You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Wednesday, May 25, 2011

پھل فروش کی ضبطِ فغاں (آہ! یہ ضبطِ فغاں غفلت کی خاموشی نہیں۔۔آگہی ہے یہ دلاسائی، فراموشی نہیں

ضبطِ فغاں پھل فروش کی
بقراط صاحب آج پھر پھل فروش سے الجھ پڑے۔ ہم بھی نہتے انکی مددکے لیے پہنچ گئے یہ سوچکر کہ بقراط کی فراست اور زبان خود اوزار ہے اور آزار بھی۔لیکن کسے پتہ تھا کہ دونوں آج چاروں خانے چت ہوجائیں گی۔ حالانکہ ہم ہمیشہ بقول فراز یہ کہتے رہے ہیں ۔ہرایک صاحبِ منزل کو بامراد نہ جان۔۔۔ہر ایک راہ نشیں کو شکستہ پا نہ سمجھ۔ لیکن بقراط آخر بقراط ٹھہرے۔
بقراط صاحب نے کہا یہ جمّن پچھلے سال تک ٹھیک تھا اب اپنے بچوں کی دینی اور عصری تعلیم منقطع کرواکر ٹھیلے پر بٹھانا چاہتا ہے۔ ہم نے جمّن سے کہا۔ کیا سبب تو جو بگڑتا ہے ان سے ہر بار۔ کہنے لگا اماں یہ کیلے کھانے آئے تھے کھا کر اپنا راستہ لیجیو۔ قسم لیجیو جو ریختے میں ہم سے بات کی تو پانچ کِلاس تک پڑھائی کی تھی۔ تمہاری بیس کِلاس سمجھیو اسے۔ میرے بچوں کو دوبارہ نہ ورغلایو۔ خاصکر بڑے کو تو بلکل بھی نہیں۔ بہت علم چاٹ کھایا کمبخت نے۔ اسکی زبان سوکھ گئی اور میرے پھلوں کا صبر۔ بارہ سال پڑھ لیا اب اسے کیلے بیچنے دو۔ آگے پڑھے گاتو سود پر رقم جٹانا پڑے گا۔ چالیس سال سے حلال رزق کھا اور کھلا ریا ہوں خاندان کو۔ آگرے سے آریا ہوں۔ وہاں میرا باپ بھی پھل ہی بیچ ریا تھا۔ ہم سے نہ پوچھیو کون کون دماغ اور دین والا ہم سے ملکر گیا ہے۔ کبھی کوشش نہ کری ان اعلی حضرات نے ورغلانے کی۔ میرے دادا سے "اسیرِ مالٹا" اور "حکیمِ ملت" جیسے بزرگوار پھل خریدا کیے ہیں۔ سب نے میرے خاندان کو دعا دی ہے۔ اور جا پوچھیو بازو کے کالج کے صاحب سے۔ بتاویں گے جمّن زندگی کیسے گزارریا ہے شان سے۔ انہی کے سمجھانے پر اتنا پڑھاریا تھا میں۔
بقراط صاحب نے کچھ کہنا چاہا لیکن جمّن پھر اسی شانِ بے نیازی سے کہنے لگا۔ یہ بڑا بیٹا پچھلے سال تبلیغی جماعت میں رہ کر پانچ وقت کا نمازی ہوریا۔ اور مولانا صاحب مودودی کی بیسیوں کتاب لا کر پڑھ ریاہے۔ دیکھ لیجیو اسکے چہرہ کا نور بتلاریاہے۔ سارا بچپن محرم میں اعلی حضرت بریلی خاندان والوں کے واعظ سنتاریا ہے یہ۔ ارے بیٹا تو ہی تو کہہ ریا تھا کہ مودودی مولانا کہے ہے۔ حلال کی تجارت کرنے والے کا مقام کسی مولانا سے کم نہیں۔ اور اسی لیے تو یہ پیشہ کرریا ہے۔ اب بتایو انکو۔ بقراط صاحب بہت خاکساری سے ڈرتے ہوئےگویا ہوئے۔ صرف چند سال اور پڑھا لیں اور تعلیم مکمل کر والیں اور۔۔۔ جمّن نے بات کاٹ دی اور کہنے لگا۔ پھر اسکے بعد کیا ہوےگا۔ کپڑے ہی پہنے گا اور صابن سے ہی نہائےگا نا۔ جیسے ساری دنیا کرری ہے۔ اماں سارے لوگ پھل ہی کھاوے ہے نا۔ کوئی لعل و گوہر تھوڑی کھاوے ہے۔
ہم نے سوچا پتہ نہیں دخل در معقولات صحیح ہوگی یا دخل در نامعقولات ۔ جمّن کے غصے کی صحیح وجہ کچھ اور ہے اور جاننا ضروری ہے۔ ہم نے ہمت جٹائی اور جمّن کے ہاتھ تھام کر کہا۔ اماں یار جمّن بقراط صاحب ورغلا نہیں رہے، تیرے بچوں کی دین دنیا کی بھلائی چاہتے ہیں اور ہم۔۔۔ جمّن نے پھر بات اچک لی لیکن اب کی بار بہ طرزِ دیگر اور پھوٹ پھوٹکررو پڑا، کہنے لگا۔ یہ علم والوں اور دین والوں کے چکر میں میرا چھوٹا بیٹا پڑھائی چھوڑ جیل میں بیٹھا دیا گِیا۔ بنا کوئی وجہ۔ میری بیوہ بھانجی بمبئی بم بِلاسٹ میں اپنا خاوند گنوا کر میرے گھر معذور آ کر پڑی ہے۔ اماں کیا بتائیں اب تو دونوں طرح کے لوگوں سے بہت ڈر لگ ریا ہے۔ وہ علم والا پروفیسر رضا مر ریا تھا میرے بچوں کو پڑھانے بیچارہ شریف۔ چراغ گل ہوگیا اسکا غریبی میں۔ کالج والوں نے خدا جھوٹ نہ بلوائے پیسہ نہیں دیا علاج کا۔ مروت شرافت میں پھل کھانا چھوڑ ریا تھا بیچارہ۔
میرے جوان لڑکے کو پھنساکر پولیس گھر آکر پگڑی اچھال ری ہے۔ پیسہ اینٹھ ری سو الگ۔ بھانجی کا دکھ دیکھا نہیں جاریا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آریا۔ کون جھوٹ بول ریا کون سچ۔ نہ "اسیرِ مالٹا" رہے نہ ہی"حکیمِ ملت" اور نہ ہی وہ دونوں بڑے مولانا حضرت۔ کس کے پاس جاویں اور سمجھیں کہ اماں ہو کیا ریا ہے۔ مارا مارا کبھی دیوبند جاریا ہوں تو کبھی ندوہ۔ اماں دو چکر تو بریلی شریف کے کاٹ چکا ہوں اور قسم لیجیو ایک بار نظام الدین مرکز سے بھی ہوکر آریا ہوں۔ سب کمیٹیوں اور رہنماوں کی تاریخ پہ تاریخ لے ریا ہوں۔ بس اب مت پوچھیو اچھے برے کی عزت کھوریاہوں۔ یہ کہہ کر جمّن برداشت نہ کرسکا اور بقراط کے گلے لگ کر رو پڑا پھر اپنی فطری بے نیازی کا خیال آتے ہی جھٹ الگ ہوکر کہنے لگا۔ اماں یار توتو دیکھتا ریا ہے میرے چھٹن کو۔ یار اول تھا ہر چیز میں اور کیسا بانکا سجیلا۔ میری بھانجی اور اسکے آدمی کو بھی تو مل چکا ہے۔ اب میری روداد سناییو سبکو۔ میرا چھٹن تو کبھی پٹاخہ بھی نہ پھوڑا اسنے۔ معذور بھانجی کو گلی والے گود میں بم بِلاسٹ کی جگہ سے اسپتال لےگئے تھے۔ اماں یار وہ اسپتال میں سفاکی کا نقشہ تو تو بھی دیکھ چکا ہے میرے ساتھ۔ ہم نے پوچھا حکومت نے کچھ امداد۔۔۔ کہا کیا بتائیں اپنا پرایا ہرکوئی رو ریاہے بے ایمان سیاستدانوں کا نام لیکر۔ اماں وہ اخبار والا روز چلا ریا ہے بد عنوانی کو، لو کر لو بات۔ کوئی عنوان باقی بچ کاں ریاہے زندگی کا۔ اماں حکومت تو خود کسی لوک پال نام کے آدمی کو ڈھونڈ رہی مدد کیلیے ۔ وہ سوامی کیلے لینے آتا ہے، بتا ریا تھا کہ دولت کو پوجنے والی میری قوم میں ایماندار بہت کم ہوری یے ہیں اب۔ اور تیری قوم کے وقف بورڈکا کھربوں پیسہ سب شہدے بانٹ کر کھاریے ہیں۔
بقراط صاحب نے کہا دیکھ جمّن تیری ہر بات صحیح لیکن تو کوشش کر کہ تیری اولاد تعلیم مکمل کرے۔ اور ہم سب مجبور ہیں کہ تیرے دیگر مسائل حل نہیں کرسکتے۔ کہنے لگا مجھے پتہ ہے ہر کوئی مجبور ہے اور سب بے بس پرندوں کی طرح ایکدوسرے کو دیکھتے رہیو۔ کمبخت کسی غنڈے سے نپٹنا ہوتا تو جمّن دکھا ریا ہوتا۔ مقامی شریروں سے نپٹ کر بیٹھا ہے جمّن اور اب ہرکوئی سلام کرریا ہے۔ آدھا خاندان میرا یہاں برباد ہوریا اور وہاں پاکستان میں آدھا خاندان۔ اور میرا سگا بھائی خون میں لت پت ہوریاہے وہاں۔ یہاں میں مشتبہ اور وہاں وہ۔ بڑا بیٹا کہہ ریاہے ہے بابا سب مکافاتِ عمل ہے دعا کریو۔ ساری جماعتیں دعاکر کرری ہے۔ اللہ کی رسی کو تھامنے کو بول ریا ہے ملاّ۔ سب جماعت دعا کرری تو بیٹا کون سی جماعت پھرتیری بہن کو معذور اور بیوہ کرری ہے۔ وہ رسی بارود میں پھر جلا کون ریاہے۔ ایک ہی گھر میں دو دو عیدکون منا ریا ہے۔ ارے بیٹا تیرا وہ ساتھی بغل کی خالی مسجد چھوڑ ایک میل دور مسجد کیوں جاریا ہے۔ اور وہ تیرا چاچا میرا ماں جایا پچھلی جنگ پر پاکستان سے بول ریا تھا تم سب مرگیے اب ہمارے لیے۔ جیسے میں ہی اس پر بم پھینک ریا تھا۔ ارے میں ادھر سب کے لیے دعائیں مانگ ریا ہوں۔ اپنے پرائے سب کے لیے۔ یہی تو وہ بڑے مولانا ، حکیمِ امت، بولے رہے کہ ساری دنیا کی بھلائی چاہتے رہیو۔ اور میں سنتا رہا انکی اور یہی تو چاریا تھا میں۔ اب وہ تو نہیں رہے۔ اتنا بڑا درد سہنے کہہ گئے۔ اب برداشت نہیں ہوریا۔
اماں میری بھانجی کے ذمہ دار نہ تم لوگ ہونہ پروفیسر والے اور نہ میرا وہ سگا بھائی اور ایمان سے نہ ہی میرے بیٹےکی کوئی جماعت والے۔ تو پھر یہ بم کون مارریاہے۔ ارے ساری دنیا کو ختم کرریا ہے کیا۔ پھر وہ مولانا لوگ کا پیغام کسے دیگا۔ ارے کوئی بچ ریا ہےتوپیغام دےگانا۔ اماں قسم لے لیو چالیس سال میں جتنے پھل نہ بیچے اس سے بڑھکر محبت اور ایمان بانٹ ریا تھا۔ اماں غیر بھی سلام بول ریا ہے دیکھ لیجیو کہ ایمان ہوریا ہے کہ نہیں۔ جمّن بھیگی آنکھ لیے تھک کر بیٹھ گیا۔ اور کہا اماں اب جاییو۔ تم سب بے بس لوگ میرے جیسے غریب کے لیے ایک جیسے لگ ریے ہو۔ تم لوگوں کو کبھی کچھ نہیں ہوریا۔ حلال رزق کھانے والا ہی تکلیف اٹھا ریا ہے اور اسکے لیے ملاّ جنت کا دلاسہ دےریاہے باقی تم سب اِدھر بھی جنت مناو اور پتہ نہیں وہاں بھی شاید مناوگے۔ لیکن میری بھانجی کی زندگی برباد کرنے والے کو کدھر جنت ملے گی دیکھوں گامیں۔
ہماری زبانوں پر تالے پڑ گئے۔ ہم دونوں جمّن سے معافی مانگ کر لوٹ آئے۔ بقراط صاحب فرمانے لگے۔
آہ! یہ ضبطِ فغاں غفلت کی خاموشی نہیں۔۔۔آگہی ہے یہ دلاسائی، فراموشی نہیں

No comments:

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP