You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Friday, May 20, 2011

محقیقن کو علاقائی ادب اور شخصیات پر تحقیقی کام کرنا چاہئے، آج کی تحقیق محض ڈگری کا اصول بن کر رہ گئی ہے

مالیگاؤں میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے سات افرادکا انجمن ترقی اردو ہند اور اردو لائبریری ٹرسٹ کی جانب سے استقبال کیا گیا


مالیگاؤں

ممبئی یو نیورسٹی کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر صاحب علی نے کہا کہ آج کے دو
ر میں ہورہی تحقیق محض ڈگریوں کے حصول کیلئے محدود ہوگئی ہیں اسلئے زبان و ادب کی ترویج و فروغ کا تصور محال ہے ۔ موصوف گذشتہ روز مالیگاؤں میں انجمن ترقی اردو ہند کے ایک استقبالیہ پروگرام میں بول رہے تھے جہاں صنعتی شہر کے سات نئے پی ایچ ڈی اور ایم فل خواتین و حضرات کا خیر مقدم اردو لائبریری ٹرسٹ اور ادارۂ نثری ادب کے اشتراک سے انجمن ترقی اردو ہند شاخ مالیگاؤں نے کیا۔ صاحب علی نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا بالکل منفرد پروگرام ہے ۔ اس طرح کی کوششوں سے ہم نئی نسل کے طلبہ میں تحقیق کے جذبہ کو فروغ دے سکتے ہیں آپ نے کہا کہ ادبی ،ثقافتی ، اخلاقی اور علمی زوال ہمارے معاشرہ کا المیہ ہے۔
آپ نے مالیگاؤں میں ایک اردو ریسرچ سینٹر کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا کیونکہ مالیگاؤں کے بہت سے طلبہ پی ایچ ڈی یا ایم فل کرنے کیلئے
ممبئی پونہ کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جب کہ مالیگاؤں میں ریاست کے بہترین ریسرچ گائیڈ اور ریسرچ اسکالرس کی قطار موجود ہے ۔ صدر شعبہ اردو ممبئی یونیورسٹی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ آج لوگ سوال کرتے ہیں کہ آرٹس کی ڈگریاں کس کام کی۔ میں کہتا ہوں کہ ایک انجینئر صرف ایک سڑک اور ایک عمارت کی تعمیر کرتا ہے ایک ڈاکٹر کچھ لوگوں کا علاج کرسکتا ہے لیکن آرٹ ماسٹر پوری قوم و ملت کی تعمیر و علاج کا متحمل ہوسکتا ہے ۔ بشرطیکہ وہ حصول علم کو حصول زر کا ذریعہ نہ بنائے اردو مضامین کے ذریعے UPSCمیں کامیابی کے نمایاں امکانات پر بحث کرتے ہوئے صاحب علی نے کئی عمدہ مثالیں بھی دیں اور نئی نسل کے نوجوان کو سائنس تیکنک کے ساتھ ساتھ شعبہ آرٹس میں دلچسپی لینے کی صلاح دی ۔
اس با مقصد تقریب کے صدر نشین پروفیسر عبدالحفیظ انصاری (سابق پرنسپال سٹی کالج مالیگاؤں )نے کہا کہ مقابلہ جاتی امتحانات کے سوالات کے مقابلے میں آرٹس کے سوالات اور تحقیقی کام زیادہ مطالعہ و محنت طلب ہوتے ہیں انہوں نے مرکزی وزیر کپل سِبّل کے ریسرچ مخالف رویہ پر بھی تنقید کی ۔آپ نے اردو لائبریری مالیگاؤ
ں کی خصوصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ایک ریسرچ سینٹر قائم کیا جاسکتا ہے ۔
اس تقریب میں ڈاکٹر فہمیدہ ہارون انصاری ، ڈاکٹر شیخ ساجدہ عبدالواسع ، ڈاکٹر تحسین کوثر سلیم شہزاد،ڈاکٹر خان یوسف صابر، ڈاکٹر مشاہد حسین رضوی ، عبدالعظیم خان ، عاصم شہزاد عبداللہ فیت والاان سات افراد کو اعزاز دیا گیا۔جن کا تعارف اسحق خضر ، سراج دلار ، یعقوب ایوبی ، عبدالمجید صدیقی ، شبیر آصف ، حسین عاجز اور یسین اعظمی نے پیش کیا۔اس اعزازی تقریب کی غرض و غائیت پروفیسر عبدالمجید صدیقی نے بیان کی اور کہا کہ نئی نسل میں تحقیق و تنقید کے شعبہ سے جڑنے کے جذبہ کو پروان چڑھانے اور اس فیلڈ میں نئے لوگوں
کو خوش آمدید کہنے کیلئے اس طرح کے پروگراموں کی ضرورت ہے انجمن ترقی اردوہند شاخ مالیگاؤں کے سکریٹری اور اس تقریب کے کنوینر خیال انصاری (مدیر خیر اندیش)نے انجمن کی ۱۹ سالہ کارکردگی کا جائزہ پیش کیا ۔ اور بتایا کہ ہمیشہ ہی مالیگاؤں میں انجمن نے نت نئے پروگراموں کا انعقاد کرکے اردو زبان و ادب کے فروغ کی کوشش کی ہے جس کیلئے انجمن کو اردو لائبریری ٹرسٹ اور ادارۂ نثری ادب کا بھی تعاون حاصل رہا کرتا ہے ۔
تقریب کے اولین مقرر ڈاکٹر اشفاق انجم ( پرنسپال اے آئی ٹی سینٹر نائٹ کالج) نے کہا کہ
UGCکے نئے تعلیمی خاکہ کے تحت سینئر کالجوں کے اساتذہ کو نیٹ سیٹ کا مشکل ترین امتحان کامیاب کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔لیکن اگر کوئی معلم پی ایچ ڈی ہے تو اسے اس پابندی سے مشتشنیٰ رکھا گیا ہے چونکہ نیٹ سیٹ کے امتحانات کا رزلٹ بہت خراب ہوتا ہے ہزاروں میں چند افرادہی کامیاب ہوتے ہیں اسلئے لوگ پی ایچ ڈی کی ڈگری کے حصول کی طرف متوجہ ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ موجودہ دور کے محقیقین کے یہاں تحقیق کا فقدان ہے ۔ اور یہ ڈگری محض مقالہ نگاری بن کر رہ گئی ہے ۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ علاقائی شخصیات پر پی ایچ ڈی کی جائے اور گھسے پٹے موضوعات کی بجائے نت نئے موضوعات کو حاصل کرنا چاہئے ۔اور گردش وقت میں گم ہوتی نایاب شخصیات کو نئی نسل سے متعارف کرانا چاہئے۔ آپ نے اردولائبریری ٹرسٹ کو ریسرچ سینٹر کے سلسلہ میں متوجہ کیا۔ڈاکٹر ایس ایم شکیل (صدر شعبہ اردو سیوا سدن کالج برہانپور) نے بھی علاقائی ادب پر تحقیقی کام کرنے کی ضرورت جتلائی اور صاحب اعزاز محقیقین کو مشورہ دیا کہ اپنی تحقیق کو کتابی شکل میں عام کریں ۔ آپ نے کہا کہ مالیگاؤں اردو کا ایک اہم مرکز ہے جہاں سے ہمیشہ ہی زبان و ادب کی ترویج و اشاعت ہوتی رہی ہے ۔یہاں درجنوں ایسی شخصیات ہیں جن پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا جاسکتا ہے ۔ آپ نے کہا کہ جدید مواصلاتی انقلاب نے تحقیق کی مشکلات میں آسانیاں پیدا کردی ہیں ۔ اس سے استفادہ کی ضرورت ہے۔ اس تقریب میں دھولیہ سے تشریف لائے ڈاکٹر محمد سلیم انصاری( چئیرمن بورڈ آف اسٹڈیز نارتھ مہاراشٹر یونیورسٹی جلگاؤں) ، خالد عمر صدیقی ( چئیرمن اردو لائبریری ٹرسٹ) ، فضل الرحمن حکیم ( سکریٹری اردو لائبریری ٹرسٹ)، سلیم شہزاد ، ڈاکٹر شکیلہ سید ،سلطان سبحانی ، ڈاکٹر الیاس صدیقی ، عمران امین اور دیگر تعلیمی و ادبی شخصیات موجود تھیں ۔ نظامت یسین اعظمی نے کی۔
فوٹو کیپشن : انجمن ترقی اردو ہند شاخ مالیگاؤں کے زیر اہتمام محقیقین ادب کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ تقریب کا ایک
منظر
***
Abdul Haleem Siddiqui
819, Balbag, Malegaon - 423203
Dist. Nasik, Maharashtra, INDIA
Mobile No. : 9325566636

No comments:

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP