You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Sunday, May 22, 2011

{3455} نجم الدین اربکان۔ ایک شرارِ آرزو


ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی

نجم الدین اربکان۔ ایک شرارِ آرزو

ابوزید

بیسویں صدی کے آغاز کا ترکی۔ فکری جمود اور تیزی سے بدلتے ہوئے حالات۔ جنگ عظیم کی شکست، شکست خوردگی اور بے بسی۔سقوط خلافت کے بعد اپنے ماضی سے کٹی ہوئی بلکہ شرمندہ قیادت اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والی سیکولرزم کی گھٹاٹوپ تاریکیاں اور پھر اپنے مفادات اور خود غرضی پر اڑی ہوئی دوسرے درجے کی قیادت۔ تاریکیوں پرمزید تاریکیاں کہ ہاتھ کو ہاتھ تک سجھائی نہ دے۔ایک طرف اتاترک اور اس کے گماشتے جنہوں نے اسلام سے وابستہ ہر نقش کہن کو مٹانے میں پوری قوت صرف کردی اور ایسی چوکس نگرانی شروع کردی کہ اس خاکستر سے کوئی شرار آرزو اُٹھنے ہی نہ پائے اور اگر کہیں کوئی ٹمٹماہٹ نظر آئے تو فوراً بجھادی جائے۔ عربی قرآن پر پابندی، عربی اَذان پر پابندی، عربی رسم الخط کو تبدیل کر کے رومن رسم الخط اور مسجدوں میں تالے! سیکولرزم کی ایسی تاریک آندھی جس کی کوئی نظیر تاریخ عالم میں مشکل سے نظر آئے۔ ایسا لگتا تھا کہ پہلی جنگ عظیم کی شکست اور خلافت عثمانیہ کے سقوط کے بعد ترکی سے اسلام کا نام و نشان مٹادیا جائے گا۔ لیکن وہ اسلام ہی کیا جو مٹادیا جائے!

ایک وقت وہ بھی تھا کہ عدنان میندریس کو جو کہ 1950 سے 1960 تک ترکی کے وزیر اعظم تھے صرف اس لئے پھانسی دی گئی کیونکہ انہوں نے مسجدوں کے تالے کھلوائے اور عربی زبان کی اجازت دی۔حالانکہ عدنان میندریس کے "اسلام پسند" ہونے کا کوئی اشارہ تک نہیں ملتا۔انہوں نے ترکی کے عوام پر ذرا سا رحم کھا کر کچھ آزادی فراہم کی تھی۔ ایسے میں نجم الدین اربکان کی شخصیت خلافت عثمانیہ کے خاکستر میں ایک چنگاری بن کر ابھری۔1970 میں انہوں نے ملی نظام پارٹی کے نام سے ایک جماعت بنائی جس کو ترکی کی سیکولر قیادت ڈیڑھ سال سے زیادہ برداشت نہیں کر سکی۔ 1972 میں انہوں نے ملی سلامت پارٹی کے نام سے نئی پارٹی تشکیل دی۔ 1973 کے انتخابات میں اس پارٹی نے 11%ووٹ حاصل کر کے 48سیٹیں جیتی۔ اس ٹرم کے دوران 1974میں یہ پارٹی رپبلکن پیوپل پارٹی کے ساتھ حکومتی اتحاد میں بھی شامل رہی۔ 1980 کے فوجی بغاوت کے نتیجے میں تمام سیاسی پارٹیوں کے ساتھ سلامت پارٹی پر بھی پابندی لگائی گئی اور نجم الدین اربکان کو حوالہ زنداں بھی کیا گیا۔

ایک معتبر خبر کے مطابق جب نجم الدین اربکان کو قید کیا گیاتھا تو شیخ ابن بازؒ نے جنرل ضیاءالحق سے اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے کچھ خفیہ قوتوں پر دباؤ ڈال کراربکان کی رہائی کا سامان کیا تھا(1)۔اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اُمت کے بیدار مغز علماءٹھیٹ قرآن و سنت کی تعلیم میں مشغول ہونے کے باوجود کس حد تک عصر حاضر کے تقاضوں سے واقف ہوتے ہیں۔ دوسری طرف یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مجبوری اور اضطرار کی صورت میں سخت قسم کے باطل نظام کو توڑنے کے لئے کس حد تک رخصت کی گنجائش نکل سکتی ہے۔

الغرض ایک ریفرنڈم کے نتیجے میں 1987 میں سیاسی جماعتیں بنانے کی اجازت دی گئی تو رفاہ پارٹی کے نام سے ملی سلامت پارٹی کی تشکیل نو ہوئی جس کے روح رواں نجم الدین اربکان تھے۔ 1994کے بلدیاتی انتخابات میں رفاہ پارٹی نے زبردست کامیابی حاصل کر کے دین دشمن سیکولر قوتوں کو لرزہ بر اندام کردیا۔ اسی انتخاب میں رجب طیب اردگان استنبول کے میئر منتخب ہوئے جس کے نتیجے میں ان کو اپنی ایمانداری اور زبردست انتظامی صلاحیت کا مظاہرہ کرنے کا موقعہ ملاجس کی وجہ سے آخر کار ان کو وزارت عظمی کی کرسی نصیب ہوئی۔ یہ نجم الدین اربکان کی جہد پیہم ہی تھی کہ ترکی کی سیکولر قیادت نے 1995 میں الیکشن سے پہلے سیکولر اسلام کا شوشہ چھوڑا تا کہ کسی بھی طرح حقیقی اسلام کا راستہ روکا جاسکے۔ اگرچہ یہ اسلام کےخلاف ایک سازش ہی تھی لیکن کمالی قیادت کی طرف سے ایک طرح سے اعلان شکست بھی تھا۔ یہ گویا ان کی طرف سے اقرار نامہ تھا کہ ترکی کو اسلام سے مزید"بچانا" ان کے بس سے باہر ہے اس لئے ایک متبادل اسلام پیش خدمت ہے۔جون 1996 سے جون 1997 تک نجم الدین اربکان ایک سیاسی اتحاد کے نتیجے میں وزیر اعظم رہے۔ اس دوران انہوں نے یورپین یونین کے بجائے عرب ریاستوں سے مضبوط تعلقات استوار کئے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں D-8 کے نام سے الجیریا سے لے کر ملیشا تک آٹھ مسلم ممالک کا معاشی اتحاد تشکیل دیا اس اتحاد میں پاکستان اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں ۔ایک سال کے بعد ان کی حکومت کو کمال پاشا کے نظریات کے لئے خطرہ قرار دیا گیا جس کے دباؤ کے نتیجے میں انہیں استعفٰی دیناپڑا۔اپنے استعفے کے بعد انہوں نے فضیلت پارٹی کے نام سے ایک اور پارٹی قائم کی جس پر تین سال کے اندر پھر پابندی لگائی گئی۔ 2003 میں انہوں نے سعادت پارٹی کے نام سے ایک اور پارٹی قائم کی ۔

نجم الدین اربکان کی حکمت عملی اس بات پر مرتکز رہی کہ مسلم ممالک کے ساتھ قریبی تعاون قائم کئے جائیں،یورپی ملکوں کے ساتھ برابری کی سطح پر معاملات ہوں اور دنیاکو صیہونی سازشوں سے خبردار کیا جاتا رہے۔

سیکولر ترکی میں جس طرح باربار اسلام کا راستہ روکنے کی کوشش کی گئی وہ کسی نام نہاد سیکولر معیار پر بھی پورا نہیں اترتا۔بار بار پابندیوں سے ان کے راستے کو روکنے کی کوشش کرنا اور ہربار ایک نئے عزم و ولولے کے ساتھ پھر میدان میں آنا، ایسا لگتا ہے کہ اربکان کی پوری زندگی یقیں محکم اور عمل پیہم سے عبارت ہے۔ ایک طرف پے در پے پابندیاں اوردوسری طرف بغیر کسی تکان کے عمل پیہم، گویا کہ ؂

نشیمن پر نشیمن اس قدر تعمیر کرتا جا

کہ بجلی گرتے گرتے آپ خود بے زار ہوجائے

نجم الدین اربکان آج ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن جانے سے پہلے کمالی سیکولرزم کی اندھیریوں میں انہوں اتنے چراغ روشن کردیے کہ اب ترکی کے لئے واپسی کا عمل نا ممکن ہے۔اندھیروں کے چھٹنے کا یہ عمل یک رخی (irreversible) ہے۔ اور پھر موجودہ عالمی تناظر میں ترکی میں اسلام کی پیش قدمی یقینی ہے۔ ان کی جہد مسلسل نے سیکولرزم کی فرسودگی کا پردہ فاش کردیا۔ ہر صاحب نظر کو صاف نظر آرہاتھا کہ ایک طرف مسلسل زیادتی ہورہی ہے اور دوسری طرف صبر و استقامت کا ایک پہاڑکھڑا تھا۔ 27 فروری 2011 کو نجم الدین اربکان اس دنیاسے رخصت ہوگئے لیکن ان کے انتقال کی خبر پر تحریک خلافت کی سرزمین کے میڈیا نے جس طرح کی سرد مہری کا مظاہرہ کیا وہ رویہ کسی حد تک پاکستانی میڈیا کی بے حسی بلکہ بدنیتی کا پردہ چاک بھی کردیتا ہے۔


No comments:

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP