زیادہ سے زیادہ پر نگاہ رکھتے ہیں۔ کم سے کم کے طرز پر عمل کرنے والے ذرا اپنے آپ کو ’قابل اور ہابل ‘ کے پیمانے پر خود کو جانچیں کہ وہ کیا دے رہے ہیں ۔ مال کی وہ مقدار جسے ادا کرنے میں خوشی محسوس ہورہی ہو اس سے ذرا زیادہ دینے کی کوشش کریں تب خود بہ خود اپنی حیثیت اور اپنے ایمان کا پتہ چل جائے گا۔
زکوۃ انفرادی دینے کے بجائے اجتماعی دینے کی کوشش کی جائے ۔ شہر کے تمام لوگ اگر آپ کی بات سے متفق نہیں تو محلے سے ہی شروع کیجیے۔ محلے میں بھی ممکن نہ ہو تو اپنی قریب کی مسجد میں ہی کوشش کیجیے ۔ اگریہ بھی ممکن نہ ہوتو جتنے لوگ آپ کے ہم خیال بنیں ان سے ملکر ہی اجتماعی زکوۃ و فطرہ کا بندوبست کریں۔
اللہ کہنے ، سننے سے بڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے روزوں ، قیام اللیل اور زکوۃ و صدقات کو شرف قبولیت بخشے اور ہمیں اجتماعیت کی دولت سے سرفرازکرے۔آمین

عبدالمقیت عبدالقدیر، بھوکر


No comments:

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP