You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Friday, May 13, 2011

ایک سمندر، ہزارو ں خواب

(عزیز نبیل کے مجموعے خواب سمندر پر ایک نظر)

خواب سمندر ، عزیز نبیل کے خوابوں کا ہفت رنگ سمندر ہے، جسکی شناوری کے دوران ماضی اور ماضی قریب کے متعدد شعراء سے ملاقا ت ہو تی ہے مگر اس فنکار نے اتنے کمال کی خواب گری کی ہے کہ سب لہجوں کے تاثر کے باوجود قا ری کے ذہن پر جو آخری تاثر ابھرتا ہے وہ عزیز نبیل کے سوا کسی اور کا نہیں ہوتا اور یہی بات اسکو اپنے ہمعصروں میں ممتاز کرتی ہے۔

خواب سمندر کا شاعر روایت کی پاسداری کے ساتھ ساتھ تجربات کو بھی شجرِممنوعہ نہیں سمجھتااور ہر خیال کو نیا اور چونکا دینے والا بنانے کے لئے الفاظ و تعبیرات کی خوبصورت اور دل آویز کہکشاں تخلیق کرتا ہے اور پوری فنی مہارت کے ساتھ اسکی نوک پلک سنوار کر جب گویا ہوتا ہے تو سننے اور پڑھنے والے کو اچھلنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

یہ دریا کچھ زیادہ ہنس رہا ہے

اسے صحرا کی جانب موڑ دوں کیا

یا

برا نہ مانو تو ایک بات کہنا چاہتا ہوں

مجھے تمہا ری محبت سے خوف آتا ہے

خواب سمندر کا شاعر مثبت اور توانا سوچ کا حامل شاعر ہے ۔جسکے لہجے میں کسک تو ہے ،لیکن لچک نہیں ہے ،وہ پر اعتماد ہے اور منزل تک پہنچنے کا یقین رکھتا ہے،وہ صرف لفظوں کی جادوگری نہیں کرتا بلکہ ان میں حقیقت کا رنگ بھر کر زندگی کو قریب سے پیش کرتا ہے ۔جتنا کچھ اسکی آنکھیں دیکھتی اور کان سنتے ہیں اس سے کہیں زیادہ اس کا دل محسوس کرتا ہے۔وہ غزل کے گرتے ہوئے معیار کو بھی نظر انداز نہیں کرتا اور کہتا ہے کہ

غزل کہنا بھی ایک کارِ بے مصرف سا لگتا ہے

نیاکچھ بھی نہیں ہوتا بس ایک تکرار چلتی ہے

اور آگے بڑھ کر پرانے رستوں پر نئے نقشِ قدم ثبت کرنا چاہتا ہے اور غیر متزلزل یقین کے ساتھ قافلے کی باگ ڈور تھامنے کا اعلان کرتا ہیکہ

میں اگر ٹوٹا تو سارا شہر بکھرے گا نبیل

ایسا پتھر ہوں فصیل شہر کی بنیاد کا

اسکے اس اعلان سے قبیلے کے سردار بھڑک اٹھتے ہیں اور اسکو بغاوت کی خلعت سے نوازتے ہیں اور یہیں سے اس شاعر کی حقیقی دریافت شروع ہوتی ہے اس کے اس اعتراف کے ساتھ کہ

ہم قافلے سے بچھڑے ہوئے ہیں مگر نبیل

ایک راستہ الگ سے نکالے ہوئے تو ہیں

نبیل کا یہ نیا راستہ بہت خوشنما مناظر لئے ہوئے ہے،یہاں ہر جذبہء دل کو تعبیروں کا نیا پیراہن ملتا ہے اور ہر احساسِ نظر کو نئی پوشاک عطا کی جاتی ہے ،یہاں روانی و شگفتگی ہے، معا نی اور شائستگی ہے ،یہاں خواب ِامروز ہے اور تصورِ فردا بھی،یہاں داخلی کیفیات بھی ہیں اور بیرونی واقعات بھی ہیں ، یہاں صبحِ تازہ کی امید ہے اور شب ِ سیاہ کے خاتمہ کی نوید ہے، یہاں محبوب سے محبت کا برملا اظہار بھی ہے اور اپنی خودداری اور انا کا ببانگِ دہل اعلان بھی،یہاں سب کچھ ہے کونکہ یہ سمندر ہے ،خوابوں کا سمندر۔

عزیز نبیل کے اس مجموعے میں ۹۲ غزلیں ،۱۳ نظمیں اور ایک دعائیہ نظم بھی شامل ہے ۔ہر دو صنف میں شاعر کی قادر الکلامی اور صداقت و برجستگی انتہائی نمایاں ہیں۔ ہر غزل میں آپکی سماعت و بصارت کو محیر کردینے والا شعر ضرور موجود ہے اور کئی غزلیں تو پوری کی پوری مرصع اور ذوق آفرین ہیں ۔ نت نئی تعبیریں قاری اور سامع کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں ۔ مثال کے طور پر چند اشعار ۔

راستوں نے قبائیں سی لی ہیں

اب سفر کو مچل رہا ہوں میں

۔۔۔۔

کیوں نہیں دیکھتا ہے وہ مڑ کر

مر گئیں راہ میں صدائیں کیا

معاصر غزل کا دامن کافی وسیع ہوگیا ہے اور وہ محبوب کے لب و رخسار کی ہی بات نہیں کرتی بلکہ سیاست ،معیشت ،معاشرت اور بین الا قوامی تعلقات کوبھی موزوں کرتی ہے ۔ عزیز نبیل نے ان تمام موضوعات کوغزل کی حقیقی حلاوت کے تھال میں سجا کر پیش کیا ہے،اس نے کا نٹوں سے بھی پھولوں کا کام لیا ہے ۔اور جب ضرورت پڑی تو پھولوں کو کانٹوں کے روپ میں ڈھال دیا ہے ۔ تونس اور مصر کے حالیہ واقعات ،اور ان سے پہلے اور بعد کے ایسے ہی منظر نامے دیکھیئے اور پھر یہ شعر پڑھئے کہ۔

تب کہیں جھکایا ہے سر، غرورِ شاہی نے

جب اٹھالیا سر پر تخت ،بے گناہی نے

اسکی وارفتگی بڑے کمال کی ہے اور خود سپردگی غیر مشروط ہے۔

اب ہمیں چاک پہ رکھ یا خس وخاشاک سمجھ

کوز ہ گر ہم تری آواز پہ آئے ہوتے

یہ سجیلا شاعر دو انسانی روحوں کے ملاپ کو اتنی خوبصورتی سے قلم بند کر گیا ہے کہ غزل خود پر اترانے لگتی ہے ،دیکھئے تو سہی

مرے سوال کی برجستگی سے گھبرا کر

نظر جھکانا ، سراپا جواب ہو جانا

اور اسی رشتے کا اظہار ایک اور زاوئیے سے یوں کیا ہے

مرے اشعار میں شامل تری خوشبو ہو جائے

دشتِ افکار میں اے کاش تو آہو جائے

مرا ہر لفظ ترے روپ کی تمہید بنے

کبھی بندیا کبھی کنگن کبھی گھنگھر و ہو جائے

نبیل کی غزلوں میں جذب و مستی اور برجستگی اور سچائی کے عناصر بہت نمایاں ہیں ۔ہجر و فراق ، زمانے کے ستم اور انسانیت کو در پیش محرومیوں اور نا انصافیوں کے تذکرے تو ہیں ،لیکن انکا تناسب وصال و امید اور نوید و عزیمت کے دروس و پیغامات سے کم ہے اور اسی بناء پر میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ شاعر مایو سیوں کا نہیں مسرتوں کا شاعر ہے ،

وہ گرنے والوں پر ہنستا نہیں بلکہ انہیں اٹھ کھڑے ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ ظلم کی قصیدہ خوانی نہیں کرتا بلکہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سینہ سپر ہو جاتا ہے اور یہی وہ جذبہ ہے جو اس کی شا عری کو عام شا عری کی صف سے نکال کر با مقصد شاعری کے زمرے میں لا کر کھڑا کر دیتا ہے ۔بطورِ مثال مختلف غزلوں کے چند اشعار دیکھیں۔

تمام شہر کو تاریکیوں سے شکوہ ہے

مگر چراغ کی بیعت سے خوف آتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔

آوٴ سفر کی پھر سے کریں ابتدا نبیل

بیٹھے ہیں کب سے راہ کی دلدل سمیٹ کر

۔۔۔۔۔۔۔۔

حالانکہ کیٴ لوگ ہیں ناراض بھی مجھ سے

جو بات بھی کی میں نے،بہرحال کھری کی

۔۔۔۔۔۔۔۔

مری غیبت تو اسکا مشغلہ ہے

مگرتم نے گوارا کر لیا کیا ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔

اک سفر یوں بھی کیا ہم نے سر جادئہ شوق

دل عقیدت کی طرف، عقل بغاوت کی طرف!

عزیز نبیل عصر حاضر کے ان چند نوجوان شعراء کی صف میں کھڑا ہے جنہیں قدرت نے غزل اور نظم دونوں میں یکساں خوبی کے ساتھ خیالات برتنے کا ہنر دیا ہے بلکہ کہیں کہیں تو اس شاعر کا قد نظموں میں زیادہ کھل کر سامنے آیا ہے۔ اسکی نظمیں انتہایٴ چست اور شستہ ہیں،وہ زبان کا دھنی ہے اور اپنا مدعا بآسانی اور موٴثر ترین الفاظ میں بیان کرتا ہے۔ سوالوں کا ترکش، نور چہرہ لوگ، شہر دل، ماں اور فلسطین ایسی نظمیں ہیں جو قاری یا سامع کے ذہن و دل پر فوری اثر کرتی ہیں جو دیر تک اسکے حواس پر قائم رہتا ہے۔ نظم فلسطین میں معصوم انسانیت پر ہونے والے تذکرے کے بعد ایک موٴرخ کو مخاطب کرتے ہوئے نبیل کہتا ہے

اے مورخ قلم ہاتھ میں پھر اٹھا

جا بجا روشنائی بکھرنے نہ دے

وہ مقدس لہو جو شہیدوں کا ہے

اسکو مضمون بنا ،کوئی عنوان دے

عہدِ حیوانیت کی ڈگر پر نہ جا

اپنی انسانیت آسمانی بنا

اپنی انسانیت جاودانی بنا

عزیز نبیل کا پہلا مجموعہ اسکی ذمہ داریوں کو بڑھاتاہے اور شائقینِ ادب کی توقعات میں انتہائی اضافہ کرتا ہے ۔

دبنگ لہجے کے اس شاعر کا مستقبل بہت تابناک اور انتہائی شاندار نظر آتا ہے اور کوئی عجب نہیں کہ آج سے پچاس سال کے بعد جب کوئی موٴرخ ادب ِ مہجر کی تاریخ مرتب کرے تو خلیج کے مہجری ادب بالخصوص شاعری کو عہدِ نبیل سے قبل اور عہدِ نبیل کے ما بعد ،کے دو خانوں میں تقسیم کردے۔

عزیز نبیل کا پہلا مجموعہ خواب سمندر اسکی اب تک کی کاوشوں کا کشید ہے ۔اور اگر سرِورق سے اسکی تصویر اور تعارفی خاکے سے تاریخ پیدائش کسی صورت غائب کردی جائے تو یہ مجموعہ کم از کم تیس/چالیس سال کی مسلسل ریاضت کا حاصل لگتاہے ۔

خوابوں کے سمندر کے ایک دعائیہ خواب کے ساتھ اپنی بات ختم کر کے اجازت چاہو ں گا کہ

خدا بچائے کسی کی نظر نہ لگ جائے

ذرا سی عمر میں شہرت سے خوف آتا ہے

عبید طاہر

پروڈیوسر ،اناؤ نسر

ریڈیو قطر ،اردو سروس


No comments:

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP