You can see Lantrani in best appearance in Chrome and Mozilla(not in internet explorer)

Monday, May 09, 2011

بچّے کیا پڑھیں گے ؟؟؟

تعلیم کی نج کاری پر روک نہایت ضروری ریاست مہاراشٹر میں پوری ریاست کے لیے یکساں نصاب پر عمل آوری کے مقصد کے تحت شہر پو ٗنہ میں 1967 میں اس وقت کے وزیر تعلیم جناب مدھوکر راؤ چودھری نے حکومت مہاراشٹر کی منظوری حاصل کرکے ایک ادارہ بال بھارتی کے نام سے قائم کیا تھا۔ جس کا مقصد معیاری درسی کتب تیار کرنا اور ان کی تقسیم ہے۔ مذکورہ ادارہ 44 برسوں سے اپنا کام بخوبی انجام دے رہا ہے۔ادارہ کی جانب سے کتب کی تیاری اور بروقت تقسیم کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ادارہ بال بھارتی طلبہ کی ذہن سازی کا سامان اور اساتذہ کے لیے وسائل تدریس مہیا کرتا رہتا ہے اور نہ منافع نہ نقصان کے اصو ٗل پر کاربند ہے۔اس ادارہ نے کبھی بھی تجارتی (Commercial) منافع کے اصول پر مبنی طریقہ کو نہیں اپنایا۔ باوثوق ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق حال ہی میں حکومت ہند کی جانب سے ایک اطلاع نامہ (Notification) جاری ہوا ہے جس کی رو ٗ سے ادارہ بال بھارتی کی خدمات کو فراموش کرتے ہوئے SCERT Mکواکاڈیمک کاؤنسل بناکر درسی کتب کی تیاری کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ لیکن سونے پر سہاگہ یہ کہ اس کام میں MPSP کی بے جا مداخلت نے سارے نظام کر درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے۔MPSP میں متعین ایک آئی ایس افسر اپنی ڈکٹیٹر شپ میں مختلف سطح کی غیر سرکاری تنظیموں (NGO'S) کو درسی کتب کی تیاری کا کام سونپ رہا ہے بلکہ سونپ چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے مختص کروڑوں روپے ناتجربہ کار غیر سرکاری نجی اداروں میں تقسیم کیے جاچکے ہیں۔ تعلیمی میدان میں نج کاری کی جانب اٹھایا گیا یہ پہلا قدم ہے ۔لہٰذا اس پر قدغن لگانے کی ضرورت ہے۔ وزیر تعلیم اور وزیر اعلیٰ ریاست مہاراشٹر کو اس ضمن میں خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اگر بر وقت ایسے راشی اور بدعنوان افسر ان کی لگام نہیں کسی گئی تو ایک اور لوک پال بل کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ اس ضمن میں مزید وضاحت کرتے چلیں کہ پوری ریاست کے تعلیمی نظام کی دیکھ بھال کے لیے اس آئی ایس افسر نے ایک ایسی خاتون کا تقرر کیا ہے جو تعلیمی میدان کا کوئی تجربہ نہیں رکھتی۔ خاتون اپنی ایک ذاتی تنظیم (NGO) چلاتی ہیں اور اپنی اسی تنظیم کے ذریعے تیارکی گئی کتابیں اور دیگر مواد ریاست مہاراشٹر میں رائج کروانا چاہتی ہیں۔ مقام حیرت ہے کہMSCERT جیسے اہم ادارہ کا ڈائرکٹر بھی اسی خاتون کو جوابدہ ہے۔ دیگر غیر سرکاری تنظیموں(NGO'S) کا مقصد بھی اپنی تنظیم کی جانب سے تیار کردہ کتب اور وسائل تعلیم ریاست مہاراشٹر میں رائج کروانا ہی ہے۔ جب کہ ادارہ بال بھارتی کا 44 سالہ ریکارڈ بے داغ رہا ہے اور وہاں باقاعدہ ایک شعبہ اکاڈیمک ونگ کے نام سے قائم ہے ۔ حکومت اگر چاہتی ہے کہ ریاستِ مہاراشٹر کے طلبہ بھی RTE کے مطابق قومی دھارے میں شامل ہوسکیں تو حکومت کوچاہیے کہ ادارہ بال بھارتی کے اکاڈیمک افسران اورفعال شعبہ پر اعتماد کرے اور درسی کتب کی ذمہ داری تجربہ کار لوگوں کو ہی سونپے۔نج کاری کے نتیجے میں ریاست میں قائم یکسانیت کا خاتمہ ہوگا اور رشوت خوری کوبڑھاوا ملے گا۔جس سے بے اطمینانی کی فضا قائم ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔ تازہ صورت حال یہ ہے کہ آئی اے ایس افسر ادارہ بال بھارتی کے تجربہ کار اور ایماندار افسران کو فراموش کر کے اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے والے لوگوں کو کتب کی تیاری کے عمل میں شامل کیے ہوئے ہے اور انھیں اندھا بانٹے ریوڑیاں کے مصداق سرکاری رقم تقسیم کررہا ہے۔یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اس عمل میں مراٹھی، انگریزی ، ریاضی، سائنس، سوشل سا ئنس،عملی تجربہ،فنون لطیفہ اور صحت و جسمانی تعلیم جیسے مضامین کو ہی اہمیت دی جارہی ہے، جبکہ ادارہ بال بھارتی ابتداء ہی سے 8 زبانوں میں درسی کتب تیار کرتا چلا آرہا ہے۔ اس افسر اور اس کے ذریعے متعینہ خاتون کو دیگر زبانوں سے کوئی سروکار ہی نظر نہیں آتا۔MSCERT جیسے سرکاری ادارہ کا ڈائرکٹر اور اس ادارہ کا عملہ بھی خاموش تماشائی بنا بیٹھا ہے۔ اور کیوں نہ بیٹھے کہ MSCERT کے ڈائرکٹر کو اس افسر نے اپنی جانب ملا لیا ہے اور ڈائرکٹر کو ترقی دلانے کا وعدہ بھی کرچکا ہے۔ ڈائرکٹر کی ملازمت میں 18 ماہ کی توسیع بھی کی جاچکی ہے۔ مذکورہ بالا افسر نے حکومت ہند کو یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ پچھلے چار برسوں سے ریاست مہاراشٹر نے مرکزی حکومت کے حکم کے باوجود تعلیمی میدان میں کسی قسم کی پیش رفت نہیں کی ہے اور اس کا ذمہ دار ادارہ بال بھارتی ہے ۔اگر ایسا ہوا ہے تو اس کے لیے کون ذمہ دار ہے اس کی دیانتدارانہ طریقے پر جانچ ہونا چاہیے۔جب کہ صورت حال یہ ہے کہ ادارہ MSCERT نصاب مرتب کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ادارہ بال بھارتی کی روایت رہی ہے کہ MSCERT کے مرتب کردہ نصاب کی روشنی ہی میں وہ درسی کتب تیار کرتا ہے۔ اگر اسے نصاب ہی مہیا نہ کیا گیا تو وہ کس طرح مرکز کے حکم کی بجاآوری کرسکتا ہے۔لہٰذا حکومت ہند اور ریاستی حکومت کو چاہیے کہ چند مفاد پرست افسران اور تنظیموں(NGO'S) کے ہاتھوں میں تعلیمی نظام سونپنے کے بجائے غیر جانب دارانہ طریقے پر جانچ کروائے اور خاطی اور راشی افسران و ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دے اور حق بہ حقدار رسید کے مصداق ادارہ بال بھارتی کے وجود کے بارے میں واضح فیصلہ صادر کرے تاکہ وہاں کاپورا عملہ سکون و اطمینان کا سانس لے سکیں۔ واضح رہے کہ اب تک MSCERT کی ذمہ داری نصاب کی تیاری اور اساتذہ کی تربیت تک ہی محدود رہی ہے۔چنانچہ اگر MSCERT کے ذمہ داران اساتذہ کی صحیح تربیت ہی پر خصوصی توجہ دیں تو ریاست مہاراشٹر کا تعلیمی منظر نامہ یقیناًبلند نظر آئے گا اور طلبہ کی ترقی بھی دکھائی دے گی۔یہ بات ناقابل فہم ہے کہ حکومت کا ایک ذمہ دار ادارہ درسی کتب کی تیاری جیسا اہم فریضہ ایک افسر کی تانا شاہی کو مد نظر رکھ کر نجی اداروں میں تقسیم کرے۔لہٰذا اس افسر اور MSCERT کے عہدیداران پر لگام کسنے کی ضرورت ہے ورنہ نتائج بہت خراب ہوں گے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ MSCERT اور MPSP کے ذمہ داران مل کر حکومت ہند تک نامکمل اور غلط معلومات فراہم کرکے ادارہ بال بھارتی کی شبیہہ خراب کرنا چاہتے ہیں ۔ان کا منشاء اس ادارہ کے وجود ہی کو ختم کرنادکھائی دیتا ہے تاکہ وہ لوگ اپنی من مانی کرسکیں۔ ہم یہاں یہ بھی واضح کرتے چلیں کہ ہم کسی بھی طرح ادارہ بال بھارتی کے طرف دار نہیں ہے ،ہمارا مقصد صرف اورصرف صالح اقدار کی پاسداری ہی ہے۔ حکومت ہند کو چاہیے کہ وہ اپنے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے رائے شماری کروائے ۔عوام، اساتذہ اور طلبہ کی رائے طلب کرے۔ساتھ ہی ادارہ بال بھارتی کے ذمہ داران سے بھی بازپرس کی جائے۔کسی فرد واحدافسر کو کسی بھی طرح پوری ریاست کے تعلیمی فیصلہ کا مجاز قرار دینا دانش مندی نہیں ہے۔ درسی کتب کی تیاری بھی ایک فن ہے ،جس کے لیے مہارت ،قابلیت اور تجربہ درکار ہے۔نجی تنظیموں (NGO'S) میں ان تمام باتوں کا فقدان ہے۔جب کہ ادارہ بال بھارتی اپنی 44سالہ طویل خدمات اور تجربات کی روشنی میں درسی کتب کی تیاری کا کام احسن طریقے سے انجام دے سکتا ہے اور دے رہا ہے۔اس ادارے کو ہمیشہ سے مہاراشٹر کی متعددقابل قدر تعلیمی ، علمی ، ادبی ،صحافتی و سماجی شخصیات کا تعاون حاصل رہا ہے۔یہاں جناب شنکر پاٹل(مراٹھی زبان کے لیے)، جناب سوامی ناتھ سنگھ (ہندی زبان کے لیے)اور جناب بشیراحمد انصاری(زبان اردوکے لیے) جیسی مشہور و معروف تعلیمی شخصیات نے خدمات انجام دی ہیں۔ ممکن ہے درسی کتب میں چند غلطیاں اور خامیاں راہ پا جاتی ہوں لیکن ان کا ازالہ کرنے کے بجائے اس ادارہ سے کام ہی چھین لینا کسی بھی طرح مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اگر کسی کو کوئی مرض لاحق ہو تو اس کی تشخیص کر کے اس کا علاج کیا جاتا ہے نہ کہ مریض کی جان لے لی جاتی ہے اور نہ ہی اس سے زیادہ خطرناک مرض میں مبتلا شخص کو کام سونپا جاتا ہے۔ اساتذہ، طلبہ اور والدین سے مخلصانہ التماس ہے کہ حکمت ہند اور ریاستی حکومت کے پاس اس غیر دانش مندانہ فیصلہ کے خلاف اپنا احتجاج درج کرائیں۔ فلاحی و اصلاحی کام انجام دینے والی تنظیموں سے بھی گزارش ہے کہ اس جانب خصوصی توجہ دیں اور اپنی آراء حکومت تک پہنچائیں۔اگر ہم اب بھی نہ جاگیں تو آنے والی نسلیں ہماری مجرمانہ غفلت کے لیے ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کریں گی۔

2 comments:

شمس शम्स Shams said...

Respected readers may see some boxes or dash in the post it is because of conversion from a certain software to publishing form.If writers will start using direct Urdu language from their computer without this software,this problem will solve itself.

मुनव्वर सुल्ताना Munawwar Sultana منور سلطانہ said...

Thanks bro

Related Posts with Thumbnails
لنترانی ڈاٹ کام اردو میں تعلیمی ،علمی و ادبی ، سماجی اور ثقافتی ویب سائٹ ہے ۔اس میں کسی بھی تنازعہ کی صورت میں قانونی چارہ جوئی پنویل میں ہوگی۔ای ۔میل کے ذریعے ملنے والی پوسٹ ( مواد /تخلیقات ) کے لۓ موڈریٹر یا ایڈیٹر کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اگر کسی بھی پوسٹ سے کسی کی دل آزاری ہو یا کوئی فحش بات ہوتو موڈریٹر یا ایڈیٹر کو فون سے یا میل کے ذریعے آگاہ کریں ۔24 گھنٹے کے اندر وہ پوسٹ ہٹادی جاۓ گی ۔فون نمبر 9222176287اور ای میل آئ ڈی ہے E-Mail - munawwar.sultana@gmail.com

  © आयुषवेद भड़ास by Lantrani.com 2009

Back to TOP